جی این این سوشل

پاکستان

پی ٹی آئی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی تقسیم کو مسترد کر دیا

ہمارے ساتھ قائمہ کمیٹیوں میں فارم 47 والا حشر کیا گیا،سینیٹر علی ظفر

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پی ٹی آئی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی  تقسیم کو مسترد کر دیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سینیٹ میں قائمہ کمیٹیوں کے معاملہ پر پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان میں گرما گرمی ہوئی، پی ٹی آئی نے قائمہ کمیٹیوں کی تقسیم کو مسترد کر دیا۔

سینیٹ اجلاس میں سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ہمارے ساتھ قائمہ کمیٹیوں میں فارم 47 والا حشر کیا گیا، ہم ان کمیٹیوں کو مسترد کرتے ہیں، اگر آپ ایوان کو کمیٹیوں کے بغیر چلانا چاہتے ہیں تو چلائیں، اپوزیشن کے بغیر کیسے کمیٹیاں چلائیں گے؟ اپوزیشن کے حصے کی کمیٹیاں بھی حکومت نے اپنے پاس رکھ لیں۔

علی ظفر نے کہا کہ جن کمیٹیوں کی ترجیحات مانگی گئی تھیں وہ نہیں دی گئیں، اب کہا گیا کمپیوٹر نے یہ نام دیئے ہیں، ہم اس عمل کو مسترد کرتے ہیں، حکومت چاہتی ہے ان کا احتساب نہ ہو، یہ پارلیمانی روایات اور جمہوریت کے خلاف ہے۔

قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے پارلیمانی روایات کو مدنظر رکھا جائے، ہم قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی چیئرمین شپ میں دلچسپی رکھتے تھے، اگر انتخابات کرانے ہیں تو پھر اپوزیشن تمام قائمہ کمیٹیوں کا انتخاب ہار جائے گی۔

شبلی فراز نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل اور چیئرمین شپ کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ اپنا کردار ادا کریں، اگر آپ غلطی سے حکومت میں آگئے ہیں تو روایات کا خیال رکھیں۔

علاقائی

مریم نواز کا بند روڈ پراجیکٹ کی جلد تکمیل کا حکم، جولائی کی ڈیڈ لائن

کنٹرولڈ ایکسیس کوریڈور بند روڈ کے ساتھ ساتھ سروس روڈز کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل کا فوری تدارک بھی ضروری ہے، مریم نواز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مریم نواز کا بند روڈ پراجیکٹ کی جلد تکمیل کا حکم، جولائی کی ڈیڈ لائن

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بند روڈ پراجیکٹ کی جلد تکمیل کا حکم دیتے ہوئے جولائی کی ڈیڈ لائن دیدی۔

وزیراعلی مریم نواز نے کنٹرولڈ ایکسیس کوریڈور بند روڈ منصوبے کا دورہ کیا اور سگیاں انٹرچینج سے بابو صابو تک سروس روڈز کا خود جائزہ لیا، انہوں نے ایلیویٹڈ بند روڈ کا بھی معائنہ کیا۔

ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اور چیف انجینئر اسرار سعید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پراجیکٹ کے پیکیج ٹو کے ہائی رائزڈ ایریا کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھولا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ کنٹرولڈ ایکسیس کوریڈور بند روڈ کے ساتھ ساتھ سروس روڈز کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل کا فوری تدارک بھی ضروری ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے چلڈرن لائبریری کمپلیکس کا اچانک دورہ کیا ۔

وزیراعلیٰ مریم نواز چلڈرن لائبریری کمپلیکس اچانک پہنچیں جہاں خالی کمرے لائبری آڈیٹوریم کی لائٹ اور اے سی چل رہے تھے ۔ مریم نواز نے سرکاری وسائل کا ضیاع پر شدید برہمی کا اظہار کیا چلڈرن لائبری کمپلیکس کے بارے میں رپورٹ مانگ لی ۔

مریم نواز نے چلڈرن لائبریری کمپلیکس کو باقاعدہ فعال کرنے کے لئے فوری پلان تیار کرنے کا حکم دیا، انہوں نے لائبریری کمپلیکس کی مرکزی عمارت کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر مریم اونگریب،صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری،صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات،نوشین عدنان، سیکرٹری ایجوکیشن ڈاکٹر احتشام انورودیگر حکام بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے 1988 میں چلڈرن لائبریری کا افتتاح کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، جسٹس بابر ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس بابرستار نے کہا ہے کہ صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کررہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منوراقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ لائیو کال کو مانیٹر کرسکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 2013 میں نئی پالیسی آئی، وزارتِ داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ضرورت پڑنے پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارتِ داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، وزارتِ داخلہ کے ایک سیکشن افسر نے ایس او پی جاری کردیا اور سیکشن افسر کے ایس او پی کے تحت آپ ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ اُن میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کام کرنے کیا میکانزم ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، جس پر پولیس وکیل نے کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جستس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟

ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے پوچھا کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے۔

وکیل ٹیلی کام کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابتآڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

پشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ سے ایک ہی گھر سے 8 افراد جاں بحق

فائرنگ سے گھر میں موجود چار خواتین اور چار بچے موقع پر جاں بحق ہوگئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ سے ایک ہی گھر سے 8 افراد جاں بحق

پشاور کے نواحی علاقہ بڈھ بیر میں ملزمان کی گھر میں گھس کر فائرنگ سے بچوں اور خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بڈھ بیر کے مطابق فائرنگ کا واقعہ جائیداد کے تنازعہ کے باعث پیش آیا جس میں مخالف فریق نے گھر میں گھس کر فائرنگ کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے گھر میں موجود چار خواتین اور چار بچے موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ دو افراد فائرنگ کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

ڈی ایس پی بڈھ بیر کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد پولیس نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی ہے اور جاں بحق افراد کو پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب متاثرہ خاندان کے رشتہ دار صحافی خالد الرحمان نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سانحہ پولیس کی غفلت کے باعث پیش آیا کیونکہ ان بقول وہ واقعہ کے دوران مسلسل ایک گھنٹہ پولیس کو کال کرتا رہا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی جواب نہیں مل جس کی وجہ قیمتی جانوں کا ضیاع ہوگیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll