جی این این سوشل

دنیا

روس یوکرین جنگ میں امن عمل کے لیے کئی مشکل سمجھوتے کرنا ہوں گے،سعودی عرب

یوکرین کی جنگ میں قابل اعتبار امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے روس کی شرکت ضروری ہوگی، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل

پر شائع ہوا

کی طرف سے

روس یوکرین جنگ  میں امن عمل کے لیے کئی مشکل سمجھوتے کرنا ہوں گے،سعودی عرب
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ یوکرین امن عمل میں کئی مشکل سمجھوتے کرنے والی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوئٹزر لینڈ میں ایک کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا  یوکرین کی جنگ میں قابل اعتبار امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے روس کی شرکت ضروری ہوگی۔ اس عمل میں کئی مشکل سمجھوتے بھی کرنا ہوں گے۔ تاہم مملکت اس جنگ کے خاتمے لیے میں مدد کرنے کے لیے اپنی غیر معمولی کمٹمنٹ کا اعادہ کرتی ہے۔

 سعودی وزیر خارجہ نے کہا  یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری اس مقصد کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ سنجیدہ مذاکرات ممکن ہو سکیں۔ مگر سنجیدہ مذاکرات کے لیے کئی اہم سمجھوتے کرنا پڑیں گے۔ تبھی امن کے لیے ایک ' روڈ میپ ' کی تیاری ممکن ہو سکے گی۔

واضح رہے فروری 2022 سے جاری اس روس یوکرین جنگ میں سعودی عرب کو ایک اہم اور قائدانہ حیثیت کے حامل کے طور پر سوئٹزرلیینڈ کی اس کانفرنس میں ویک اینڈ پر موجود ہوگا۔ کانفرنس میں کئی عالمی رہنماؤں کی شرکت ہو گی۔

دنیا

فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف اسرائیلی پارلیمنٹ میں قرارداد منظور

قرارداد میں فلسطینی ریاست کے قیام کےخلاف 68 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ دیا جب کہ  9 اراکین نے قرار داد کی مخالفت کی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف اسرائیلی پارلیمنٹ میں قرارداد منظور

اسرائیلی پارلیمنٹ کینسیٹ نے فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کردیا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے دو ریاستی منصوبے کےخلاف قراردار منظور کی اور اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمنٹ نے ایسی قرارداد منظور کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق قرارداد میں فلسطینی ریاست کے قیام کےخلاف 68 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ دیا جب کہ  9 اراکین نے قرار داد کی مخالفت کی، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائرلپید کی پارٹی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

کینسیٹ کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کے وجود اور اسرائیلی شہریوں کے لیے خطرے کےطور پر رہے گی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق قرارداد سے اسرائیلی اور عرب ممالک میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کا دھچکا لگا ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں، عمر ایوب

غریب پہلے ہی مہنگائی میں پس رہے ہیں اور ملک میں افراط زر مزید اوپر جائے گی، رہنما پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں، عمر ایوب

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ پیٹرول اور بجلی بلوں میں اضافہ کسی بھی صورت قبول نہیں ہے، تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے اور رہے گی، اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں ، غریب پہلے ہی مہنگائی میں پس رہے ہیں اور ملک میں افراط زر مزید اوپر جائے گی۔

اڈیالہ جیل کے باہر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت میں عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں، حکومت کے لوگ صرف پیسے بنانے کےلیے آئے ہیں۔پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ حکومت کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ کرپشن ہے۔ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، حکومت گندم برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بیٹوں کی بات کرنا قانونی حق ہے۔ ہمارے لیڈر کو جیل میں ڈالا لیکن پارٹی نہیں ٹوٹی، پی ٹی آئی ایک پارٹی ہے اور رہے گی۔ ہم نے اسپیکر قومی اسمبلی کو تحریک استحقاق جمع کروا دی جس میں کہا گیا ہے ہم بانی تحریک انصاف کو ملنے اڈیالہ جیل 4 جولائی کو گئے اور ہم اڈیالہ جیل کے گیٹ پر ساڑھے چار گھنٹے انتظار کرتے رہے مگر ملاقات نہیں کروائی گئی۔

عمر ایوب کا کہنا تھا میں کئی بار اڈیالہ جیل جا چکا ہوں اکثر بانی تحریک انصاف سے ملاقات سے انکار کیا گیا جہاں مجھے اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کو بغیر کسی پنکھے اور پانی کے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ہم بطور ممبر قومی اسمبلی مطالبہ کیا کہ مذکورہ بالا سرکاری ملازمین کو استحقاق کمیٹی کے سامنے طلب کیا جائے اور تمام افسران سے پوچھا جائے کہ قومی اسمبلی کے ممبران کا استحقاق کیوں پامال کیا گیا؟ اور ان کے خلاف قواعد کے مطابق سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا

نسوار کا ایک پیکٹ میں 10روپے کا اضافہ کردیا گیا جو اب 30روپے میں دستیاب ہوگی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا

بجٹ میں جہاں اشیائے خورد ونوش ،ضروری استعمال کے دیگر چیزیں مہنگی کرکے عوام کو ہزار واٹ کے جھٹکے دیئے گئے وہی ایک اور جھٹکا ان سب چیزوں پر بھاری رہا ۔

خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا جس نے نسوار ڈالے بغیر اس کے بنانے اور استعمال کرنے والوں کو چکراکررکھ دیا، نسوار کا ایک پیکٹ میں 10روپے کا اضافہ کردیا گیا جو اب 30روپے میں دستیاب ہوگی ۔نسوار پر ٹیکس لگانے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم کہتے ہیں اس سے اگر ایک جانب صوبے کو مالی فائدہ ہوگا تو دوسری جانب نسوار استعمال کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے تاکہ اسکا استعمال کم ہو لوگ اس کے مضر اثرات سے محفوظ ہو جائے ۔

مشیر خزانہ کی منطق اپنی جگہ لیکن صوبہ بھر میں اس کاروبار سے بھی لاکھوں لوگ وابستہ جن کے کاروبار پر بھی انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ٹیکسوں تلے دھب کر اگر یہ کاروبار بھی ختم ہونے لگا تو ان لاکھوں لوگوں کو کیا ہوگا جو بے روزگار ہونگے ۔

ظہور شاہ پشاور پھندو روڈ پر ایک چھوٹے سے دکان میں نسوار بناتا ہے جن کا کہنا ہے ٹیکس لگنے کے بعد نسوار بنانے کےلئے پنجاب سے منگوائے جانے والے تمباکو کی قیمت میں 10سے 15ہزار روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے پہلے 60کلو کی ایک بوری 30ہزار میں خریدتے تھے تو اب اس کی قیمت 40سے 45ہزار روپے تک پہنچ گئی جبکہ نسوار بنانے والی مشین بجلی سے چلتی اور یہاں کام کرنے والوں کی مزدوری سمیت کل ملاکر 30روپے فی پیکٹ میں بھی اب گزارہ مشکل ہوگیا ہے جبکہ صوبائی ٹیکس اور انکم ٹیکس الگ مسئلہ ہے جس میں اب کاروبار چلانا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ریسرچ پیپر "نسوار (سموک لیس ٹوبیکو پراڈکٹ) ،اورل کینسر اینڈ ٹوبیکو کنٹرول ان خیبر پختونخوا  میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 13.3فیصد جبکہ خیبر پختونخوا کے کل آبادی کے 15 فیصد لوگ نسوار کے عادی ہیں ۔اس کے نقصانات کے بارے میں پیپر میں واضح لکھا گیا ہے کہ عام لوگوں کی نسبت نسوار استعمال کرنے والوں میں اورل کینسر کا رجحان 20 درجے زیادہ ہوتا ہے ،جبکہ اس کے زیادہ استعمال سے اورل کینسر خدشات میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ریسرچ پیپر کے مطابق اگر نسوار کا استعمال ترک کیا جائے تو صوبہ بھر میں اورل کینسر کے کیسز میں 70فیصد کمی واقع ہوجائے گی ۔

طبی ماہر ڈاکٹر شفیع اللہ کہتے ہیں یہ بات سچ ہے کہ نسوار کےمسلسل  استعمال سے منہ کا کینسر ہوسکتا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ  ہے نسوار کے تمام اجزاء بذات خود کینسر کے اسباب میں شامل ہے۔تمباکو میں کئی اقسام کے کیمیکل موجود ہے اسی نسوار میں چونا اور راکھ بھی استعمال ہوتا ہے جس میں بھی مختلف اقسام کے خطرناک جراثیم موجود ہوتے ہیں ۔نسوار کے مسلسل استعمال سے منہ کے اندرونی عضلات متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں  اور آخر کار قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے جس کی وجہ کینسر کے جراثیم طاقتور ہوکر اپنا کام شروع کردیتے ہیں ۔

اگر طبی ماہرین نسوار کو ترک کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو صوبائی مشیر خزانہ کے منطق کو  بھی اپنی جگہ درست مانا جاسکتا ہے کہ ٹیکس لگنے سے شائد استعمال کرنے والوں کو نسوار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے تاہم اس کے نقصانات سے بے خبر سالوں سے نسوار استعمال کرنے والے شہریوں نے نسوار مہنگا ہونے کے باوجود استعمال ترک کی بجائے مزید بڑھا دی ہے کہتے ہیں یہ تو ہمارا پرانا نشتہ چاہئے قیمت جو بھی ہو ترک نہیں کرینگے بلکہ اب تو استعمال اور بھی بڑھ گیا ہے 

ادھیڑ عمر نور محمد جو محنت مزدوری کرتا ہے عرصےبیس سال  سے نسوار استعمال کر رہا ہے کہتا اس کا اپنا ایک نشہ ہے ۔نسوار کے پیکٹ کی قیمت میں 10روپے اضافہ ہوگیا ہے لیکن ہم نے بھی استعمال مزید بڑھا دی ہےپہلے ایک پیکٹ روزانہ استعمال کرتے تھے اب دو پیکٹ کا استعمال ہو رہا ہے ہاں اگر کوئی مفت مانگے تو انکی طرف پرانا پیکٹ آگے بڑھا دیتے اس تاکید کے ساتھ کہ مہنگے ہیں زیادہ استعمال نہ کرو ۔

پختونوں  میں نسوار استعمال کرنے کی روایت بہت ہی پرانی ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا نسوار کے اقسام اور استعمال میں بھی اضافہ ہوتا گیا ۔تاہم افغان مہاجرین نے  پاکستان آمد کے ساتھ خشک نسوار کی ایک قسم یہاں متعارف کرائی ۔اس وقت صوبے کے مختلف علاقوں میں استعمال ہونے والے نسوار کی 30اقسام ہے جس میں بہت سے اب برانڈ بن گئے جو پاکستان سے خلیجی ممالک بھی بھجوائے جاتے ہیں ۔ریمنڈ ڈیوس کے مشہور واقعہ میں انوسٹیگیشن کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے چارسدہ کے باچا نسوار کے مالک سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی کیونکہ ریمنڈ ڈیوس کے سامان سے باچا نسوار کا پیکٹ برآمد ہوا تھا اورا سی بنیاد پرنسوار بنانے والے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی 

نسوار کے استعمال کو طبی ماہرین بھی مضر صحت قرار دے رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے ٹیکس لگا کر یہ منطق اختیار کی ہے کہ اس کے  استعمال میں کمی آئی گی جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ کبھی نسوار کا استعمال ترک نہیں کرینگے ۔اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔

(تحریر جی این این رپورٹر سید کامران علی شاہ)

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll