جی این این سوشل

علاقائی

پنجاب کے ہر ضلع میں“مریم کی دستک“ موبائل ایپلی کیشن سروسز شروع کرنے کا حکم

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں دستک پراجیکٹ میں توسیع کی منظوری دی گئی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پنجاب کے ہر ضلع میں“مریم کی دستک“ موبائل ایپلی کیشن سروسز  شروع کرنے کا حکم
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہرضلع میں“مریم کی دستک“ موبائل ایپلی کیشن کی 65 سروسز شروع کرنے کا حکم دے دیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں دستک پراجیکٹ میں توسیع کی منظوری دی گئی۔ مریم نواز نے پنجاب کے تمام اضلاع میں ”مریم کی دستک“ سروسز دسمبر تک مہیا کر نے کی ہدایت کردی۔ لاہور میں“ مریم کی دستک“ کی سروسز 40 تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

علاوہ ازیں اگست میں لاہور میں“مریم کی دستک “سروسز 65 تک پہنچ جائیگی۔ چیئرمین پی آئی ٹی بی نے مریم کی دستک پراجیکٹ توسیع پر بریفننگ دی۔

اجلاس میں دستک موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے شہریوں کو ملنے والی سروسز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی دستک ایپ پر سروسز کی مزید بہتری کی ہدایت کردی۔

پاکستان

پی ٹی آئی رہنماء رؤف حسن 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

عدالت نے تحریک انصاف کے دیگر کارکنان کو بھی 2 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی رہنماء رؤف حسن 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے تحریک انصاف کےمرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے تحریک انصاف کے دیگر کارکنان کو بھی 2 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ آج رؤف حسن و دیگر ورکرز کو جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

سماعت کے آغاز پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پراسیکیوٹر نے استدعا کی ہمیں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈیوائسز کی ریکوری کرنی ہے جس کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

وکیل تحریک انصاف لطیف کھوسہ نے استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا آفس سیل کردیا تھا، ہائی کورٹ میں کیس ہے، فل کورٹ کے 11 ججز نے کہا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور رہے گی، سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہا ہے جبکہ حکومت تحریک انصاف کو دہشتگرد قرار دے رہی ہے۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ ماضی میں بینظیر بھٹو، ذوالفقار بھٹو، فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا، عمران خان کو غدار کہا جارہ ہے مگر کسی کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا حق نہیں، حکومت تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہے۔

وکیل لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ رؤف حسن کا میڈیا سیل سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، مخصوص نشستوں کی امیدوار خواتین تھیں انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا، تحریک انصاف پر پریشر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، اب نظریں عدلیہ پر ہیں کہ کیا انصاف کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں؟

اس موقع پر وکیل صفائی لطیف کھوسہ نے رؤف حسن کے خلاف درج مقدمہ کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کردی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشتگردی کا ایک نیا لفظ متعارف کروا دیا گیا ہے اور ڈیجیٹل دہشتگردی کا لفظ اب تحریک انصاف پر مسلّط کرنے لگے ہیں، تحریک انصاف کے لاہور اور اسلام آباد میں سینٹرل دفاتر سیل ہیں، اب رؤف حسن کو ڈیجیٹل دہشتگردی میں ملوث کرنے کی کوشش کررہے۔

انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار تحریک انصاف کا تمام ریکارڈ لے گئے ہیں، الیکشن کمیشن میں آج سماعت تھی مگر ہمارے امیدواروں کا ریکارڈ لے گئے ہیں۔

اس موقع پر رؤف حسن کے خلاف درج مقدمہ کی کاپی پی ٹی آئی وکلا کو فراہم کردی گئیں۔

وکیل علی بخاری نے روسٹرم پر آکر بتایا کہ مقدمے میں تحریر شدہ وقت پر وقوعہ ہوا ہی نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک ملزم کے کہنے پر مقدمے میں رؤف حسن کو نامزد کیا گیا، تحریک انصاف کے گرفتار کارکنان کی ڈیوائسزز، موبائل ایف آئی اے کے پاس ہیں، واٹر چلر بھی تحریک انصاف کے دفتر سے اٹھا کر لے گئے ہیں، ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے بھارت نے حملہ کردیا اور سب کچھ ساتھ لے گئے۔

لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ رہا ہونے والے تحریک انصاف کے کارکنان کو خالی ہاتھ چھوڑا گیا ہے۔

بعد ازاں ایف آئی اے نے رؤف حسن کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی جبکہ وکیل صفائی نے رؤف حسن و دیگر کارکنان کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی۔

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کرنے کا کبھی کسی سیکیورٹی ایجنسی نے تحریک انصاف کے خلاف مؤقف اختیار نہیں کیا، تحریک انصاف اور عمران خان سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں،وکیل صفائی علی بخاری نے کہا کہ رؤف حسن کا سوشل میڈیا سے کوئی تعلق ہی نہیں، تحریک انصاف کا کیا اسٹیٹس ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی ایسا سوال نہیں بنتا، روف حسن کو اغوا کیا گیا، قاتلانہ حملہ بھی حال ہی میں کیا گیا۔

وکیل نے بتایا کہ رؤف حسن کینسر کے مریض رہ چکے ہیں، ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، ایف آئی اے نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیا تفتیش کی؟ کچھ بھی نہیں۔

وکیل صفائی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب کوئی ثبوت ہی نہیں تو 10 دن کا ریمانڈ مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا موبائل فون استعمال کرنا جرم ہے؟ کیا رؤف حسن نے کچھ ٹویٹ کیا؟ رؤف حسن سے کوئی بم برآمد نہیں ہونا، سوشل میڈیا کی بات ہورہی، سب کو معلوم ہے کیس کی کیا حیثیت ہے، صرف ذلیل کرنا مقصد ہے۔

بعدازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے رؤف حسن کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا، دیگر تحریک انصاف کے مرد کارکنان کا بھی 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ سے گرفتار کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

پنجاب حکومت کی لاہور میں ٹرام سروس شروع کرنے کی منظوری

ٹرام سروس لبرٹی، مین مارکیٹ، منی مارکیٹ اور ہال روڈ کے علاقوں میں چلائی جائے گی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب حکومت کی لاہور میں ٹرام سروس شروع کرنے کی منظوری

لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور شہر میں ٹرام سروس شروع کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کی خوبصورتی کو بڑھانا اور شہریوں کو ایک جدید اور آرام دہ ٹرانسپورٹ سسٹم فراہم کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، معاون خصوصی برائے سیاسی امور ذیشان ملک، چیف سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری، اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق  ٹرام سروس لبرٹی، مین مارکیٹ، منی مارکیٹ اور ہال روڈ کے علاقوں میں چلائی جائے گی۔ ٹرام کل 11 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی اور اس کے راستے پر ہر ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سٹاپ موجود ہوگا۔

یہ منصوبہ چین اور فن لینڈ کی طرز پر بنایا جائے گا۔ ٹرام سروس نہ صرف شہر کی خوبصورتی کو بڑھانے میں مدد کرے گی بلکہ شہریوں کو ایک سستا اور آسان ٹرانسپورٹ سسٹم بھی فراہم کرے گی۔

ٹرام سروس کے لیے ایم ایم عالم روڈ کو تبدیل کیا جائے گا اور سڑک پر ٹائلیں بھی استعمال کی جائیں گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

این ٹی ڈی سی کا 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ پر وضاحتی بیان

حیسکو ریجن میں 12گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی وجہ صرف این ٹی ڈی سی کو قرار دینا درست نہیں:ترجمان 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

این ٹی ڈی سی کا 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ پر وضاحتی بیان

لاہور:نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ترجمان نے 22 جولائی کو حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے علاقوں میں بجلی کی حالیہ طویل بندش کے بارے میں وضاحت کی ہے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق حیسکو ریجن میں اضافی لوڈ مینجمنٹ کے اقدامات نیپرا گرڈ کوڈ 2023 کے مطابق کیے گئے۔ یہ اقدامات 21 جولائی بروز ہفتہ اور 22 جولائی بروز اتوار کی درمیانی شب پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کیے گئے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی نے زور دے کر کہا کہ 12 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کوصرف این ٹی ڈی سی سے منسوب کرنے کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی تھا اور یہ صورتحال کی درست وضاحت نہیں تھی۔

ترجمان نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ گھارو اور جھمپیر ونڈ کلسٹرز میں واقع 36 ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی تھی۔ یہ ونڈ فارمز 1,845 میگاواٹ کی مشترکہ پیداواری استعداد کے ساتھ این ٹی ڈی سی کے 500 کے وی جامشورو گرڈ سٹیشن کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ ہوا کی غیر معمولی طور پر کم رفتار کے نتیجے میں ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں جامشورو گرڈ سٹیشن کے ٹرانسفارمرز پر بہت زیادہ بوجھ پڑا۔

اہم آلات کی حفاظت کی کوشش میں این ٹی ڈی سی نے اضافی لوڈ شیڈنگ کیلئے حیسکو حکام کے ساتھ رابطہ کیا تاہم اتوار کی صبح تک ہوا کی رفتار معمول پر آ گئی جس کے بعد بجلی کی پیداوار بڑھنے پر حیسکو کے علاقوںمیں اضافی لوڈ شیڈنگ کی ضرورت نہیں رہی۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا اصل دورانیہ 12 گھنٹے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھا۔ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق 4 گھنٹے تک تقریباً 75 میگاواٹ اور 6 گھنٹے تک 142 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا جس کے نتیجے میں حیسکو کی جانب سے مختلف 11 کے وی فیڈرز پر اوسطاً ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll