جی این این سوشل

پاکستان

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کر لیا

کابینہ اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں کی توثیق کی جائے گی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کر لیا
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کر لیا

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کر لیاہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورہ چین پر کابینہ ارکان کو اعتماد میں لیں گے، اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے امور بھی زیرغور آئیں گے۔

کابینہ اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں کی توثیق کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہواتھا، کونسل نے 15 سو ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی، وفاق 14 سو ارب روپے اور 100 ارب روپے سرکاری ونجی شراکت داری ہو گی۔

پاکستان

سپریم کورٹ کے 3 نئے ججز نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

گزشتہ روز جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سپریم کورٹ کے 3 نئے ججز نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن نے بطور جج سپریم کورٹ حلف اٹھا لیا۔

حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوئی، جہاں چیف جسٹس  آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے حلف لیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں 3 ججوں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ نوٹیفکیشن میں جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کی بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان میں تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔

اسلام آباد سے وزارتِ قانون نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد ججز کی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 177 کے تحت ان تعیناتیوں کی منظوری دی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 196 کے تحت جسٹس شجاعت علی خان قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مقررکردیے گئے۔

جسٹس شجاعت علی خان مستقل چیف جسٹس کی تقرری تک قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ رہیں گے۔جسٹس محمد شفیع صدیقی کو قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس ملک شہزاد خان چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عقیل احمد عباسی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور جسٹس شاہد بلال حسن لاہور ہائیکورٹ کے جج تھے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

ملک بھر میں  سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی

فی تولہ سونے کی قیمت 500 روپے کم ہوکر  2 لاکھ 41 ہزار 429 روپے ہوگئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک بھر میں  سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی

ملک بھر میں  سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی ہوئی ہے۔

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 500 روپے کم ہوکر  2 لاکھ 41 ہزار 429 روپے ہوگئی ہے جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں 429 روپے کمی دیکھنے میں آئی جس کے بعد 10گرام سونے کی نئی قیمت   2 لاکھ 7  ہزار 47 روپے ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ  گزشتہ روز ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 500 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد فی تولہ سونا 2 لاکھ42 ہزار کا ہوگیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، جسٹس بابر ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس بابرستار نے کہا ہے کہ صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کررہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منوراقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ لائیو کال کو مانیٹر کرسکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 2013 میں نئی پالیسی آئی، وزارتِ داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ضرورت پڑنے پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارتِ داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، وزارتِ داخلہ کے ایک سیکشن افسر نے ایس او پی جاری کردیا اور سیکشن افسر کے ایس او پی کے تحت آپ ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ اُن میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کام کرنے کیا میکانزم ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، جس پر پولیس وکیل نے کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جستس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟

ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے پوچھا کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے۔

وکیل ٹیلی کام کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابتآڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll