جی این این سوشل

دنیا

غزہ جنگ بند ی میں سب سے بڑی رکاوٹ حماس ہے ، امریکی صدر

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ جلد ہونے کا امکان نہیں ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

غزہ جنگ بند  ی میں سب سے بڑی رکاوٹ حماس ہے ،  امریکی صدر
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

امریکا کے صدر جوبائیڈن نے حماس کو غزہ جنگ بندی معاہدے میں واحد رکاوٹ قرار دے دیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے میڈیا سے گفتگو میں غزہ جنگ بندی معاہدے سے متعلق منصوبے پر حماس سے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ حماس ہے۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ جلد ہونے کا امکان نہیں ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے منصوبہ اور تجاویز پیش کی تھیں جنہیں سلامتی کونسل، جی سیون اور اسرائیل نے منظور کرلیا تاہم حماس نے دستخط کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی پر ہمت نہیں ہاری ہے تاہم یہ بہت مشکل ہوگا۔ حماس جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد اور غزہ میں قیدیوں کی رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

 

پاکستان

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

 جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

اسلام آباد جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ہم سب کو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالانا چاہیے، اسلام آباد میں آج جناح میڈیکل سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا ہے، یہ منصوبہ نوازشریف کی مخلوط حکومت کا تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر میں نرسنگ اسکول اور لیبارٹریز بنیں گی، غریب کا علاج 100 فیصد ہوگام، غریب کاحق ہےکہ صحت اورتعلیم کی سہولت ان کی دہلیز پر دی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی جدید ترین سہولیتیں اس ہسپتال میں ہوں گی، عوام کی ترقی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر موذی امراض کا سینٹر ہے، جب سے ہماری حکومت آئی پہلے دن سے اس پر کام شروع کیا، چیئرمین حبیب بینک،پرنس رحیم آغا خان کے صاحبزادے نے تمام تکنیکی معاونت دی ہے، امریکا میں ان کے کنسلٹنٹ سے میٹنگ ہوئی جنہوں نے آغا خان ہسپتال بنایا، پرنس رحیم آغا خان کی پاکستان سے والہانہ محبت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے کنسلٹنسی مفت دی ہے، اس ہسپتال کیلئے 600کنال زمین مختص کی گئی ہے، یہ وہی ماڈل ہے جس کا پورے پاکستان میں میرے قائد نوازشریف نے اجرا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ اور صاحب حیثیت کو اللہ نے جائز حلال وسائل دیئے ہیں، اشرافیہ اور صاحب حیثیت دنیا میں کہیں سے بھی علاج کراسکتے ہیں، غریب آدمی علاج کیلئے کہاں جائے گا؟ ہم نے سرکاری ہسپتالوں میں مفت سٹی سکین مشینیں لگائیں، ہم نے لیبارٹری ٹیسٹ پر بھی 10روپے فیس رکھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ غریب آدمی کا حق ہے کہ اس کی دہلیز پر تعلیم اور علاج مفت پہنچایا جائے، ایک منصف نے سازش کرکے پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، پی کے ایل آئی بننے سے پہلے مریض جگر کے علاج کیلئے ہندوستان جاتے تھے، گردے کی پیوند کاری کیلئے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، آج پی کے ایل آئی میں گردے کے امراض میں مبتلا مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، اب یہاں جناح میڈیکل سینٹرمیں مفت علاج ہوگا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 2011آپ کو یاد ہوگا 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، میں نے کہا تھا اندھیرے ختم کردیں گے ،اس بات پر بہت مذاق اڑایا گیا، نوازشریف کی قیادت میں 2013سے18تک ملک میں 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے منصوبے کی تعمیر کے ذمہ داروں کو کہا ہے مجھے یہ جناح میڈیکل سینٹرایک سال میں مکمل چاہیے، ایک سال بڑا چیلنجنگ ٹائم ہے، یہاں پر 24گھنٹے دن رات کام ہوگا، کل پاکستان کے شاندار آئی ٹی پارک کے دورے پر گیا تھا، ہدایت کی ہے آئی ٹی پارک کو ایک سال میں مکمل کریں، اس ہسپتال کیلئے جتنے وسائل چاہئیں ہم مہیا کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

توشہ خانہ ریفرنس، چھٹی کے روز بھی نیب کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے تفتیش

نیب ٹیم تفتیش سے متعلق پیشرفت رپورٹ کل عدالت پیش کرے گی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ ریفرنس، چھٹی کے روز بھی نیب کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے تفتیش

توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں قومی احتساب نیورو (نیب) کی ٹیم نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین، سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق خاتون اول بشری بی بی سے آج بھی تفتیش کر رہی ہے۔

نیب کی تفتیشی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر مستنصر کی سربراہی میں اس وقت اڈیالہ جیل میں موجود ہے، جو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے آج بھی تفتیش کررہی ہے۔

جیل ذرائع کے مطابق نیب ٹیم کا اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے تفتیش کا ساتواں روز ہے جبکہ نیب ٹیم تفتیش سے متعلق پیشرفت رپورٹ کل عدالت پیش کرے گی۔گزشتہ روز بھی نیب ٹیم نے تقریبا پونے گھنٹہ تک بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے تفتیش کی، ٹیم نے ملزمان سے توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے تفتیش کی تھی۔

دوران تفتیش عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تحفے میں ملنے والی بلگیری جیولری سیٹ سے متعلق بھی سوالات کیے گئے تھے۔نیب نے ملزمان کا احتساب عدالت سے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے، ملزمان کو 22 جولائی کو تفتیشی پیش رفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ عدالت پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ 13 جولائی کو عدت نکاح کیس میں بریت کے بعد قومی احتساب بیورو نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا تھا جبکہ ملزمان کا 14 جولائی کو اڈیالہ جیل میں جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون کی سربراہی میں نیب ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا تھا، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون اپنے پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کے لیے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کیا تھا، نوٹیفکیشن نیب آرڈیننس 1999 کی سیکشن 16 بی کے تحت جاری کیا گیا۔

اس میں بتایا گیا کہ امن امان کی صورت حال کے پیش نظر نیب عدالت اگر ضروری سمجھتی ہے تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کا ٹرائل جیل میں کرے۔

جیل ٹرائل نوٹیفکیشن سے متعلق سابق وزیر اعظم اور سابق خاتون اول کے وکلا کو آگاہ کردیا گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے کفایت شعاری پر عمل درآمد شروع

سردار ایاز صادق نے قائمہ کمیٹیوں کے سربراہان کو نئی گاڑیاں دینے سے انکار کرتے ہوئے نئی گاڑیاں خریدنے پابندی لگا دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے کفایت شعاری پر عمل درآمد شروع

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے کفایت شعاری پالیسی پرعملدرآمد شروع کردیا گیا۔

سردار ایاز صادق نے قائمہ کمیٹیوں کے سربراہان کو نئی گاڑیاں دینے سے انکار کردیا اور نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی لگا دی۔

قومی اسمبلی کے مانیٹائزیشن لینے والے افسران سے گاڑیاں واپس لینے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ مانیٹائزیشن لینے والے افسران قواعد کے مطابق اداٸیگی کرکے گاڑی استعمال کریں، افسران اور ایم این ایز پرانی سرکاری گاڑیوں کو بھی احتیاط سے چلاٸیں۔

سردار ایاز صادق نے اپنے لیے نئی گاڑی لینے سے بھی انکار کردیا جبکہ وہ بحثیت اسپیکر قومی اسمبلی 10 سال پرانی گاڑی استعمال کر رہے ہیں۔

اسپیکرقومی اسمبلی نے اپنا پروٹوکول انتہائی محدود کردیا، سردار ایاز صادق کا پروٹوکول 2 گاڑیوں پر مشتمل ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll