اسلام آباد : حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس آج ہوگا، اجلاس میں پیپلز پارٹی کی تحریک عدم اعتماد، نون لیگ کے لانگ مارچ ، دھرنوں اور استعفوں کی تجویز سمیت دیگر اُمور پر تبادلہ خیال ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم کا اہم اجلاس آج دوپہر دو بجے مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹریٹ منعقد ہوگا، اجلاس کی صدارت مولانا فضل الرحمان کریں گے۔ زرائع کے مطابق اجلاس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، پیپلز پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو، احسن اقبال، شاھد خاقان عباسی ، راجا پرویز اشرف، شیریں رحمان، آفتاب شیرپاؤ بھی شریک ہوں گے۔ محمود اچکزئی، اختر مینگل سمیت پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کے سربراہان بھی اجلاس میں شرکت کریں گے ۔
پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں سینٹ انتخابات کے حوالے سے لائحہ عمل پر بات کی جائے گی جبکہ پی ڈی ایم کی آئندہ کی احتجاجی حکمت عملی بھی طے کی جائے گی۔اجلاس میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تاریخ کا تعین بھی کیا جائے گا، اپوزیشن اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے استعفوں کے معاملہ پر مزید غور ہوگا۔ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی پیپلز پارٹی کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
پی ڈی ایم اجلاس میں 9 فروری کو حیدر آباد سمیت دیگر احتجاجی جلسوں و ریلیوں کو بھی حتمی شکل دی جائے گی، پی ڈی ایم سربراہان ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف عوامی آواز بلند کرنے کی حکمت عملی کو بھی حتمی شکل دیں گے۔اسپیکر قومی اسمبلی کے ایوان میں رویہ پر بھی غور کیا جائے گا۔
اجلاس سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن اور نواز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف نے مولانا فضل الرحمٰن کو لانگ مارچ ، استعفوں اور دھرنے کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کا پہلا مرحلہ 13 دسمبر کو لاہور میں جلسہ عام کی شکل میں اچانک اختتام کو پہنچا تھا کیونکہ قیادت اپنی مہم کو تیز کرنے کے لیے آئندہ کے کسی بھی منصوبے کا اعلان کرنے میں ناکام رہی تھی، اگرچہ پی ڈی ایم رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اضلاع کی سطح پر مظاہروں اور پہیہ جام ہڑتالوں اور لاہور کے جلسہ عام کے دوران لانگ مارچ کے بارے میں کوئی اعلان کریں گے لیکن اس طرح کے کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ بعدازاں پی ڈی ایم رہنماؤں نے فروری میں وزیر اعظم عمران خان سے استعفی دینے یا فیصلہ کن لانگ مارچ کا سامنا کرنے کے لیے 31 جنوری کی آخری تاریخ طے کی تھی۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے 9فروری کو حیدرآباد ، 13فروری کو سیالکوٹ ، 16کو پشین بلوچستان، 23فروری کو سرگودھا اور 27فروری کو حضدار میں اجتماع اور ریلی منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔
واضح رہے کہ20ستمبر 2020 کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو ’ایکشن پلان‘ کے تحت تین مراحل پرحکومت مخالف تحریک چلا کر حکومت ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔

پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کا پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ ایران-امریکہ مذاکرات کا خیرمقدم
- 18 گھنٹے قبل

بیروت: سیز فائر کے باوجود بھی اسرائیلی حملے، 254 افراد شہید، عالمی رہنماؤں کی جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل
- 16 گھنٹے قبل

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 17 گھنٹے قبل

وزیر اعظم سے فیلڈ مارشل کی ملاقات،ایران و امریکا ثالثی کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 13 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
وزیر اعظم سےایمانوئل میکرون کا رابطہ،مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اورثالثی پر پاکستان کی تعریف
- 15 گھنٹے قبل

شہبازشریف کا لبنانی وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ ،اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور لبنان سے اظہارِ یکجہتی
- 11 گھنٹے قبل

وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، سیاسی و عسکری قیادت کا مذاکرات کامیاب بنانے کا عزم
- 16 گھنٹے قبل

شہر قائد میں منکی پاکس وائرس کا ایک اور کیس سامنے آ گیا
- 15 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہارِ تشویش
- 18 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین کے بزنس ٹو بزنس تعلقات میں وسعت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم
- 18 گھنٹے قبل

جنگ بندی مذاکرات:امریکی نائب صدر، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور وزیر خارجہ آج پاکستان پہنچیں گے
- 18 گھنٹے قبل

سیز فائر کی خلاف ورزی : پاکستان کا عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ
- 17 گھنٹے قبل








