جی این این سوشل

تجارت

پاکستان بزنس کونسل کے  وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ٹیکس بیس کو بڑھانے او رریٹیلز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ایف بی آر کی کوششوں پر روشنی ڈالی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان بزنس کونسل کے  وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان بزنس کونسل کے  وفد نے آج اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔

وفد نے حکومت کی کوششوں کو سراہا اور وزیر خزانہ کے ساتھ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر گفتگو کی۔ انہوں نے مخصوص تجاویز اور ٹیکس کے حوالے سے مشورے بھی زیر غور لانے کیلئے پیش کئے۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ٹیکس بیس کو بڑھانے او رریٹیلز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ایف بی آر کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوام اور تاجر برادری کے مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے باہمی مشاورت سے فیصلے کئے جائیں گے۔

پاکستان

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا، مقبول باقر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم کے بعد جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی۔

سابق نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا۔ ایڈہاک جج بننا قانونی عمل ہے اس میں کوئی عیب نہیں۔

واضح رہے کہ 16 جولائی کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم نے ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی، اپنے فیصلے سے جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کردیا۔

سابق جسٹس مشیر عالم نے جوڈیشل کمیشن کے نام خط میں لکھا تھا کہ اللہ نے انھیں ان کی حیثیت سے زیادہ عزت دی ہے، ایڈہاک جج کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر جو مہم شروع کی گئی، اس سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔ وہ موجودہ حالات میں بطور ایڈہاک جج کام کرنے سے معذرت چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے 4 ریٹائرڈ ججز کے نام تجویز کیے تھے، ان ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم کا نام بھی شامل تھا، دیگر ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ طارق مسعود کے نام شامل ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 19 جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

شہباز حکومت 18 ماہ چلے گی، فچ کی پیشگوئی

 پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے، رپورٹ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شہباز حکومت 18 ماہ چلے گی، فچ کی پیشگوئی

معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے پاکستان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے اور پاکستان کی موجودہ مسلم لیگی حکومت 18 ماہ تک برقرار رہے گی۔

فچ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کی شرح کم ہوسکتی ہے اور رواں مالی سال کے اختتام تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے شرح سود میں کمی کی توقع ہے۔

فچ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو 14فیصد لائے، حکومت پاکستان نے بجٹ میں مشکل ترین معاشی اہداف مقرر کیے ہیں، حکومت پاکستان مالیاتی خسارہ 7.4 سےکم کرکے 6.7 فیصد پر لانا چاہتی ہے۔

فچ رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کے مشکل معاشی فیصلےآئی ایم ایف کےساتھ پروگرام کی راہ ہموارکررہےہیں، پاکستان کی معیشت کے لیے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ معاشی رسک ہے، پاکستان کی زراعت کے لیے سیلاب اور خشک سالی معاشی رسک ہے۔

فچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے فروری کے الیکشن میں آزاد امیدواروں کو بڑی کامیابی ملی، جیتے والے آزاد امیدوار کو جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی، پاکستان کے شہروں میں مظاہرے معاشی سرگرمیاں متاثر کر سکتے ہیں۔

فچ نے پیش گوئی کی کہ بانی پی ٹی آئی مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے اور پاکستان کی موجودہ مسلم لیگی حکومت 18 ماہ تک برقرار رہے گی۔

فچ نے مزید کی پیش گوئی کی کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر ساری معاشی اصلاحات کرے گی اور موجودہ حکومت ختم ہوئی پاکستان میں ٹیکنوکریٹ کی حکومت آئے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہا تھا کہ نئے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) پروگرام سے پاکستان کےلیے فنڈنگ کے امکانات میں بہتری آئے گی۔

موڈیز کے مطابق پاکستان کی بیرونی پوزیشن اب بھی نازک ہے، بلند بیرونی مالیاتی ضروریات کے ساتھ اگلے 3 سے 5سال پالیسیوں میں مشکلات درپیش ہونگی، کمزور گورننس اور اعلیٰ سماجی تناؤ حکومت کی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا

نسوار کا ایک پیکٹ میں 10روپے کا اضافہ کردیا گیا جو اب 30روپے میں دستیاب ہوگی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا

بجٹ میں جہاں اشیائے خورد ونوش ،ضروری استعمال کے دیگر چیزیں مہنگی کرکے عوام کو ہزار واٹ کے جھٹکے دیئے گئے وہی ایک اور جھٹکا ان سب چیزوں پر بھاری رہا ۔

خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا جس نے نسوار ڈالے بغیر اس کے بنانے اور استعمال کرنے والوں کو چکراکررکھ دیا، نسوار کا ایک پیکٹ میں 10روپے کا اضافہ کردیا گیا جو اب 30روپے میں دستیاب ہوگی ۔نسوار پر ٹیکس لگانے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم کہتے ہیں اس سے اگر ایک جانب صوبے کو مالی فائدہ ہوگا تو دوسری جانب نسوار استعمال کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے تاکہ اسکا استعمال کم ہو لوگ اس کے مضر اثرات سے محفوظ ہو جائے ۔

مشیر خزانہ کی منطق اپنی جگہ لیکن صوبہ بھر میں اس کاروبار سے بھی لاکھوں لوگ وابستہ جن کے کاروبار پر بھی انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ٹیکسوں تلے دھب کر اگر یہ کاروبار بھی ختم ہونے لگا تو ان لاکھوں لوگوں کو کیا ہوگا جو بے روزگار ہونگے ۔

