جی این این سوشل

جرم

لاہور بورڈ کے مارکنگ سینٹر سے امتحانی پرچوں کا بنڈل مبینہ طور پر غائب

میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکنگ سینٹر سے سوشیالوجی پارٹ ون کے پیپرز کا بنڈل غائب ہوگیا جس میں 52 طلبہ کے پیپرز تھے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

لاہور بورڈ  کے مارکنگ سینٹر سے امتحانی پرچوں کا بنڈل مبینہ طور پر غائب
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

لاہور: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) لاہور کے مارکنگ سینٹر سے امتحانی پرچوں کا بنڈل مبینہ طور پر غائب کردیا گیا ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکنگ سینٹر سے سوشیالوجی پارٹ ون کے پیپرز کا بنڈل غائب ہوگیا جس میں 52 طلبہ کے پیپرز تھے۔


یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دو روز قبل امتحانی پرچے غائب ہونے کی شکایت سامنے آئی تھی، جس کی انکوائری کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بنڈل کی چوری نے محکمہ امتحانات کی رازداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


دوسری جانب پنجاب ٹیچرز یونین کا کہنا ہے کہ اساتذہ نے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تحقیقات کے لیے محکمہ تعلیم کے باہر سے انکوائری افسر تعینات کیا جائے۔

تجارت

سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

ملک میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو 2 لاکھ 54 ہزار روپے پر پہنچ گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

 سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہ ہوگیا

ملک میں آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 4 ہزار 600 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ قیمت ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی۔

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 4600 روپے مہنگا ہو 2 لاکھ 54 ہزار روپے جبکہ 10 گرام سونا3944 روپے  کے اضافے سے 2 لاکھ 17 ہزار 764 روپے ہو گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کا مزید کہنا ہے کہ عالمی بازار میں فی اونس سونے کی قیمت 60 ڈالر بڑھ کر 2450 ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔

سونے کی قیمتوں میں اضافے کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 2900 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2486.28 روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

شہباز حکومت 18 ماہ چلے گی، فچ کی پیشگوئی

 پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے، رپورٹ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شہباز حکومت 18 ماہ چلے گی، فچ کی پیشگوئی

معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے پاکستان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے اور پاکستان کی موجودہ مسلم لیگی حکومت 18 ماہ تک برقرار رہے گی۔

فچ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کی شرح کم ہوسکتی ہے اور رواں مالی سال کے اختتام تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے شرح سود میں کمی کی توقع ہے۔

فچ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو 14فیصد لائے، حکومت پاکستان نے بجٹ میں مشکل ترین معاشی اہداف مقرر کیے ہیں، حکومت پاکستان مالیاتی خسارہ 7.4 سےکم کرکے 6.7 فیصد پر لانا چاہتی ہے۔

فچ رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کے مشکل معاشی فیصلےآئی ایم ایف کےساتھ پروگرام کی راہ ہموارکررہےہیں، پاکستان کی معیشت کے لیے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ معاشی رسک ہے، پاکستان کی زراعت کے لیے سیلاب اور خشک سالی معاشی رسک ہے۔

فچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے فروری کے الیکشن میں آزاد امیدواروں کو بڑی کامیابی ملی، جیتے والے آزاد امیدوار کو جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی، پاکستان کے شہروں میں مظاہرے معاشی سرگرمیاں متاثر کر سکتے ہیں۔

فچ نے پیش گوئی کی کہ بانی پی ٹی آئی مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے اور پاکستان کی موجودہ مسلم لیگی حکومت 18 ماہ تک برقرار رہے گی۔

فچ نے مزید کی پیش گوئی کی کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر ساری معاشی اصلاحات کرے گی اور موجودہ حکومت ختم ہوئی پاکستان میں ٹیکنوکریٹ کی حکومت آئے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہا تھا کہ نئے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) پروگرام سے پاکستان کےلیے فنڈنگ کے امکانات میں بہتری آئے گی۔

موڈیز کے مطابق پاکستان کی بیرونی پوزیشن اب بھی نازک ہے، بلند بیرونی مالیاتی ضروریات کے ساتھ اگلے 3 سے 5سال پالیسیوں میں مشکلات درپیش ہونگی، کمزور گورننس اور اعلیٰ سماجی تناؤ حکومت کی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر حلف لینے والے ممبران کا عدالت جانے کا فیصلہ

ہمیں سنے بغیر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا، ممبران کا موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر حلف لینے والے ممبران کا  عدالت جانے کا فیصلہ

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر حلف لینے والے ممبران نے ذاتی طور پر عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس سے قبل ان ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو حلف لینے کے بعد سپریم کورٹ نے معطل کردیا تھا۔

مخصوص نشستوں پر منتخب نمائندے،  جنہوں نے مسلم لیگ ن، پی پی پی، ایم کیو ایم-پی، جے یو آئی-ایف اور دوسری جماعتوں کی سفارشات پر حلف اٹھایا تھا اور اب سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی وجہ سے انہیں نکالے جانے کا سامنا ہے، نے اس کے خلاف اپیلٹ کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

یہ ممبران علیحدہ علیحدہ سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کریں گے جس میں ممبران موقف اپنائیں گے کہ ان کو سنے بغیر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا۔ ان ممبران نے رٹ پٹیشن کے مندرجات پر مشاورت مکمل کرلی ہے اور ان اراکین کو رٹ پٹیشن دائر کرنے کا حکم سیاسی پارٹیوں نے دیا۔

بظاہر ممبران ذاتی طور پر رٹ دائر کریں گے لیکن پارٹیوں کی در پردہ حمایت حاصل ہوگی، یہ رٹ پٹیشن آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا اور مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll