Advertisement
پاکستان

میرا بیٹا ایس ایس جی کمانڈو بننا چاہتا تھا، سانحہ اے پی ایس کو 9سال مکمل

شاید اس نے یہی لڑائی جیتی ہے اور خود کو شہید کے رتبے پر فائز کیا ہے ، سانحہ کو نو سال مکمل ہونے کے باوجود شہداء کے حوصلے پست نہیں ہوئے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Dec 17th 2023, 12:46 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
میرا بیٹا ایس ایس جی  کمانڈو بننا چاہتا تھا، سانحہ اے پی ایس کو 9سال مکمل

آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے سانحے کو آج نو سال مکمل ہو گئے۔آرمی پبلک سکول میں شہید طلباء اور اساتذہ کیلئے خصوصی دعائوں اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

2014  میں آ ج کے روز آرمی پبلک سکول پشاور پر چھ دہشت گردوں کے حملے میں طلباء اور اساتذہ سمیت ایک سو سینتالیس معصوم افراد شہید ہو گئے تھے۔اس سلسلے میں مر کزی تقریب آرمی پبلک سکول پشاور میں ہو گی۔

والدہ محمد علی شہید نے کہا کہ محمد علی شہید نہایت ہی زندہ دل اور شریف النفس انسان تھا ، کبھی کسی سے تلخ کلامی نہیں کی ، سکول میں بھی گولڈن بوائے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ میرا بیٹا ایس ایس جی میں کمانڈو بننا چاہتا تھا ۔ شاید اس نے یہی لڑائی جیتی ہے اور خود کو شہید کے رتبے پر فائز کیا ہے ۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بچپن سے ہی ان کو بہت پیارا تھا گھر میں سب سے لاڈلا تھا انہوں نے کہا کہ  علی میرے بہت قریب تھا۔ آج بھی مجھ کوئی پوچھتا ہے تو میرا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں کیونکہ شہید تو زندہ ہوتا ہے۔ علی مجھے کہتا تھا کہ ماما میں آپکو وہ خوشی دونگا کہ آپ یاد رکھیں گی۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ شہادت کی بات کر رہا تھا۔ 

Advertisement