Advertisement
علاقائی

خیبر پختونخوا حکومت کا گورنر کی جانب سے طلب کئے جانے والا اجلاس بلانے سے انکار

گورنر صوبے کے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کی ایڈوائس پر عمل کرنے کا پابند ہیں، وزیر قانون کے پی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Mar 22nd 2024, 3:39 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
خیبر پختونخوا حکومت کا گورنر کی جانب سے طلب کئے جانے والا اجلاس بلانے سے انکار

خیبر پختونخوا حکومت نے گورنر کی جانب سے طلب کئے جانے والا اجلاس بلانے سے انکار کر دیا، اسمبلی سیکرٹریٹ نے اعلان کیا ہے کہ آج اسمبلی اجلاس نہیں ہوگا، جب کہ گورنر غلام علی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج طلب کر رکھا ہے، اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اجلاس سے متعلق محکمہ قانون سے رائے مانگ لی۔

اجلاس کے حوالے سے اسمبلی سیکرٹریٹ نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کو اسمبلی اجلاس نہیں ہوگا، محکمہ قانون کے جواب کا انتظار ہے جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

اسپیکر نے محکمہ قانون کو بھیجے گئے مراسلے میں لکھا کہ اسمبلی اجلاس بلانے کا گورنر کا آرڈر اپوزشن لیڈر عباداللہ نے ذاتی طور پر سیکرٹری کے دفتر میں پہنچایا، جو گورنر ہاوس سے خط وکتابت کا درست طریقہ کار نہیں۔ الیکشن کمیشن نے چار مارچ کو مخصوص نشستوں کا اعلامیہ جاری کیا تھا اور اس کے حوالے سے کیس پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

مراسلے میں مزید لکھا گیا کہ کیا گورنر کابینہ یا وزیراعلیٰ کی ایڈوائس کے بغیر اجلاس طلب کر سکتے ہیں؟ کیا اجلاس طلب کرنے کا گورنر کو اختیار حاصل ہے۔ اجلاس طلب کرنے کے لیے خاص تعداد میں اراکین کی دستخط کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ گورنر کی جانب سے جاری حکم نامے کو اپوزیشن لیڈر عباد اللہ لے کر آئے تھے اور سیکریٹری اسمبلی کے حوالے کیا تھا۔ اسپیکر نے محکمہ قانون کو اس حوالے سے آج ہی قانونی رائے دینے کی ہدایت کی ہے۔

معاملے پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ گورنر صوبے کے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کی ایڈوائس پر عمل کرنے کا پابند ہیں، ان کا خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس غیرآئینی ہے، گورنر کا اجلاس بلانا غیر آئینی اور شرمناک ہے۔آئین واضح طور پر صدر اور گورنر کے اختیار کا تعین کرتا ہے، آئین کی رو سے گورنر، وزیر اعلیٰ اور کابینہ کی ایڈوائس پر عمل کا پابند ہوگا۔

اس سے قبل گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس بلانے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ جس میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 22 مارچ بروز جمعہ سہ پہر 3 بجے طلب کر کیا تھا۔ اجلاس بلانے کا مقصد مختص خواتین اراکین و اقلیتی نشستوں کے اراکین اسمبلی سے حلف لینا تھا۔

Advertisement