Advertisement
پاکستان

سائفر کیس ہمارے نزدیک پاکستان کی تاریخ کا یہ بدترین ٹرائل ہے،حامد خان

سماعت کے دوران ہمارے وکیلوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے ایک چھوٹے کمرے میں لے جاکر ان پر بندوقیں تانیں گئیں، رہنما پی ٹی آئی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 30th 2024, 8:25 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سائفر کیس ہمارے نزدیک پاکستان کی تاریخ کا یہ بدترین ٹرائل ہے،حامد خان

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کا کہا ہے کہ سائفر کیس ہمارے نزدیک پاکستان کی تاریخ کا یہ بدترین ٹرائل ہے جہاں وکیلوں کو کبھی عدالتوں سے نہیں نکالا گیا، سائفر میں ڈیفنس لائرز کو عدالتوں سے نکالا گیا۔ سماعت کے دوران ہمارے وکیلوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے ایک چھوٹے کمرے میں لے جاکر ان پر بندوقیں تانیں گئیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ ’آج تک وکیلوں کو کبھی عدالت سے نہیں نکالا گیا، پہلی دفعہ ڈیفینس لائرز کو عدالتوں سے نکالا گیا جہاں انہوں نے جرح کرنی تھی، اور جرح اپنے من پسند وکیل سے کرائی گئی، جو کہ جرح نہیں کہلا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ’پہلی دفعہ وکیلوں پر بندوقیں تانی گئیں، جو واقعات سامنے آئے ہیں کہ انہیں ایک چھوٹے کمرے میں لے جا کر ان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان پر بندوقیں تانی گئی ہیں، جو کہ بدترین مثال ہے ملک میں انصاف کے نظام کو کنورٹ کرنے کی، لہٰذا اس کو ہم ٹرائل نہیں مانتے۔ یہ سب کچھ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

حامد خان نے مزید کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق آپ کسی بھی ملزم کو اس کے من پسند وکیل سے الگ نہیں کر سکتے۔ لہذا کسی بھی ایسے شخص کو ریاستی خرچے پر ملزم کی مرضی کے بغیر اس کا وکیل مقرر کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

Advertisement