جی این این سوشل

پاکستان

20 حلقوں کے انتخابی نتائج ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی 12 فروری کو 20 حلقوں میں انتخابی نتائج کے خلاف درخواستوں کی سماعت کریں گے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

20 حلقوں کے انتخابی نتائج  ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف، مریم نواز، عبدالعلیم خان، خواجہ آصف اور عطا تارڑ سمیت 20 حلقوں میں انتخابی نتائج کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہفتے کے روز مقرر کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی 12 فروری کو 20 حلقوں میں انتخابی نتائج کے خلاف درخواستوں کی سماعت کریں گے۔


رجسٹرار آفس نے تمام درخواستوں کے حوالے سے کاز لسٹ جاری کر دی۔


ڈاکٹر یاسمین راشد جو کہ فی الوقت جیل میں  ہیں اور اپنی انتخابی مہم نہیں کر سکیں، انہوں نے  این اے 130 میں انتخابی نتائج کے خلاف درخواست دائر کر دی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کو نتائج روکنے اور دوبارہ گنتی کا حکم دے۔

کئی دوسرےامیدواروں نے بھی انتخابات کے نتائج کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔

لاہور کے این اے 119 میں مریم نواز کی کامیابی پر آزاد امیدوار شہزاد فاروق نے بھی اعتراض کیا جب کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ظہیر عباس کھوکھر نے این اے 127 میں مسلم لیگ ن کے عطاء تارڑ کی جیت کو چیلنج کیا۔


سیالکوٹ کے این اے 71 میں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ امیدوار ریحانہ نے بھی مسلم لیگ ن کے تجربہ کار خواجہ آصف کی کامیابی کو متنازعہ بناتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح لاہور کے این اے 117 میں آئی پی پی کے صدر علیم خان کی جیت کو حریف امیدوار کی جانب سے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور کے این اے 117 سے بھی  جہاں آئی پی پی کے صدر علیم خان کی جیت ایک حریف امیدوار کی طرف سے جانچ پڑتال کے تحت ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کو این اے 126 کے نتائج کو چیلنج کرنے والی درخواست بھی موصول ہوئی جس میں ملک توقیر کھوکھر نے ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر سیف الملوک کھوکھر کی جیت کا مقابلہ کیا۔

 لاہور کے حلقہ پی پی 169 سے مسلم لیگ ن کے ایک اور امیدوار ملک خالد کھوکھر کی جیت عدالت میں مخالف امیدوار کے مدمقابل ہے۔

ملتان کے حلقہ این اے 148 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی شکست کے بعد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دی ہے۔

پاکستان

ہمارا نظام انصاف انتہائی فرسودہ ہے، وفاقی وزیر قانون

جب سے ہماری حکومت آئی ہے ہم ان مسائل کے حل کی کوشش میں لگے ہیں، اعظم نذیر تارڑ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہمارا نظام انصاف انتہائی فرسودہ ہے، وفاقی وزیر قانون

فاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ہمارا نظام انصاف انتہائی فرسودہ ہے خصوصا فوج داری مقدمات کو تو کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے۔ جب سے ہماری حکومت آئی ہے ہم ان مسائل کے حل کی کوشش میں لگے ہیں۔فرسودہ نظام انصاف کو تبدیل کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے راولپنڈی میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے کردار ادا کریں گے، فرسودہ نظام انصاف میں تبدیلی کے لیے بار کونسل سے بھی تجاویز لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جنگی بنیادوں پر فوجداری قوانین پر کام کیا، فرسودہ نظام انصاف میں بہت سی اصلاحات ہونا ہیں اور سب کی ذمہ داری ہے کہ فرسودہ نظام انصاف کو تبدیل کریں۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اٹک کچہری میں وکلا کا قتل ہمارے لیے ٹیسٹ کیس اور حکومت کیلئے چیلنج ہے،انصاف ہوگا بھی اور ہوتا ہوا نظر آئے گا، ہم کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گے چاہے وہ ملزم ہے،وکلا کے قتل میں ملوث ملزم گرفتار ہوچکا ہے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ سے گزارش کروں گا انصاف تول کر کریں، عدلیہ وکلا کو گلے سے لگا کر رکھے، وکلا دہشتگرد نہیں ہیں،فساد پیدا کرنے والے نہیں ہیں، وکلا پر دہشتگردی کے پرچے درج کرانا عدلیہ کے شایان شان نہیں، جب تک میں ہوں،وکلا پر اب دہشتگردی کا مقدمہ نہیں ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

بلوچستان ہائیکورٹ نے گندم خریداری کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس سردار شوکت رخشانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا جبکہ فیصلے میں 5 ارب کی لاگت سے گندم خریداری کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کو متعدد وجوہات کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا،ا یک وجہ یہ بھی تھی کہ محکمہ خوراک کے پاس مزید 500 بوری گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں، محکمہ خوراک کے ڈی جی کے مطابق محکمے کے پاس پہلے ہی 8 لاکھ 15 ہزار بوری گندم پڑا ہوا ہے، صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے مزید خریداری سے گندم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

فیصلے کے مطابق سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب گوداموں میں گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں تو مزید پانچ لاکھ بوری گندم کیوں خریدی جارہی ہے؟ جب اوپن مارکیٹ میں قیمتیں کم ہیں تو حکومت بلوچستان کیوں بڑے پیمانے پر گندم خرید رہی ہے؟

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی علم میں یہ بھی ہے کہ ماضی میں گندم کی خریداری کے حوالے سے بڑے اسکینڈلز ہوئے، ان ہی وجوہات کی بنیاد پر کابینہ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، وزیر اعلیٰ کے تجویز کے مطابق 5ارب روپے کی رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے، بلوچستان کی کمزور مالی حالت کے پیش نظر حکومت غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ غیرضروری اخراجات کی کمی کے لیے حکومت نقصان کا باعث بننے والے محکموں کے خاتمے کے لیے سفارشات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ گندم خریداری کےفیصلےکےخلاف شہری نے دائر کی تھی، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

منشیات کی ترویج کا الزام، سعودی عرب میں 2 پاکستانی گرفتار

ملزمان کے قبضے سے 26 کلو گرام منشیات برآمد کر لی گئی، قانونی کارروائی کا آغاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

منشیات کی ترویج کا الزام، سعودی عرب میں 2 پاکستانی گرفتار

سعودی عرب میں انسداد منشیات حکام نے دارالحکومت ریاض سے 2پاکستانی باشندوں کو منشیات کی ترویج کےالزام میں گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 26 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی ہیں۔

جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول نے ریاض کے علاقے میں پاکستانی شہریت کے حامل دو باشندوں کو 26 کلو گرام منشیات میتھم فیٹامائن (شبو) کی ترویج پر گرفتار کیا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی اور انہیں پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔

سعودی عرب کے ادارہ برائے انسداد منشیات نے شہریوں پر غیرملکی تارکین وطن پر زور دیا ہے کہ وہ منشیات کے دھندے میں ملوث عناصر یا کسی غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی پر مکہ مکرمہ، ریاض، اور الشرقیہ کے علاقوں میں 911ہیلپ لائن اور ملک کے دیگر علاقوں میں 999 اور 996 پر مجاز حکام کو اطلاع دیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll