جی این این سوشل

دنیا

مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمین حج کے قافلوں کا منیٰ کی طرف سفر شروع

مکہ مکرمہ میں ریڈیو پاکستان کے نمائندے بلال خان محسود نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن کے حکام عازمین کو اُن کی منزل کی طرف رخصت کر رہے ہیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمین حج کے قافلوں  کا  منیٰ کی طرف سفر شروع
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمین حج کے قافلوں نے منیٰ کی طرف سفر شروع کر دیا ہے۔

مکہ مکرمہ میں ریڈیو پاکستان کے نمائندے بلال خان محسود نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن کے حکام عازمین کو اُن کی منزل کی طرف رخصت کر رہے ہیں۔

عازمین منیٰ پہنچنے کیلئے بسوں اور ٹرینوں کا استعمال کر رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر پیدل روانہ ہو رہے ہیں۔عازمین کی منی روانگی کا عمل جمعہ آٹھ ذوالحجہ کو بھی جاری رہے گا اس کے ساتھ ہی حج 1445 ہجری کے مناسک کی ادائیگی کا پہلا مرحلہ باقاعدہ طور پر شروع ہو جائے گا۔

 

پاکستان

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

 جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

اسلام آباد جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ہم سب کو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالانا چاہیے، اسلام آباد میں آج جناح میڈیکل سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا ہے، یہ منصوبہ نوازشریف کی مخلوط حکومت کا تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر میں نرسنگ اسکول اور لیبارٹریز بنیں گی، غریب کا علاج 100 فیصد ہوگام، غریب کاحق ہےکہ صحت اورتعلیم کی سہولت ان کی دہلیز پر دی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی جدید ترین سہولیتیں اس ہسپتال میں ہوں گی، عوام کی ترقی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر موذی امراض کا سینٹر ہے، جب سے ہماری حکومت آئی پہلے دن سے اس پر کام شروع کیا، چیئرمین حبیب بینک،پرنس رحیم آغا خان کے صاحبزادے نے تمام تکنیکی معاونت دی ہے، امریکا میں ان کے کنسلٹنٹ سے میٹنگ ہوئی جنہوں نے آغا خان ہسپتال بنایا، پرنس رحیم آغا خان کی پاکستان سے والہانہ محبت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے کنسلٹنسی مفت دی ہے، اس ہسپتال کیلئے 600کنال زمین مختص کی گئی ہے، یہ وہی ماڈل ہے جس کا پورے پاکستان میں میرے قائد نوازشریف نے اجرا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ اور صاحب حیثیت کو اللہ نے جائز حلال وسائل دیئے ہیں، اشرافیہ اور صاحب حیثیت دنیا میں کہیں سے بھی علاج کراسکتے ہیں، غریب آدمی علاج کیلئے کہاں جائے گا؟ ہم نے سرکاری ہسپتالوں میں مفت سٹی سکین مشینیں لگائیں، ہم نے لیبارٹری ٹیسٹ پر بھی 10روپے فیس رکھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ غریب آدمی کا حق ہے کہ اس کی دہلیز پر تعلیم اور علاج مفت پہنچایا جائے، ایک منصف نے سازش کرکے پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، پی کے ایل آئی بننے سے پہلے مریض جگر کے علاج کیلئے ہندوستان جاتے تھے، گردے کی پیوند کاری کیلئے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، آج پی کے ایل آئی میں گردے کے امراض میں مبتلا مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، اب یہاں جناح میڈیکل سینٹرمیں مفت علاج ہوگا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 2011آپ کو یاد ہوگا 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، میں نے کہا تھا اندھیرے ختم کردیں گے ،اس بات پر بہت مذاق اڑایا گیا، نوازشریف کی قیادت میں 2013سے18تک ملک میں 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے منصوبے کی تعمیر کے ذمہ داروں کو کہا ہے مجھے یہ جناح میڈیکل سینٹرایک سال میں مکمل چاہیے، ایک سال بڑا چیلنجنگ ٹائم ہے، یہاں پر 24گھنٹے دن رات کام ہوگا، کل پاکستان کے شاندار آئی ٹی پارک کے دورے پر گیا تھا، ہدایت کی ہے آئی ٹی پارک کو ایک سال میں مکمل کریں، اس ہسپتال کیلئے جتنے وسائل چاہئیں ہم مہیا کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

ہمارا احتجاج ملک میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال،ناجائز طورپر جیلوں میں قید ہمارے رہنما اور مہنگائی کے خلاف ہے، اسد قیصر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ویڈیو پیغام میں پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان آئندہ جمعہ کو ملک گیراحتجاج کرے گی، ہمارے احتجاج کے تین اراض و مقاصد ہیں۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہمارا احتجاج ملک میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال اور حکومت کی ناکامی، دوسرا ناجائز طور پر عمران خان ، بشری بی بی اور ہمارے دیگر اسیران جیلوں میں ہیں اور ہمارے سوشل ورکر اور خاص طور پر سوشل میڈیا سے متعلقہ لوگوں کو ناجائز طور پر اٹھانے اور غائب کرنے کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا ہمارا احتجاج مہنگائی کے خلاف ہے جو انہوں نے بجٹ کے ذریعے غریب عوام پر قیامت برپا کی ہے۔ بجلی کی بلوں میں اضافہ کیا گیا ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے،بہت زیادہ ٹیکسز لگاے گئے ہیں جو ناقابل برداشت ہیں ۔تمام طبقے خواہ وہ کسان ہو ، طلباء ہو ، تاجر ہو یا مزدور ہم سب نے اس ملک کو بچانا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور یہ ایک سیاسی جماعت کے خلاف کریک ڈاون کر رہے ہیں ایم این ایز کو خریدنے کیلئے بڑی بڑی آفرز کر رہے ہیں ، لوگوں کو دبایا جا رہا ہے کہ اپنی وفاداری تبدیل کریں۔

اسد قیصر نے مزید کہا کہ انکو کوئی شرم و حیا نہیں ہے انہوں نے ہر صورت اقتدار سے چمٹنا ہے۔آپ لوگوں نے نکلنا ہے جمعہ کو تاریحی احتجاج کریں گے۔تمام سیاسی جماعتوں بلخصوص جی ڈی اے کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دیں گے۔

واضح رہے کہ 26 جولائی جمعہ کے روز ہی جماعت اسلامی پاکستان نے بھی مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج و دھرنے کی کال دے رکھی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے جبکہ سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے، گوہر اعجاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے  750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

سابق وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے ایک پاور پلانٹ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے۔

گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ میں نے ڈیٹا شیئر کرکے چالیس خاندانوں کے خلاف آواز اٹھائی کہ ان سے ملک کو بچایا جائے، حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے، سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام پاور پلانٹس 20 فیصد سے کم کپیسٹی پر چل رہے ہیں، ان آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں ہوچکی ہے اور بقایا 160 ارب روپے کی تصدیق ہورہی ہے، حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 150 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد سے کم ہے۔

سابق وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 140 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد ہے، ایک ایسے پاور پلانٹ کو 120 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 17 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہا ہے، حکومت 22 فیصد لوڈ پر چلنے والے پلانٹ کو 100 ارب روپے ادا کررہی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ حکومت تین پاور پلانٹس کو 370 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہے ہیں، حل صرف ایک ہی ہے" نو کپیسٹی پیمنٹس"، آئی پی پیز کو صرف بجلی کے پیداوار کی رقم ادا کی جائے، آئی پی پیز کے ساتھ بھی دیگر کاروبار کی طرح سلوک کیا جائے۔

گوہر اعجازکا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز میں 52 فیصد حکومت کے اور 28 فیصد پاکستانی پرائیویٹ سیکٹر کے ہیں ، ہم 60 روپے فی یونٹ ان کرپٹ معاہدوں کی وجہ سے ادا کرتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll