جی این این سوشل

دنیا

تمام شہری یکم مارچ کو انتخابات میں ووٹ دیں،ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای

مسائل کے حل کے لئے انتخابات صحیح طریقہ ہے، خطاب

پر شائع ہوا

کی طرف سے

تمام شہری یکم مارچ کو انتخابات میں ووٹ دیں،ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تہران: ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نےشہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ یکم مارچ کو ہونے والے پارلیمانی اور اسمبلی آف ایکسپرٹس انتخابات میں ووٹ دیں۔

چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز تہران میں شمال مغربی صوبہ مشرقی آذربائیجان کے لوگوں سے ملاقات کے دوران پارلیمانی انتخابات میں زیادہ ٹرن آئوٹ پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات ملک کا بنیادی ستون اور ملکی اصلاحات کا راستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام ایرانی شہریوں کو انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔ مسائل کے حل کے لئے انتخابات صحیح طریقہ ہیں۔ ایران میں 12ویں پارلیمانی اور اسمبلی آف ایکسپرٹس کے چھٹے کے انتخابات یکم مارچ کو ہوں گے۔ 290 نشستوں والی پارلیمنٹ کو قانون منظور کرنے اور حکومت کی نگرانی کا اختیار حاصل ہے جبکہ88 رکنی اسمبلی آف ایکسپرٹس کو سپریم لیڈر کی تقرری کا اختیار حاصل ہے۔

انتخابات میں سمبلی آف ایکسپرٹس کے لیے کل 144 امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں، جس کا انتخاب8سال کی مدت کے لیے ہوتا ہے۔

 

تجارت

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے، حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے، وزیر خزانہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

 

 

 

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے، ترقی کے مواقع کو فروغ دینے، مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے ،غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے منگل کو اسلام آباد بزنس سمٹ 2024 میں  ترقی کے لئے تعاون کے موضوع پر خطاب کرتےہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے اور ترقی کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔زراعت اور صنعت کی کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ جی ڈی پی میں مالی سال 2024 میں 2.6 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ افراط زر کی شرح 24 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جو کہ مالی سال 2023 میں 29.2 فیصد سے کم ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ پائیدار حدوں میں رہنے کا امکان ہے۔ حکومت نے زرعی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم فصلوں کی پیداوار غیر معمولی ہے۔

جولائی تا فروری 2024 کے دوران زرعی قرضوں کی تقسیم میں 33.6 فیصد اضافہ ہوا۔ بہتر فصلوں کی وجہ سے صنعتی شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت نے افراط زر کو قابو کرنے کے لیے اقدامات کئے ہیں۔ سی پی آئی افراط زر مارچ 2024 میں 20.7 فیصد سالانہ پر پہنچ گیا جو پچھلے سال کے اسی مہینے 35.4فیصد تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی تا مارچ 2024 کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 30.2 فیصد اضافہ ہوا۔ایف بی آر نے 6707 بلین روپے کے مقررہ ہدف سے زیادہ جمع کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔ جولائی تا فروری مالی سال 2024 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال 3.9 بلین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 74 فیصد کم ہو کر 1.0 بلین ڈالر رہ گیا۔جولائی تا مارچ مالی سال 2024 کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ سال 22.7 بلین ڈالر کے مقابلے میں 24.9 فیصد کم ہو کر 17.0 بلین ڈالر رہ گیا۔

حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ کو مناسب حدود میں رکھنے کا اہداف رکھا ہے۔ حکومت کے فعال اقدامات اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کی وجہ سے معاشی نقطہ نظر مثبت ہے۔

وزارت خزانہ،ایف بی آر اور وزارت قانون کے تعاون کے ساتھ مل کر محصولات کے اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت ریاست کے ملکیتی ادارے میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ 

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے۔ حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

ایران کا یورپی یونین کی جانب سےغیر قانونی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر اظہار افسوس

یورپی یونین ایران کے بجائے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے، ایرانی وزیر خارجہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایران کا یورپی یونین کی جانب سےغیر قانونی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر اظہار  افسوس

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے یورپی یونین کی جانب سے اسرائیل کے حملے کے پیش نظر اپنے "دفاع کے حق" کو استعمال کرنے کے لیے ایران پر مزید "غیر قانونی" پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پر رد عمل دیتے ہوئے امیر عبداللہیان نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اس کے ملک کے بجائے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے گذشتہ ہفتے لکسمبرگ میں ملاقات کے دوران تہران کے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کے تناظر میں اس کے خلاف پابندیوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

گذشتہ جمعے کو وسطی ایران کے شہر اصفہان میں دھماکے ہوئے تھے اور ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف عبدالرحیم موسوی نے کہا تھا کہ وہ فضائی دفاع کی وجہ سے متعدد "اڑنے والی اشیاء" کو تباہ کرنے کے نتیجے میں ہوئے جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک ویڈیو کلپ شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اصفہان میں فضائی دفاع کو فعال کیا گیا تھا۔

یہ تازہ ترین پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے اسرائیل پر سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا تھا، جب کہ پاسداران انقلاب کے ایک سینیر کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ایران نے رد عمل دیا۔

یورپی یونین کے رکن ممالک نے ایرانی میزائل اور ڈرون بنانے والوں کے خلاف پابندیوں کا دائرہ بڑھانے کے لیے ایک سیاسی سمجھوتہ کیا ہے۔ یہ بات یورپی یونین کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے لکسمبرگ میں یورپی یونین کونسل کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

بوریل نے پیر کو کہا کہ "ہم ایرانی ڈرون اور میزائل بنانے والے اداروں اور روس کو ممکنہ میزائل سپلائی کے خلاف پابندیوں کے نظام کو وسعت دینے کے لیے ایک سیاسی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔

 بوریل نے مزید کہا کہ "نظام ایک ہی ہے۔ میزائل بنانے والوں کے خلاف پابندیاں عاید کی جائیں گی۔ روس اس کے پراسکیوں اور ایران کی پراسکیوں پر پابندیوں کا دائرہ بڑھایا جائےگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، عمران خان

جمہوریت قانون کی بالادستی اور شفاف الیکشن پر کھڑی ہوتی ہے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، عمران خان

بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جمہوریت قانون کی بالادستی اور شفاف الیکشن پر کھڑی ہوتی ہے، پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پولیس نے مداخلت کی،خیبرپختونخوا میں بھی الیکشن ہوئے پولیس نے کہیں کوئی ایف ائی آر نہیں کاٹی اور نہ ہی دھاندلی ہوئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ملک میں ادارے آئینی طور پر نہیں چل رہے صرف طاقتور کی حکمرانی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری کریں تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی، بیرون ملک مقیم پاکستانی یہاں پیسہ اس لیے نہیں لگاتا کہ اس کو کوئی تحفظ نہیں، مستحکم حکومت کے لیے جمہوریت ضروری ہے جو صرف شفاف انتخابات کے ذریعے ممکن ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں کوئی جمہوریت نہیں یہ آٹھ فروری سے ڈرے ہوئے تھے، اکتوبر سے فروری تک انتخابات صرف پی ٹی آئی کو کرش کرنے کے لیے ملتوی کیے گئے، سپریم کورٹ میں بھی ہماری پٹیشن اس لیے نہیں سنی گئی کہ وہ بھی پی ٹی آئی کے کرش ہونے کا انتظار کررہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا نام و نشان ختم کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، ملک میں اخلاقیات کو ختم کر کے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا، پنجاب کا الیکشن پہلے سے پلان تھا اور ضمنی انتخابات میں پہلے ہی ڈبے بھرے ہوئے تھے۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک کا موجودہ سیٹ اَپ پاکستان کے فیوچر کو نقصان پہنچا رہا ہے، مجھ سے ڈیل کی نہ کسی نے کوئی بات کی نہ کوئی پیغام آیا، سوال یہ ہے کہ وہ مجھ سے کس بات پر ڈیل کریں گے؟ آٹھ فروری کو جب عوام ایک طرف کھڑی ہو گئی تو وہ وقت تھا بات کرنے کا ملک کی عوام ایک طرف کھڑی ہو جائے تو کیا اس سے کوئی جیت سکتا ہے؟

عمران خان نے کہا کہ عدلیہ سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے اپنے عوامی نمائندے کا انتخاب بنیادی حق ہے جو کہ عوام سے چھین لیا گیا ہے، میری بیوی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اسے سزا دلوا کر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے، میری تینوں بہنوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، مریم نواز اور بے نظیر سیات دان ہیں مگر میری اہلیہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اچھے تھے اسی لیے ہمارے دور میں او آئی سی فارن منسٹر کانفرنس ہوئی۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll