Advertisement
ٹیکنالوجی

ناسا کا خلا میں کروڑوں کلومیٹر کے فاصلے سےویڈیو زمین پر بھیجنے کا تجربہ

ویڈیو کو 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے زمین پر پہنچنے میں 101 سیکنڈ لگے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Dec 19th 2023, 7:37 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ناسا کا  خلا میں  کروڑوں  کلومیٹر کے فاصلے سےویڈیو زمین پر بھیجنے کا تجربہ

خلائی تحقیقیادارے ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے ایک وڈیو زمین پر بھیجنے کا تجربہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ویڈیو کلپ میں ٹیبی نسل کی بلی کو ایک صوفے پر لیزر لائٹ کا پیچھا کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس ہائی ڈیفی نیشن وڈیو کو 267 میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے زمین پر پہنچنے میں 101 سیکنڈ لگے، وڈیو زمین سے 31 ملین کلومیٹر دور موجود ایک خلائی جہاز سے جدید ترین لیزر مواصلاتی نظام کا استعمال کرتےہوئے بھیجی گئی ۔

وڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریخ پر انسانوں کو بھیجنے جیسے پیچیدہ مشنز کے لیے درکار انتہائی تیز رفتار کمیونی کیشن ممکن ہے۔ وڈیو کو ناسا کے خلائی جہاز سائیکی پروب پر لیزر ٹرانسیور کا استعمال کرتے ہوئے زمین پر دکھایا گیا تھا۔ یہ خلائی جہاز مریخ اور مشتری کے درمیان ایک پراسرار دھاتی چیز کو تلاش کرنے کے سفر پر گامزن ہے۔

اس ویڈیو میں ٹیسٹ گرافکس اوورلے بھی دیکھے جا سکتے ہیں جن میں خلائی جہاز سائکی کے مدار میں راستے، لیزر اور اس کے ڈیٹا کے بارے میں تکنیکی معلومات شامل ہیں۔جب یہ ویڈیو بھیجی گئی تو خلائی جہاز زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے 80 گنا زیادہ دوری پر تھا۔ روایتی طور پر خلائی مشن ڈیٹا بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے ریڈیائی لہروں پر انحصار کرتے ہیں لیکن لیزر کے ساتھ کام کرنے سے بھیجے جانے والے ڈیٹا کی شرح میں 10 سے 100 گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

جے پی ایل میں ٹیک ڈیمو کے پراجیکٹ مینیجر بل کلپ سٹین نے کہا کہ اس تجربے کا ایک ہدف لاکھوں میل کے فاصلے پر براڈ بینڈ وڈیو کو منتقل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔اس ہائی ڈیفی نیشن وڈیو کو 267 میگا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین پر بھیجنے میں 101 سیکنڈ لگے، جو گھریلو براڈ بینڈ کنکشنز کے مقابلے میں بہت تیز ہے۔

Advertisement
Advertisement