ظہور شاہ پشاور پھندو روڈ پر ایک چھوٹے سے دکان میں نسوار بناتا ہے جن کا کہنا ہے ٹیکس لگنے کے بعد نسوار بنانے کےلئے پنجاب سے منگوائے جانے والے تمباکو کی قیمت میں 10سے 15ہزار روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے پہلے 60کلو کی ایک بوری 30ہزار میں خریدتے تھے تو اب اس کی قیمت 40سے 45ہزار روپے تک پہنچ گئی جبکہ نسوار بنانے والی مشین بجلی سے چلتی اور یہاں کام کرنے والوں کی مزدوری سمیت کل ملاکر 30روپے فی پیکٹ میں بھی اب گزارہ مشکل ہوگیا ہے جبکہ صوبائی ٹیکس اور انکم ٹیکس الگ مسئلہ ہے جس میں اب کاروبار چلانا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ریسرچ پیپر "نسوار (سموک لیس ٹوبیکو پراڈکٹ) ،اورل کینسر اینڈ ٹوبیکو کنٹرول ان خیبر پختونخوا  میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 13.3فیصد جبکہ خیبر پختونخوا کے کل آبادی کے 15 فیصد لوگ نسوار کے عادی ہیں ۔اس کے نقصانات کے بارے میں پیپر میں واضح لکھا گیا ہے کہ عام لوگوں کی نسبت نسوار استعمال کرنے والوں میں اورل کینسر کا رجحان 20 درجے زیادہ ہوتا ہے ،جبکہ اس کے زیادہ استعمال سے اورل کینسر خدشات میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ریسرچ پیپر کے مطابق اگر نسوار کا استعمال ترک کیا جائے تو صوبہ بھر میں اورل کینسر کے کیسز میں 70فیصد کمی واقع ہوجائے گی ۔

طبی ماہر ڈاکٹر شفیع اللہ کہتے ہیں یہ بات سچ ہے کہ نسوار کےمسلسل  استعمال سے منہ کا کینسر ہوسکتا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ  ہے نسوار کے تمام اجزاء بذات خود کینسر کے اسباب میں شامل ہے۔تمباکو میں کئی اقسام کے کیمیکل موجود ہے اسی نسوار میں چونا اور راکھ بھی استعمال ہوتا ہے جس میں بھی مختلف اقسام کے خطرناک جراثیم موجود ہوتے ہیں ۔نسوار کے مسلسل استعمال سے منہ کے اندرونی عضلات متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں  اور آخر کار قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے جس کی وجہ کینسر کے جراثیم طاقتور ہوکر اپنا کام شروع کردیتے ہیں ۔

اگر طبی ماہرین نسوار کو ترک کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو صوبائی مشیر خزانہ کے منطق کو  بھی اپنی جگہ درست مانا جاسکتا ہے کہ ٹیکس لگنے سے شائد استعمال کرنے والوں کو نسوار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے تاہم اس کے نقصانات سے بے خبر سالوں سے نسوار استعمال کرنے والے شہریوں نے نسوار مہنگا ہونے کے باوجود استعمال ترک کی بجائے مزید بڑھا دی ہے کہتے ہیں یہ تو ہمارا پرانا نشتہ چاہئے قیمت جو بھی ہو ترک نہیں کرینگے بلکہ اب تو استعمال اور بھی بڑھ گیا ہے 

ادھیڑ عمر نور محمد جو محنت مزدوری کرتا ہے عرصےبیس سال  سے نسوار استعمال کر رہا ہے کہتا اس کا اپنا ایک نشہ ہے ۔نسوار کے پیکٹ کی قیمت میں 10روپے اضافہ ہوگیا ہے لیکن ہم نے بھی استعمال مزید بڑھا دی ہےپہلے ایک پیکٹ روزانہ استعمال کرتے تھے اب دو پیکٹ کا استعمال ہو رہا ہے ہاں اگر کوئی مفت مانگے تو انکی طرف پرانا پیکٹ آگے بڑھا دیتے اس تاکید کے ساتھ کہ مہنگے ہیں زیادہ استعمال نہ کرو ۔

پختونوں  میں نسوار استعمال کرنے کی روایت بہت ہی پرانی ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا نسوار کے اقسام اور استعمال میں بھی اضافہ ہوتا گیا ۔تاہم افغان مہاجرین نے  پاکستان آمد کے ساتھ خشک نسوار کی ایک قسم یہاں متعارف کرائی ۔اس وقت صوبے کے مختلف علاقوں میں استعمال ہونے والے نسوار کی 30اقسام ہے جس میں بہت سے اب برانڈ بن گئے جو پاکستان سے خلیجی ممالک بھی بھجوائے جاتے ہیں ۔ریمنڈ ڈیوس کے مشہور واقعہ میں انوسٹیگیشن کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے چارسدہ کے باچا نسوار کے مالک سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی کیونکہ ریمنڈ ڈیوس کے سامان سے باچا نسوار کا پیکٹ برآمد ہوا تھا اورا سی بنیاد پرنسوار بنانے والے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی 

نسوار کے استعمال کو طبی ماہرین بھی مضر صحت قرار دے رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے ٹیکس لگا کر یہ منطق اختیار کی ہے کہ اس کے  استعمال میں کمی آئی گی جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ کبھی نسوار کا استعمال ترک نہیں کرینگے ۔اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔

(تحریر جی این این رپورٹر سید کامران علی شاہ)

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll