Advertisement

اسرائیل غزہ میں قحط کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، سربراہ یورپی یونین

غزہ میں ہم اب قحط کے دہانے پر نہیں ہیں بلکہ ہم قحط کی حالت میں ہیں، جوزف بوریل

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Mar 19th 2024, 3:18 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیل غزہ  میں قحط کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، سربراہ یورپی یونین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نےکہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں قحط پیدا کر رہا ہے اور بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطاق انہوں نے برسلز میں غزہ کے لیے انسانی امداد کے بارے میں ایک کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ غزہ میں ہم اب قحط کے دہانے پر نہیں ہیں بلکہ ہم قحط کی حالت میں ہیں جس میں ہزاروں لوگ قحط میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے، قحط کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اسرائیلی جنگ قحط کا باعث بن رہی ہے۔ غزہ کو قحط کا سامنا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے۔انہوں نے فوری جنگ بندی کے معاہدے پر زور دیا۔

واضح رہے غزہ کی وزارت صحت نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ میں 31 ہزار 726 سے زائد فلسطینی شہید چکے ہیں اور  73 ہزار 792 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔وزارت نے مزید کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 81 فلسطینی شہید اور 116 دیگر زخمی ہوئے۔

 

 

Advertisement