جی این این سوشل

تجارت

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کی قیمت میں بڑے اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی

نیپرا درخواست کی سماعت 23 فروری کو کرے گا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کی قیمت میں بڑے اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

لاہور: حکومت پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پسے پاکستانی عوام پر ایک اور برقی بم گرانے کے لیے تیار ہے۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7 روپے 13 پیسے اضافے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو درخواست جمع کرادی۔

بجلی کی قیمتوں میں اضافہ جنوری کی فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ کی مد میں طلب کیا گیا ہے جس کے لیے نیپرا درخواست کی سماعت 23 فروری کو کرے گا۔

واضح رہے کہ جنوری میں 100 ملین یونٹس کی مہنگی ترین بجلی ڈیزل سے 45.60 روپے فی یونٹ کے حساب سے پیدا کی گئی۔

جنوری میں فرنس آئل سے 35 روپے فی یونٹ کے حساب سے 750 ملین یونٹ بجلی پیدا کی گئی۔

پاکستان

ہم پر بنائے گئے جھوٹے کیسز اپنی موت خود مر جائیں گے، شیخ رشید

جو جیل میں ایک دن بھی نہیں رہ سکے وہ ہم پر جھوٹی شہادتیں دے رہے ہیں، سربراہ عوامی مسلم لیگ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہم پر بنائے گئے جھوٹے کیسز اپنی موت خود مر جائیں گے، شیخ رشید

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ہم پر بنائے گئے جھوٹے کیسز اپنی موت خود مر جائیں گے۔

راولپنڈی میں شیخ رشید کی انسداد دہشت گردی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ وہ لوگ جو جیل میں ایک دن بھی نہیں رہ سکے وہ ہم پر جھوٹی شہادتیں دے رہے ہیں، ہم پر جھوٹے کیسز کی بھرمار ہے۔

انہوں نے کہ اکہ یہ حکومت مکمل فیل ہو چکی ہے، عوام مر رہے ہیں، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ میں اس وقت موقع پر موجود بھی نہیں تھا جن کیسز میں مجھے شامل کیا گیا ہے۔

یہ حکومت فیل ہو چکی ہے  اور عوام پس رہی ہے۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ہمیں ہر روز عدالتوں میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ ہم پر ایسے کیسز بنائے گئے ہیں کہ دنیا ان پر  ہنسے گی۔ اُنہیں یہ کیسز واپس لینا ہوں گے ہم قانون کے دائرے میں لڑیں گے۔

اُن کا مزید کہنا ہے تھا لوگوں پر قیامت گزر رہی ہے ہزاروں جھوٹے کیسز  بنائے گئے ہیں۔ ایک شخص پاکستان میں ہی موجود نہیں تو اس پر بھی کیس بنا دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عمران خان کے خلاف کیسز زندہ لاش کی مانند ہیں، علیمہ خان

کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے بلکہ تمام مقدمات کا سامنا کریں گے، ہمشیرہ عمران خان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عمران خان کے خلاف کیسز زندہ لاش کی مانند ہیں، علیمہ خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے عمران خان کے خلاف مقدمات کو زندہ لاش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بھائی کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے بلکہ تمام مقدمات کا سامنا کریں گے۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ یہ سب کو پتہ تھا کہ ان کیسسز میں کچھ نہیں، کتنی دیر تک ججز ان کو سنبھالیں گے،یہ کیسسز مردہ لاش ہیں،ججز پر بھی ان کیسسز کے ختم کرنے کے لئے بہت دباؤ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقدمات ایک ایک کر کے دفن ہو جائیں گے،ہم مضبوطی سے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں بانی چیئرمین پی ٹی آئی ڈیل کے لیے تیار نہیں ہیں، عمران خان کا کہنا ہے کہ جہاں تک میرے مقدمات ہیں تو میں سامنا کروں گا، وہ قائم ہے اور کسی مقصد کےلئے کھڑے ہیں۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ ظلم کے خلاف نہیں بولیں گے تو یہ بڑھتا رہے گا، بانی پی ٹی آئی کو ظلم کے خلاف بولنے پر جیل میں ڈالا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون سے تحفظ نہیں ملے گا تو بڑی مشکلات ہوں گی۔وہ آئین اور قانون کی بالادستی کےلئے کھڑے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے، حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے، وزیر خزانہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

 

 

 

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے، ترقی کے مواقع کو فروغ دینے، مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے ،غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے منگل کو اسلام آباد بزنس سمٹ 2024 میں  ترقی کے لئے تعاون کے موضوع پر خطاب کرتےہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے اور ترقی کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔زراعت اور صنعت کی کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ جی ڈی پی میں مالی سال 2024 میں 2.6 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ افراط زر کی شرح 24 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جو کہ مالی سال 2023 میں 29.2 فیصد سے کم ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ پائیدار حدوں میں رہنے کا امکان ہے۔ حکومت نے زرعی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم فصلوں کی پیداوار غیر معمولی ہے۔

جولائی تا فروری 2024 کے دوران زرعی قرضوں کی تقسیم میں 33.6 فیصد اضافہ ہوا۔ بہتر فصلوں کی وجہ سے صنعتی شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت نے افراط زر کو قابو کرنے کے لیے اقدامات کئے ہیں۔ سی پی آئی افراط زر مارچ 2024 میں 20.7 فیصد سالانہ پر پہنچ گیا جو پچھلے سال کے اسی مہینے 35.4فیصد تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی تا مارچ 2024 کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 30.2 فیصد اضافہ ہوا۔ایف بی آر نے 6707 بلین روپے کے مقررہ ہدف سے زیادہ جمع کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔ جولائی تا فروری مالی سال 2024 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال 3.9 بلین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 74 فیصد کم ہو کر 1.0 بلین ڈالر رہ گیا۔جولائی تا مارچ مالی سال 2024 کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ سال 22.7 بلین ڈالر کے مقابلے میں 24.9 فیصد کم ہو کر 17.0 بلین ڈالر رہ گیا۔

حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ کو مناسب حدود میں رکھنے کا اہداف رکھا ہے۔ حکومت کے فعال اقدامات اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کی وجہ سے معاشی نقطہ نظر مثبت ہے۔

وزارت خزانہ،ایف بی آر اور وزارت قانون کے تعاون کے ساتھ مل کر محصولات کے اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت ریاست کے ملکیتی ادارے میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ 

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے۔ حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll