شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس، سپریم کورٹ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو نوٹس جاری کر دیا
سپریم کورٹ نے بریگیڈئیر (ر) عرفان رامے، سابق رجسٹرار ارباب عارف اور سابق چیف جسٹس انور کاسی کو بھی نوٹس جاری کردیے

شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس، سپریم کورٹ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سمیت بریگیڈئیر (ر) ارباب عارف، عرفان رامے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس(ر) انورکاسی کو بھی نوٹس جاری کردیا۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔
سابق جج شوکت عزیز صدیقی کو خفیہ اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کیا درست ہیں ؟ شوکت عزیز صدیقی کو ان الزامات پر مبنی کی گئی تقریر پر برطرف کیا گیا؟ کیا وہ جنرل جن کو آپ فریق بنانا چاہتے ہیں کیا وہ خود 2018 کے انتخابات میں اقتدار میں آنا چاہتے تھے؟ کیا وہ جنرل کسی اور کے سہولت کار بننا چاہ رہے تھے ۔
وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ لگائے گئے الزامات درست ہیں۔ چیف جسٹس نے حامد خان سے مکالمے میں کہا کہ آپ اپنی درخواست پڑھیں، جن لوگوں کو آپ پارٹی بنانا چاہتے ہیں ،اگر آپ کے الزامات صحیح ہیں تو ان لوگوں کو کیا ملے گا، آپ کا الزام یہ ہے کہ وہ سہولت کار بن رہے تھے کسی اور کے لیے، جس کیلئے وہ سہولت کار بن رہے تھے وہ کون تھا؟ ایک شخص کو نقصان پہنچایا گیا اور دوسرے کو فائدہ ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ فرد واحد کا کیس لے آئیں اور کہیں باقی کسی کا نہ دیکھیں،اگر آپ نے یہ کیا تو آئین ،عدلیہ اور جمہوریت پر بہت بڑا حملہ ہوگا، اس کا ہم پھر نوٹس لیں گے،حتمی جگہ پر پہنچائیں گے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میرا سوال ہے فوج آزاد ادارہ ہے یا حکومت کے ماتحت ہے؟ جس پر حامد خان نے جواب دیا کہ آئین کے تحت فوج کا ادارہ حکومت کے ماتحت ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ حکومت کا سربراہ کون ہوتا ہے؟ جس پر وکیل حامد خان نے جواب میں حکومت کا سربراہ صدر ہوتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صدر کے اختیارات بہت کم ہیں ،وہ خود وزیراعظم کی ایڈوائس پر چلتے ہیں، اسی طرح وفاقی حکومت ایک شخص نہیں ہوتی ،کابینہ بھی ایک شخص نہیں ہے، یا تو آپ یہ کہہ دیں کہ آپ کو ایک شخص سے ہمدردی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پرانے پرانے کیسز لگا رہے ہیں، ایک ریفرنس لگتا ہے ،دوسرا دوسرے دن لگ جاتا ہے، جو ریفرنس 10سال سے نہیں لگا تھا وہ بھی ہم نے لگایا، یہ باتیں نہیں ہوں گی کہ آپ وہی کام کررہے ہیں جو دوسرے کرچکے ہیں ،سسٹم کو استعمال کررہے ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ہم نے آئینی اداروں کو حکم دیا کہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری پوری کریں، ملک میں کب اتنی جلدی کیس کا فیصلہ ہوا ہے؟ الیکشن کی تاریخ سے متعلق سیاسی جماعت آئی تو 12 روز میں ہم نے فیصلہ کیا۔ شوکت عزیز صدیقی نے زیادہ نام فیض حمید کا لیا ہے، قمر باجوہ سے متعلق گفتگو تو سنی سنائی ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ سابق آرمی چیف قمر باجوہ نے شوکت عزیز صدیقی سے براہ راست کوئی بات نہیں کی تھی۔
عدالت میں وکیل حامد خان نے کہا کہ جو فیض حمید چاہتے تھے وہ ہوا، نواز شریف کی اپیل پر کیا فیصلہ ہوا، فیض حمید چاہتے تھے الیکشن 2018 سے پہلے نواز شریف کی ضمانت نہ ہو، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اب آپ خود معاملہ الیکشن 2018 تک لے آئے ہیں ۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ نواز شریف کی اپیل پر کیا فیصلہ ہوا؟
وکیل حامد خان نے کہا کہ اپیلوں پر ابھی فیصلہ ہوا اور نواز شریف بری ہوگئے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ پر تو براہ راست الزام نہیں، جنرل باجوہ کا آپ نے فریقین میں پہلا نام لکھا، جنرل باجوہ سے تو الزامات کی کوئی کڑی جڑہی نہیں رہی ، یہ تو سنی سنائی ہے کہ جنرل باجوہ کے ماتحت تھے تو انہی کی ہدایت پر کیا ہو گا ، لوگ تو آج کل الزامات بھی لگا دیتے ہیں کسی کا نام لیکر اس نے بھیجا ہے۔جنرل (ر) فیض حمید کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن ڈائریکٹ الزام ہے، میرے خیال سے عرفان رامے بھی اس کیس سے غیر متعلقہ ہیں۔
عدالت نے سماعت کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو نوٹس جاری کردیا جبکہ عدالت نے بریگیڈئیر (ر) عرفان رامے، سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار ارباب عارف اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس انور کاسی کو بھی نوٹس جاری کردیے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کو متعلقہ افسران کو بھی مقدمے میں فریق بنانے کی اجازت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کی تھی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کو چیلنج کر رکھا ہے۔

برطانیہ کسی بھی صورت ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،کئیر اسٹارمر
- 19 گھنٹے قبل

لاہورکے نیشنل ہسپتال میں ریزوم تھراپی کا کامیاب آپریشن
- 20 گھنٹے قبل

معاشی بچت، جنگ بندی کی کوششیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- 18 گھنٹے قبل

آپریشن غضب للحق کے ثمرات، ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں 59 فیصد کمی
- 14 گھنٹے قبل

ایران جنگ:اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رحجان ، 100 انڈیکس 3500 پوائنٹس گرگیا
- 16 گھنٹے قبل

امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے،جارحیت کا مقابلہ کرنے ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں،ایران
- 20 گھنٹے قبل

ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، ایرانی قوم اور افواج ملک پر حملہ کرنے والوں کے پاؤں کاٹ دیں گے،ترجمان
- 19 گھنٹے قبل

مہنگا سونا اچانک ہزاروں روپے سستا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 20 گھنٹے قبل

پی ایس ایل: اسلام آباد یونائیٹڈ نےکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی
- 16 گھنٹے قبل

اگردشمن کوئی زمینی آپریشن کی کوشش کرے تو دشمن کے کسی بھی فوجی کو زندہ نہیں بچنا چاہیے،ایرانی آرمی چیف
- 18 گھنٹے قبل

خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات کے طلباء کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام جاری
- 19 گھنٹے قبل

اسحا ق ڈار کا مصری و ازبک وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، دو طرفہ اور علاقائی صورتحال پر گفتگو
- 14 گھنٹے قبل











