جی این این سوشل

تجارت

بجٹ 2024-25، تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ

جائیداد کی خریدوفروخت پر فائلر پر15 فیصد ٹیکس لگے گا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

بجٹ 2024-25، تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 18 ہزار 887 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار کرنے کی تجویز ہے۔

وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس پندرہ سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کر دیا گیا۔ تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیا،نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،فاٹا اور پاٹا کیلئے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،رہائشیوں کو مزید ایک سال انکم ٹیکس چھوٹ ملے گی۔گاڑیوں کی خریداری پر ٹیکس انجن کپیسٹی کے بجائے گاڑی کی قیمت کے تناسب پر لگے گا۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ توانائی کا شعبہ گردشی قرضوں کے چیلنج سے دوچار ہے،یہ قرض اب ناقابل برداشت ہوچکا ہے،پاور سیکٹر کی پیچیدگیوں کا حل بلا شبہ مشکل ہے ،پاور سیکٹر میں نقصانات کم کرنے کیلئے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبوشن کو بہتر بنائیں گے۔9بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ ہے،توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپےجامشورو کول پاور پلانٹ کے لئے 21ارب اور این ٹی ڈی سی کی بہتری کےلئے 11ارب روپےمختص کئے گئے ہیں۔آبی وسائل کے لئے206ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،مہمند ڈیم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کےلئے 45ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 40ارب روپے،چشمہ رائٹ بینک کینال کے لئے 18ارب روپے بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کےلئے 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔بجلی چوری کےخلاف مہم میں 50ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔توانائی بچت کو ممکن بنانے والے پنکھوں کیلئے 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ زراعت ہماری معیشت کا اہم ستون ہے،زراعت ملکی جی ڈی پی کا 24فیصد ہے،زراعت کے ذریعے 37.4فیصد لوگوں کو روزگارملتا ہے،ملک کی فوڈ سیکیورٹی اورصنعتی شعبے کی پیداواری صلاحیت اس شعبے پر منحصر ہے،زراعت،لائیواسٹاک اورماہی پروری بھی قیمتی زرمبادلہ کے بڑے ذرائع ہیں،وزیراعظم نے 2022میں کسان پیکج کے تحت اسکیم کااعلان کیا،اگلے سال اس تجویز کے تحت 5ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والے ترسیل زر کا معیشت میں اہم کردار ہے،حکومت بیرون ملک مقیم اہل وطن کیلئے متعدد سہولیات متعارف کروا رہی ہے،ترسیل زر کے فروغ کیلئے 86.9ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،یہ رقم سوہنی دھرتی اسکیم اور دیگر اسکیموں کیلئے استعمال کی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریرمیں اعلان کیا کہ آئی ٹی سیکٹر کےلئے 79ارب روپے،کراچی میں آئی ٹی پارک کے قیام کےلئے 8ارب روپے،ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد منصوبے کے لئے 11ارب روپے ،ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لئے 20ارب روپے مختص ہونگے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ مالی سال 25-2024 کیلئے اقتصادی ترقی کی شرح3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے،افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے،بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سر پلیس جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوگا،ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے،ایف بی آر کی اصلاحات کےلئے 7ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18،877 ارب روپے ہے،صوبوں کا حصہ 7ہزار438 ارب روپے ہو گا،وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 3ہزار587 ارب روپے ہو گا،وفاقی حکومت کی خالص آمدنی9ہزار119 ارب روپے ہو گی۔

پاکستان

جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو، جسٹس طارق محمود

وکلا اچھی معاونت کریں تو ججز کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے خطاب

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو، جسٹس طارق محمود

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا ہے کہ میں روز قرآن پاک اور درود شریف پڑھ کر عدالت میں بیٹھتا ہوں اور جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ وکلا اچھی معاونت کریں تو ججز کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے، وکیل اگر تیاری کے ساتھ پیش ہوں تو خوشی ہوتی ہے،  جج بھی انسان ہیں، ہم ہرفیصلہ یہ سوچ کر لکھتے ہیں کہ یہ ہمارا ایگزامنیشن پیپر ہے، ہمارا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2021 کے واقعہ کی وجہ سے بار اور بینچ میں کافی خلا  آگیا تھا، وکلا کو اپنےکیسز کی پیروی کےلیے مکمل تیاری کے ساتھ آنا چاہیے اور ججز کو بھی نوجوان وکلا کی اپنے بچوں کی طرح اصلاح کرنی چاہیے۔

جسٹس طارق محمود کا کہنا تھا کہ ایک نیا ٹرینڈ تھا کہ ملک بھر میں پرچے ہوجاتے تھے، میں نےفیصلہ دیاکہ ایک وقوعہ پر متعدد ایف آئی آرز درج نہیں ہوسکتیں، ہم نے آئین اور قانون کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں روز قرآن پاک اور درود شریف پڑھ کر عدالت میں بیٹھتا ہوں اور جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

این ٹی ڈی سی کا 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ پر وضاحتی بیان

حیسکو ریجن میں 12گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی وجہ صرف این ٹی ڈی سی کو قرار دینا درست نہیں:ترجمان 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

این ٹی ڈی سی کا 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ پر وضاحتی بیان

لاہور:نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ترجمان نے 22 جولائی کو حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے علاقوں میں بجلی کی حالیہ طویل بندش کے بارے میں وضاحت کی ہے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق حیسکو ریجن میں اضافی لوڈ مینجمنٹ کے اقدامات نیپرا گرڈ کوڈ 2023 کے مطابق کیے گئے۔ یہ اقدامات 21 جولائی بروز ہفتہ اور 22 جولائی بروز اتوار کی درمیانی شب پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کیے گئے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی نے زور دے کر کہا کہ 12 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کوصرف این ٹی ڈی سی سے منسوب کرنے کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی تھا اور یہ صورتحال کی درست وضاحت نہیں تھی۔

ترجمان نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ گھارو اور جھمپیر ونڈ کلسٹرز میں واقع 36 ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی تھی۔ یہ ونڈ فارمز 1,845 میگاواٹ کی مشترکہ پیداواری استعداد کے ساتھ این ٹی ڈی سی کے 500 کے وی جامشورو گرڈ سٹیشن کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ ہوا کی غیر معمولی طور پر کم رفتار کے نتیجے میں ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں جامشورو گرڈ سٹیشن کے ٹرانسفارمرز پر بہت زیادہ بوجھ پڑا۔

اہم آلات کی حفاظت کی کوشش میں این ٹی ڈی سی نے اضافی لوڈ شیڈنگ کیلئے حیسکو حکام کے ساتھ رابطہ کیا تاہم اتوار کی صبح تک ہوا کی رفتار معمول پر آ گئی جس کے بعد بجلی کی پیداوار بڑھنے پر حیسکو کے علاقوںمیں اضافی لوڈ شیڈنگ کی ضرورت نہیں رہی۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا اصل دورانیہ 12 گھنٹے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھا۔ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق 4 گھنٹے تک تقریباً 75 میگاواٹ اور 6 گھنٹے تک 142 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا جس کے نتیجے میں حیسکو کی جانب سے مختلف 11 کے وی فیڈرز پر اوسطاً ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ کے اندر کیمپ لگانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ کے اندر کیمپ لگانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

اس سے قبل تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ نے گرفتاریوں، چھاپوں، قیادت اور کارکنوں کے خلاف مقدمات پر آج پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ کےباہربھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے، بھوک ہرتالی کیمپ میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر ، اسد قیصر، علی محمد خان، فلک ناز چترالی، شیخ وقاص اور سینیٹر ہمایوں مہمند شریک ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھوک ہڑتالی کیمپ آج پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دوپہر 3 بجے لگایا جائے گا، بھوک ہڑتالی کیمپ کی قیادت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کریں گے، آج علامتی بھوک ہڑتال ہوگی جبکہ حکومتی انتقامی کارروائیوں کے خلاف ردعمل بھی دیا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر، اسد قیصر سمیت تمام ارکان پارلیمنٹ بھوک ہڑتال کریں گے، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈ شبلی فراز بھی بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک ہوں گے، دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔

بھوک ہڑتالی کیمپ میں ارکان پارلیمان کو پارٹی وفاداریاں نہ بدلنے پر مقدمات کی دھمکیوں کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا، پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر بھوک ہڑتال کا دائرہ کار وسیع کردیا جائے گا۔ ارکان اسمبلی بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت گرفتار کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔

یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان خود بھی بھوک ہڑتال کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) وفد نے ملاقات کی ہے۔ ایاز صادق نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ کے اندر کیمپ لگانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll