جی این این سوشل

دنیا

افریقی ملک ملاوی کے نائب صدر کا طیارہ دوران پرواز لاپتہ

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ملاوی کے صدر لازارس چکویرا نے بہاماس کے لیے طے شدہ فضائی سفر بھی منسوخ کردیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

افریقی ملک ملاوی کے نائب صدر کا طیارہ دوران پرواز لاپتہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

افریقی ملک ملاوی کے نائب صدر کا طیارہ دوران پرواز لاپتا ہوگیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق طیارے میں ملاوی کے نائب صدر ساؤلوس کلاؤس سمیت 10 افراد سوار ہیں ، برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ نائب صدر کو لے جانے والا طیارہ اڑان کےکچھ دیربعد ریڈار سے غائب ہوا، ایئرفورس کا طیارہ دارالحکومت لیلونگوے سے موزوزو جا رہا تھا۔

ملاوی کے صدر نے طیارے کو ڈھونڈنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ملاوی کے صدر لازارس چکویرا نے بہاماس کے لیے طے شدہ فضائی سفر بھی منسوخ کردیا۔

پاکستان

عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

فیصلہ 27 جون کو سنایا جائے گا جبکہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی  سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ،27 جون کو سنایا جائے گا جبکہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کے جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا  معطلی اورمرکزی ایپلوں پرسماعت کی جس سلسلے میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے دلائل دیئے۔

زاہد آصف نے سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر تے ہوئے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل کنندگان کا کیس سزا معطلی کا ہے یا نہیں، اپیل کنندہ کے وکلا نے خاور مانیکا کیلئےجھوٹا شخص کے الفاظ استعمال کیے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ مفتی سعید، خاورمانیکا، عمران خان اور بشری بی بی میں سے جھوٹا کون ہے؟

وکیل نے کہا کہ جو انٹرویو چلایا گیا ہے اس کے حقائق توڑ موڑ کر پیش کیے گئے، خاور مانیکا کے بیٹے نے اسی انٹرویو میں کہا بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشریٰ بی بی سے نہیں ہوا،یہ جھوٹا الزام ہے۔

دوران سماعت جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے کہا کہ اپیل کنندگان کہتے ہیں چلہ کروایا گیا جس کے بعد شکایت دائر ہوئی اس پر بتائیں، بدنیتی کا تعلق حالات و واقعات سے ہوتا ہے، کیا گرفتاری کے بعد ایسے حالات نہیں تھے؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی نہیں ایسے حالات نہیں تھے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔

جج نے سوال کیا جب شکایت واپس لی گئی تو کیس بریت کا بنتا ہے جج صاحب نے کیا لکھا؟ کیا جو پہلے والی شکایت واپس لی گئی تو چارج فریم ہوا تھا کہ نہیں، اور اس کیس میں فراڈ کیا ہوا یہ بتائیں؟ کیا کوئی پریشر یا دھمکی تھی کہ خاور مانیکا اگر شکایت درج کریں گے تو نتائج ہوں گے؟

اس پر وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں نے وہ فیصلہ نہیں پڑھا مگر اس کی ضرورت نہیں تھی، دھرنا اور بانی پی ٹی آئی کے وزیراعظم بننے کے حالات سامنے ہیں، کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہو وہ وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے؟

عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ میں سزا معطلی کی درخواست پر 7 منٹ دلائل دوں گا، شکایت کنندہ کو اس سے کم وقت میں بھی دلائل دینے چاہیے، آج مرکزی اپیل اور سزا معطلی کی اپیل زیر سماعت ہے، میری ذمہ داری عدالت کو بتانا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کون ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ان اپیلوں پر پہلے 15 سے زائد سماعتیں 3 ماہ میں ہوچکی ہیں، اس کیس میں کبھی شکایت کنندہ اور کبھی پراسیکیوشن نے کہا کیس پڑھنا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیس میں کچھ نہیں، مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیسے دیتے ہیں۔

اس موقع پر وکیل زاہد آصف کا کہنا تھا کہ سلمان صفدر ایک قابل وکیل ہیں اور ہر جگہ ان کی تعریف کی۔

بعد ازاں سلمان صفدر نے کہا کہ اپیل کنندہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، الیکشن سے قبل عمران خان کو سزا سنائی گئی، عمران خان کے خلاف بے شمار کیسز بنائے گئے ہیں، عمران خان کے کیسز سے میں نے بہت کچھ سیکھا، ایسی یونیک پراسیکیوشن میں نے آج تک نہیں کی، متعدد کیسز عدالتوں نے اڑا دیئے، سائفر کیس ،توشہ خانہ کیس ،پھر نکاح کیس میں سزا دی گئی جیسے سینما کی اسکرین کا ٹائم، مجھے اس کیس کے شکایت کنندہ سے بھی ہمدردی ہے، سائفر کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا تو عدالت نے کہا مرکزی اپیل سنیں یا سزا معطلی کی، میں نے کہا مرکزی اپیل ورنہ میرے لیے آسان تھا سزا معطلی پر دلائل دیتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سائفر کیس کا ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا مگر اپیل دائر کردی گئی، ٹرائل میں ہمارے وکلا کو باہر نکالا گیا، دیر تک سماعتیں چلیں، ہائی کورٹ کے لیے آسان تھا کیس ریمانڈ بیک کرنا مگر نہیں ہوا، میرٹ پر فیصلہ ہوا، سائفر کے پاس توشہ خانہ کیس سامنے آیا، اس کیس میں بھی دوسرے طرف کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا، مجھے امید ہے آج بھی دوسری طرف کے وکیل یہی کریں گے، سیشن جج شاہ رخ ارجمند کے پاس بھی مرکزی اپیلیں اور سزا معطلی کی درخواستیں آئی، جب فیصلہ آنا تھا تو ریفرنس بن جاتا ہے اس کے بعد کیس آپ کے پاس آتا ہے

بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ مجھے نہیں معلوم عدالت نے کیا فیصلہ کرنا ہے مگر جو بھی فیصلہ آیا میں سن کر چلا جاؤں گا، مجھے اختلاف ہوگا تو میں اپیل میں چلا جاوں گا، سلمان اکرم راجا نے ٹھیک کہا تھا کہ میں اس کیس میں پیش ہوتا رہا مجھے فیصلہ چاہیے، اگر اپیلیں ڈسٹرکٹ کورٹس میں زیر سماعت ہوں تب بھی ہائی کورٹ کے پاس سزا معطلی کے اختیارات ہیں، میری کوشش تھی بشریٰ بی بی عید سے پہلے گھر آجاتیں ، سلمان اکرم راجا صاحب کا کہنا تھا کہ وہی جج فیصلہ کریں جنہوں نے کیس سنا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ جب ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں گئے تو ایک ایک چیز بتائی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ مکمل طور پر آگاہ ہے کہ نیچے کیا چل رہا ہے، شکایت کنندہ بار بار تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 10 روز میں سزا معطلی اور 30 دن میں مرکزی اپیلوں پر فیصلے کا کہا ہوا ہے، جب سزا دینی ہو تب فٹا فٹ اور اپیل پر دھیرے دھیرے؟

بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو  27 جون کو دن 3 بجے سنایا جائے گا۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

کھیل

ڈیوڈ وارنر کا انٹرنیشنل کرکٹ کے تمام فارمیٹ سے ریٹائر

کرکٹ آسٹریلیا نے ڈیوڈ وارنر کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیوڈ وارنر کا 15 سالہ انٹرنینشل کیرئیر اختتام کو پہنچ گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈیوڈ وارنر کا انٹرنیشنل کرکٹ کے تمام فارمیٹ سے ریٹائر

آسٹریلیا کے ورلڈکپ سے باہر ہونے کے بعدآسٹریلوی بیٹر ڈیوڈ وارنر انٹرنیشنل  کرکٹ کے تمام فارمیٹ سے ریٹائر ہوگئے۔

کرکٹ آسٹریلیا نے ڈیوڈ وارنر کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیوڈ وارنر کا 15 سالہ انٹرنینشل کیرئیر اختتام کو پہنچ گیا۔

ٹی 20ورلڈکپ سے باہر ہونے کے بعد بھارت کے خلاف میچ ڈیوڈ وارنر کا آخری میچ ثابت ہوا، وارنر نے ٹی 20ورلڈکپ کےبعد انٹرنینشل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا عندیہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ ون ڈے کرکٹ ورلڈکپ کا فائنل ڈیوڈ وارنر کے ایک روزہ کیرئیر کا آخری میچ تھا، ڈیوڈ وارنر نے جنوری میں پاکستان کےخلاف کیرئیر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

آسٹریلوی بیٹر ڈیوڈ وارنر نے 110 ٹی ٹوئنٹی میچز، 161 ون ڈے کرکٹ اور 112 ٹیسٹ میچز میں ملک کی نمائندگی کی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

شیخ رشید کے خلاف تھانہ موچکو اور لسبیلہ میں درج مقدمات خارج

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیخ رشید کو ایک ہی الزام پر درج متعدد مقدمات سے بری کر دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شیخ رشید کے خلاف تھانہ موچکو اور لسبیلہ میں درج مقدمات خارج

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کی اخراج مقدمہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف ایک ہی الزام پر تھانہ موچکو اور لسبیلہ میں درج مقدمات خارج کردیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کے خلاف ایک ہی الزام پر درج متعدد مقدمات کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے فیصلہ سنا دیا، اس موقع پر شیخ رشید کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے خلاف اسلام آباد، کراچی کے تھانہ موچکو اور لسبیلہ میں مقدمات درج ہیں۔عدالت نے شیخ رشید کی درخواست منظور کرتے ہوئے تھانہ موچکو اور لسبیلہ میں درج مقدمات خارج کر دیے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر 2 فروری 2023 کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے شیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120-بی، 153 اے اور 505 شامل کی گئی تھیں۔ گرفتاری کے بعد انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

دوسری جانب 3 فروری کو وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔ شیخ رشید کے خلاف کراچی کے موچکو، حب کے لسبیلہ اور مری کے تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد ایف آئی آر کو سیل کردیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں ایک اور مقدمہ 4 فروری کو تھانہ صدر میں پیپلز پارٹی کے کارکن کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس میں شیخ رشید پر امن و امان کو خراب کرنے اور جان بوجھ کر اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

تاہم 16 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کے الزام سے متعلق کیس میں گرفتار شیخ رشید کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی جس کے بعد انہیں جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll