Advertisement

سعودی عرب کا غیر ملکی شہریوں کے لیے نئی پالیسی کا اعلان

نئی پالیسی کے تحت پریمیم ریزیڈینسی کے لیے اہلیت اور درخواست دینے کا طریقہ آسان کر دیا گیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 11th 2024, 6:12 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سعودی عرب  کا غیر ملکی شہریوں  کے لیے نئی پالیسی کا اعلان

سعودی عرب نے غیر ملکی شہریوں کو اپنے ہاں رہنے اور کاروبار کے مواقع دینے کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں  پانچ درجوں کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے۔ نیز نئی پالیسی کے تحت پریمیم ریزیڈینسی کے لیے اہلیت اور درخواست دینے کا طریقہ آسان کر دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پریمیم ریزیڈینسی کے تحت سعودی حکومت دوسرے ممالک کے شہریوں کو اپنے ہاں رہائش اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ کفیل کے بغیر کام کرنے ، کاروبار کرنے اور جائیداد خریدنے کا حق دیتی ہے، یہ سہولت ماضی میں میسر نہیں تھی۔

تازہ ترین اعلان کے مطابق اس سلسلے کے پانچ درجوں کے بارے میں بھی رہنمائی کی ہے۔ نیز کلچر، سپورٹس، بڑے کاروباری حضرات اور بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکونز کو بھی پریمیم ریزیڈینسی کی پیش کش کی جا سکتی ہے۔جن افراد نے سعودی پریمیم ریزیڈینسی لی ہو گی وہ اس میں ایک سال کی توسیع بھی لے سکیں گے حتیٰ کہ ان کی اس ریزیڈینسی کو لامحدود مدت تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں بھی چار درجات ہیں۔ تاہم اس کا انحصاردرخواست دینے والے کی اس کیٹیگری پر ہوگا جو وہ منتخب کرے گا۔

سعودی پریمیم ریزیڈینسی کی لاگت کو بھی کئی درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے لامحدود مدت کا منصوبہ ہے۔ اس کے حصول کے لیے 2 لاکھ 13 ہزار 320  ڈالر کی رقم ہے 8 لاکھ سعودی ریال کے برابر ہوگی۔ اس کے مقابلے میں ایک سال کے لیے پریمیم ریزیڈینسی پلان کی لاگت 26 ہزار 665 ڈالر یعنی ایک لاکھ  سعودی ریال کے برابر ہو گی۔ تاہم اس لاگت میں بوجوہ اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اسی طرح انفرادی طور پر پریمیم ریزیڈینسی کے لیے درخواست دینے والوں کو بھی پانچ درجوں کے تحت یہ سہولت دی جا سکتی ہے۔ جس کی لاگت 1066 ڈالر یعنی 4 ہزار سعودی ریال ہوگی۔ سعودی گرین کارڈ کو 2019 میں متعارف کرایا گیا تاکہ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کر سکیں اور معیشت کو مزید آگے بڑھا سکیں۔

جن کے پاس 'سعودی پریمیم ریزیڈنسی' ہوگی ان کے خاندان کے افراد کو بھی بغیر کسی نئی فیس کے رہنے کی اجازت ہوگی۔ ان افراد خانہ کو حق ہوگا کہ وہ رہائش اختیار کریں، کام کریں، سرمایہ کاری کریں اور اپنا روزگار جب بھی تبدیل کرنا چاہیں آزادی سے کر سکیں۔

پریمیم ریزیڈنسی سکیم کے تحت افراد ذاتی پراپرٹی کے مالک بن سکیں گے۔ یہ پراپرٹی رہائشی، کاروباری اور صنعتی پراپرٹی بھی ہو سکتی ہے۔ سوائے مکہ، مدینہ اور سرحدی علاقوں کے ہر شہر میں یہ حق حاصل ہوگا۔

علاوہ ازیں، پریمیم ریزیڈنسی کے تحت افراد کو لائسنس کے ساتھ گاڑی رکھنے کا حق ہوگا۔ انہیں سعودی عرب میں آزادانہ داخل ہونے اور سعودی عرب سے باہر جانے کی اجازت ہوگی۔

Advertisement