جی این این سوشل

پاکستان

دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال

تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ 1486.14 فٹ

پر شائع ہوا

کی طرف سے

دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد: واپڈا کی جانب سے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمدواخراج کے پیر کو جاری کر دہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 20 ہزار400 کیوسک اور اخراج 45 ہزارکیوسک، دریائےکابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد7 ہزار 300 کیوسک اور اخراج7 ہزار300 کیوسک، خیرآباد پل پر پانی کی آمد 12 ہزار کیوسک اور اخراج 12 ہزار کیوسک،دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد 4 ہزار 800 کیوسک اور اخراج26 ہزارکیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 7 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ڈیمز میں تربیلاڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ، ڈیم میں پانی کی موجودہ 1486.14 فٹ ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.526 ملین ایکڑ فٹ ہے اور منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1166.80 فٹ ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.513 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ ہوا ہے۔

پاکستان

تمام مذہبی عقائد کے یکساں احترام کرنے کی ضرورت ہے،طاہر اشرفی

طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کے آئین و قانون میں درج ہے کہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے مساوی حقوق ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

تمام مذہبی عقائد کے یکساں احترام کرنے کی ضرورت ہے،طاہر اشرفی

مذہبی امور کے بارے میں وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے اہم پیشرفت کے طور پر تمام مذہبی عقائد کے یکساں احترام کرنے کی ضرورت ہے ۔ 

ایک بیان میں انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے آئین و قانون میں درج ہے کہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے مساوی حقوق ہیں۔

طاہر اشرفی نے جو پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور ملک کے اندر ہم آہنگی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے یا انتشار کو ہوا دینے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کو خسرہ کا شدیدیاانتہائی شدید خطرہ ہے،عالمی ادارہ صحت

خسرہ کے بارے میں ہم انتہائی فکر مند ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کو خسرہ کا شدیدیاانتہائی شدید خطرہ ہے،عالمی ادارہ صحت

جنیوا: عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے دنیا بھر میں خسرہ کے پھیلاؤ بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں اس بیماری کے 30 لاکھ 6,000 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے جو 2022 کے مقابلے میں 79 فیصد زیادہ تھے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت میں خسرہ اور روبیلا کے بارے میں ٹیکنیکل ایڈوائزر نتاشا کروکرافٹ نے کہا ہے کہ خسرہ کے بارے میں ہم انتہائی فکر مند ہیں۔ قاہرہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ 2022 میں خسرہ کے کیسز میں اتنے زیادہ اضافے کو سامنے رکھتےہوئے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ سال بہت زیادہ مشکل ہونے والا ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ اس وقت دنیا بھر کے نصف سے زیادہ ملکوں کے بارے میں خیال ہے کہ اس سال کے آخر تک ان میں خسرہ کی وبا کے پھوٹنے کا بہت زیادہ خطرہ ہوگا اور ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ 14 کروڑ بیس لاکھ بچوں کو بیماری کا خطرہ لاحق ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی علاقے میں اس وبا کو روکنے کے لیے کم از کم 95 فیصد بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے لیے مکمل حفاظتی ٹیکے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن عالمی سطح پر ویکسینیشن کی شرح 83 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ،بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو زرداری  نے کہا کہ ہم ان کارکنوں کے اہل خانہ کو انصاف دلانے میں مدد کریں گے جو اس الیکشن کے دوران تشدد کا نشانہ بنے تھے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو تشدد  کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ،بلاول بھٹو زرداری

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  نے کہا  کہ ان کی پارٹی کے کارکنوں پر تشدد میں ملوث تمام افراد پر ظلم کیا جا رہا ہے ۔ 

انہوں نے عام انتخابات کے دوران ان کی پارٹی کے کارکنوں کی جان لینے والے فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے انتخابات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔


بلاول بھٹو زرداری  نے کہا کہ ہم ان کارکنوں کے اہل خانہ کو انصاف دلانے میں مدد کریں گے جو اس الیکشن کے دوران تشدد کا نشانہ بنے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس صوبے پر حکومت کرے گی اور وہ کراچی میں امن و امان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔

بلاول بھٹو  نے کہا کہ وہ تمام جماعتیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ تشدد کی بنیاد پر سیاست کر سکتی ہیں غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی پارٹی کا جھنڈا ہٹانا پیپلز پارٹی کا طریقہ نہیں ہے۔


مبینہ دھاندلی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات اور اس سال کے انتخابات میں زیادہ فرق نہیں ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اگر کوئی دھاندلی ہوئی ہے تو ثبوت لے کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعتیں دھاندلی کے بغیر الیکشن نہیں جیت سکتیں وہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ عمران خان نے خود فیصلہ کیا ہے کہ وہ شہباز شریف سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے۔ اکثریت کے باوجود عمران خان نے کسی دوسری پارٹی سے بات کرنے کا انتخاب نہیں کیا۔

انہوں نے آئی ایم ایف کے خط کے بیان پر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیاست اپنے مفاد کے لیے چاہتے ہیں ملک کی خاطر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ [پی ٹی آئی] ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس خط کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور اس سے پی ٹی آئی نے عوام کے سامنے خود کو مزید بے نقاب کردیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll