جی این این سوشل

پاکستان

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، جسٹس بابر ستار

پر شائع ہوا

کی طرف سے

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس بابرستار نے کہا ہے کہ صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کررہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منوراقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ لائیو کال کو مانیٹر کرسکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 2013 میں نئی پالیسی آئی، وزارتِ داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ضرورت پڑنے پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارتِ داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، وزارتِ داخلہ کے ایک سیکشن افسر نے ایس او پی جاری کردیا اور سیکشن افسر کے ایس او پی کے تحت آپ ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ اُن میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کام کرنے کیا میکانزم ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، جس پر پولیس وکیل نے کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جستس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟

ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے پوچھا کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے۔

وکیل ٹیلی کام کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابتآڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

پاکستان

پی ٹی آئی رہنماء رؤف حسن 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

عدالت نے تحریک انصاف کے دیگر کارکنان کو بھی 2 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی رہنماء رؤف حسن 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے تحریک انصاف کےمرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے تحریک انصاف کے دیگر کارکنان کو بھی 2 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ آج رؤف حسن و دیگر ورکرز کو جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

سماعت کے آغاز پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پراسیکیوٹر نے استدعا کی ہمیں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈیوائسز کی ریکوری کرنی ہے جس کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

وکیل تحریک انصاف لطیف کھوسہ نے استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا آفس سیل کردیا تھا، ہائی کورٹ میں کیس ہے، فل کورٹ کے 11 ججز نے کہا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور رہے گی، سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہا ہے جبکہ حکومت تحریک انصاف کو دہشتگرد قرار دے رہی ہے۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ ماضی میں بینظیر بھٹو، ذوالفقار بھٹو، فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا، عمران خان کو غدار کہا جارہ ہے مگر کسی کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا حق نہیں، حکومت تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہے۔

وکیل لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ رؤف حسن کا میڈیا سیل سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، مخصوص نشستوں کی امیدوار خواتین تھیں انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا، تحریک انصاف پر پریشر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، اب نظریں عدلیہ پر ہیں کہ کیا انصاف کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں؟

اس موقع پر وکیل صفائی لطیف کھوسہ نے رؤف حسن کے خلاف درج مقدمہ کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کردی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشتگردی کا ایک نیا لفظ متعارف کروا دیا گیا ہے اور ڈیجیٹل دہشتگردی کا لفظ اب تحریک انصاف پر مسلّط کرنے لگے ہیں، تحریک انصاف کے لاہور اور اسلام آباد میں سینٹرل دفاتر سیل ہیں، اب رؤف حسن کو ڈیجیٹل دہشتگردی میں ملوث کرنے کی کوشش کررہے۔

انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار تحریک انصاف کا تمام ریکارڈ لے گئے ہیں، الیکشن کمیشن میں آج سماعت تھی مگر ہمارے امیدواروں کا ریکارڈ لے گئے ہیں۔

اس موقع پر رؤف حسن کے خلاف درج مقدمہ کی کاپی پی ٹی آئی وکلا کو فراہم کردی گئیں۔

وکیل علی بخاری نے روسٹرم پر آکر بتایا کہ مقدمے میں تحریر شدہ وقت پر وقوعہ ہوا ہی نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک ملزم کے کہنے پر مقدمے میں رؤف حسن کو نامزد کیا گیا، تحریک انصاف کے گرفتار کارکنان کی ڈیوائسزز، موبائل ایف آئی اے کے پاس ہیں، واٹر چلر بھی تحریک انصاف کے دفتر سے اٹھا کر لے گئے ہیں، ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے بھارت نے حملہ کردیا اور سب کچھ ساتھ لے گئے۔

لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ رہا ہونے والے تحریک انصاف کے کارکنان کو خالی ہاتھ چھوڑا گیا ہے۔

بعد ازاں ایف آئی اے نے رؤف حسن کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی جبکہ وکیل صفائی نے رؤف حسن و دیگر کارکنان کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی۔

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کرنے کا کبھی کسی سیکیورٹی ایجنسی نے تحریک انصاف کے خلاف مؤقف اختیار نہیں کیا، تحریک انصاف اور عمران خان سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں،وکیل صفائی علی بخاری نے کہا کہ رؤف حسن کا سوشل میڈیا سے کوئی تعلق ہی نہیں، تحریک انصاف کا کیا اسٹیٹس ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی ایسا سوال نہیں بنتا، روف حسن کو اغوا کیا گیا، قاتلانہ حملہ بھی حال ہی میں کیا گیا۔

وکیل نے بتایا کہ رؤف حسن کینسر کے مریض رہ چکے ہیں، ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، ایف آئی اے نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیا تفتیش کی؟ کچھ بھی نہیں۔

وکیل صفائی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب کوئی ثبوت ہی نہیں تو 10 دن کا ریمانڈ مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا موبائل فون استعمال کرنا جرم ہے؟ کیا رؤف حسن نے کچھ ٹویٹ کیا؟ رؤف حسن سے کوئی بم برآمد نہیں ہونا، سوشل میڈیا کی بات ہورہی، سب کو معلوم ہے کیس کی کیا حیثیت ہے، صرف ذلیل کرنا مقصد ہے۔

بعدازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے رؤف حسن کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا، دیگر تحریک انصاف کے مرد کارکنان کا بھی 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا جبکہ 2 خواتین کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ سے گرفتار کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

این ٹی ڈی سی کا 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ پر وضاحتی بیان

حیسکو ریجن میں 12گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی وجہ صرف این ٹی ڈی سی کو قرار دینا درست نہیں:ترجمان 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

این ٹی ڈی سی کا 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ پر وضاحتی بیان

لاہور:نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ترجمان نے 22 جولائی کو حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے علاقوں میں بجلی کی حالیہ طویل بندش کے بارے میں وضاحت کی ہے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق حیسکو ریجن میں اضافی لوڈ مینجمنٹ کے اقدامات نیپرا گرڈ کوڈ 2023 کے مطابق کیے گئے۔ یہ اقدامات 21 جولائی بروز ہفتہ اور 22 جولائی بروز اتوار کی درمیانی شب پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کیے گئے۔

ترجمان این ٹی ڈی سی نے زور دے کر کہا کہ 12 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کوصرف این ٹی ڈی سی سے منسوب کرنے کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی تھا اور یہ صورتحال کی درست وضاحت نہیں تھی۔

ترجمان نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ گھارو اور جھمپیر ونڈ کلسٹرز میں واقع 36 ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی تھی۔ یہ ونڈ فارمز 1,845 میگاواٹ کی مشترکہ پیداواری استعداد کے ساتھ این ٹی ڈی سی کے 500 کے وی جامشورو گرڈ سٹیشن کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ ہوا کی غیر معمولی طور پر کم رفتار کے نتیجے میں ونڈ فارمز سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں جامشورو گرڈ سٹیشن کے ٹرانسفارمرز پر بہت زیادہ بوجھ پڑا۔

اہم آلات کی حفاظت کی کوشش میں این ٹی ڈی سی نے اضافی لوڈ شیڈنگ کیلئے حیسکو حکام کے ساتھ رابطہ کیا تاہم اتوار کی صبح تک ہوا کی رفتار معمول پر آ گئی جس کے بعد بجلی کی پیداوار بڑھنے پر حیسکو کے علاقوںمیں اضافی لوڈ شیڈنگ کی ضرورت نہیں رہی۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا اصل دورانیہ 12 گھنٹے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھا۔ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق 4 گھنٹے تک تقریباً 75 میگاواٹ اور 6 گھنٹے تک 142 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا جس کے نتیجے میں حیسکو کی جانب سے مختلف 11 کے وی فیڈرز پر اوسطاً ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو، جسٹس طارق محمود

وکلا اچھی معاونت کریں تو ججز کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے خطاب

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو، جسٹس طارق محمود

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا ہے کہ میں روز قرآن پاک اور درود شریف پڑھ کر عدالت میں بیٹھتا ہوں اور جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ وکلا اچھی معاونت کریں تو ججز کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے، وکیل اگر تیاری کے ساتھ پیش ہوں تو خوشی ہوتی ہے،  جج بھی انسان ہیں، ہم ہرفیصلہ یہ سوچ کر لکھتے ہیں کہ یہ ہمارا ایگزامنیشن پیپر ہے، ہمارا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2021 کے واقعہ کی وجہ سے بار اور بینچ میں کافی خلا  آگیا تھا، وکلا کو اپنےکیسز کی پیروی کےلیے مکمل تیاری کے ساتھ آنا چاہیے اور ججز کو بھی نوجوان وکلا کی اپنے بچوں کی طرح اصلاح کرنی چاہیے۔

جسٹس طارق محمود کا کہنا تھا کہ ایک نیا ٹرینڈ تھا کہ ملک بھر میں پرچے ہوجاتے تھے، میں نےفیصلہ دیاکہ ایک وقوعہ پر متعدد ایف آئی آرز درج نہیں ہوسکتیں، ہم نے آئین اور قانون کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں روز قرآن پاک اور درود شریف پڑھ کر عدالت میں بیٹھتا ہوں اور جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll