کاشتکار رہنماؤں نے حکومت کی طرف سے دالوں، مکئی اور کپاس سمیت فصلوں کے سیٹ کے لیے ضمانت شدہ قیمتوں کے لیے پانچ سالہ معاہدے کی پیشکش کو مسترد کر دیا


بھارتی کسان فصلوں کی یقینی قیمتوں کے مطالبے کے لیے ایک ہفتے سے احتجاج کر رہے ہیں، انہوں نےفصلوں کی قیمتوں پر حکومتی پیش کش مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ دارالحکومت نئی دہلی تک اپنا مارچ جاری رکھیں گے۔
احتجاج کرنے والے کسانوں نے گذشتہ ہفتے اپنا مارچ شروع کیا تھا لیکن ان کی شہر تک پہنچنے کی کوششوں کو حکام نے روک دیا ہے۔ انہوں نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور دارالحکومت میں داخلی راستوں پر بھاری رکاوٹیں لگا دیں تاکہ 2021 جیسا کسان احتجاج دہرایا نہ جا سکے جب انہوں نے ایک سال سے زائد عرصے تک کے لیے مضافات میں ڈیرے ڈال لیے تھے۔
کاشتکار رہنماؤں نے کہا کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے دالوں، مکئی اور کپاس سمیت فصلوں کے سیٹ کے لیے ضمانت شدہ قیمتوں کے لیے پانچ سالہ معاہدے کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ کسانوں نے حکومتی پیشکش کے انتظار میں دارالحکومت سے تقریباً 200 کلومیٹرکے فاصلے پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اب بدھ کو نئی دہلی کے لیے اپنا مارچ دوبارہ شروع کریں گے۔
احتجاج کی قیادت کرنے والے رہنماؤں میں سے ایک جگجیت سنگھ دلیوال نے کہا ہے کہ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ یا تو ہمارے مسائل حل کریں یا رکاوٹیں ہٹائیں اور ہمیں پرامن احتجاج کے لیے دہلی جانے کی اجازت دیں۔
یہ مظاہرے دو سال پہلے کی ایک تحریک کی یاد دلاتے ہیں جس میں دسیوں ہزار کسان نئی دہلی کے کناروں پر ایک سال سے زائد عرصے تک زرعی قوانین کے خلاف بھوک ہڑتال کرتے رہے جو آخرِکار حکومت کو منسوخ کرنے پڑے۔ اس بار ہمسایہ ریاست ہریانہ اور پنجاب سے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر آنے والے کسانوں نے کہا ہے کہ حکومت سابقہ احتجاج کے دیگر اہم مطالبات پر پیش رفت کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ مظاہرے ہندوستان کے لیے ایک اہم وقت پر سامنے آئے ہیں جب آئندہ مہینوں میں قومی انتخابات متوقع ہیں اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی پارٹی کو مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی توقع ہے۔ مودی کی انتخابی بنیادوں کے لیے کسان خاص طور پر اہم ہیں۔ بڑی کسان آبادی پر مشتمل شمالی ہریانہ اور چند دیگر ریاستوں میں ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔

ڈھاکا ٹیسٹ: پاکستان کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی، شاہینوں کو بنگال ٹائیگر کے ہاتھوں 104 رنز سے شکست
- 2 گھنٹے قبل

دفتر خارجہ کا سی بی ایس رپورٹ پر ردعمل، پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق دعوے مسترد
- 3 گھنٹے قبل

لکی مروت:سرائے نورنگ بازار میں دھماکہ، خاتون سمیت 7 افراد شہید،کئی زخمی،وزیر اعظم کا اظہارِ افسوس
- 3 گھنٹے قبل

بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا
- ایک دن قبل

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے "پنجاب فلم سٹی اتھارٹی بل 2026" کی توثیق کر دی
- 6 منٹ قبل

صدر مملکت سے وزیرِاعظم سے ملاقات، مہنگائی کم کرنے اور عوامی ریلیف کیلئے اہم ہدایات
- 21 گھنٹے قبل

وزیر اعظم کی کسانو ں کو بروقت کھاد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات
- 16 منٹ قبل

مسلسل دو روز کی کمی کے بعد سونا پھر ہزاروں روپے مہنگا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 3 گھنٹے قبل

عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر سٹائلسٹ آمنہ انعام پاکستان پہنچ گئیں، ثقافتی وسماجی تقریبات میں ہونگی
- 2 گھنٹے قبل

نرسز کے عالمی دن پر وزیراعظم کا پیغام، نرسز کو انسانیت کے بے لوث خدمتگار قرار دے دیا
- 2 گھنٹے قبل

برطانوی وزیراعظم کا بغاوت کے باجود استعفیٰ دینے سے انکار،تبدیلی کا وعدہ پورا کرنے کا عزم
- 3 گھنٹے قبل

منصب سنبھالتے ہی وزیر اعلی وجے کا بڑا حکم، شراب پر پابندی، 700سے زائد دکانیں بند
- 3 گھنٹے قبل












