Advertisement

غزہ: مصر کیساتھ رفاح کی سرحد تاحال بند، امدادی اداروں کو قحط کا خدشہ

امدادی ٹیمیں ہر جگہ ہرممکن طور سے لوگوں کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اقوام متحدہ

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر May 16th 2024, 4:53 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
غزہ: مصر کیساتھ رفاح کی سرحد تاحال بند، امدادی اداروں کو قحط کا خدشہ

غزہ کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی جنگجوؤں کے مابین شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ امداد پر پابندیوں اور محفوظ رسائی میں مشکلات کے باعث علاقے میں قحط کا خطرہ برقرار ہے۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے کہا ہے کہ امدادی ٹیمیں ہر جگہ ہرممکن طور سے لوگوں کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم مصر کے ساتھ رفاح کی سرحد تاحال بند ہے اور جنگ کے باعث اسرائیل کے ساتھ کیریم شالوم کی سرحد تک محفوظ رسائی میسر نہیں۔

حالیہ دنوں غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی جنگجوؤں کے مابین لڑائی میں مزید شدت آ گئی ہے۔

شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ اور جنوبی شہر رفاح میں لڑائی کے باعث امداد کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 450000لوگ غزہ سے انخلا کر چکے ہیں جبکہ اسرائیل کے احکامات پر شمالی غزہ سے مزید ایک لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے انرا کا کہنا ہے کہ لوگ تحفظ کی تلاش میں جہاں جگہ ملے وہیں کا رخ کر رہے ہیں تاہم غزہ میں تحفظ نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔

انرا نے بتایا ہے کہ سات ماہ سے جاری جنگ اور خوراک و طبی سہولیات کی شدید قلت کے باعث غزہ میں کم وزن بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ ادارے نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پناہ گزین گھرانے میں پیدا ہونے والی بچی کے بارے میں بتایا ہے جس کا دو ہفتے کی عمر میں وزن دو کلوگرام سے بھی کم ہے۔

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بتایا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت اور انہیں خوراک مہیا کرنے میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ ادارے نے لوگوں کو غذائی قلت سے بچانے کے لیے مقوی کھجوریں مہیا کی ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہیں کئی روز سے خوراک میسر نہیں آئی تھی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بچوں میں غذائی قلت انتہائی تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ دو سال سے کم عمر کے ایک تہائی بچے غذائی قلت یا جسمانی کمزوری کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کے پاس غزہ بھر کی 22 لاکھ آبادی کو امداد مہیا کرنے کے ذرائع موجود ہیں تاہم اس کے لیے جنگ بندی ہونا ضروری ہے۔

Advertisement
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت

  • 2 دن قبل
پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 افسران و اہلکار معطل

پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 افسران و اہلکار معطل

  • 15 گھنٹے قبل
پھر ناقص کارکردگی: تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان انگلینڈ کیخلاف پہلی اننگزمیں133 رنز بناکر آؤٹ

پھر ناقص کارکردگی: تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان انگلینڈ کیخلاف پہلی اننگزمیں133 رنز بناکر آؤٹ

  • ایک دن قبل
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

  • 18 گھنٹے قبل
وفاقی تعلیمی بورڈ: انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور ٹوکے نتائج کا اعلان

وفاقی تعلیمی بورڈ: انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور ٹوکے نتائج کا اعلان

  • ایک دن قبل
وزیراعلیٰ پنجاب کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب کی تاریخ کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب کی تاریخ کا اعلان

  • 17 گھنٹے قبل
کرکٹرزامام الحق اور محمد رضوان کےموبائل فونز ظبط، وجہ سامنے آگئی

کرکٹرزامام الحق اور محمد رضوان کےموبائل فونز ظبط، وجہ سامنے آگئی

  • ایک گھنٹہ قبل
اداکارہ ہنی خان نے خود پر ہونیوالی تنقید کا جواب دے دیا

اداکارہ ہنی خان نے خود پر ہونیوالی تنقید کا جواب دے دیا

  • 14 گھنٹے قبل
ملک میں سونے فی تولہ قیمت میں معمولی کمی

ملک میں سونے فی تولہ قیمت میں معمولی کمی

  • ایک گھنٹہ قبل
پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مسترد، سینیٹر ڈاکٹر زرقا کا اضافہ فوری واپسی کا مطالبہ

پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مسترد، سینیٹر ڈاکٹر زرقا کا اضافہ فوری واپسی کا مطالبہ

  • 14 گھنٹے قبل
بنگلادیش میں خسرہ وبا شدت سے پھیل گئی

بنگلادیش میں خسرہ وبا شدت سے پھیل گئی

  • ایک دن قبل
جنگ ستمبر1965 کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پاک بحریہ کا دن آج منایا گیا

جنگ ستمبر1965 کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پاک بحریہ کا دن آج منایا گیا

  • 2 دن قبل
Advertisement