Advertisement

اسرائیل اور غزہ کی جنگ اب ختم ہونی چاہیے، امریکی صدر

جنگ کے بعد اسرائیل کو غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے، جو بائیڈن

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jul 12th 2024, 9:12 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیل اور غزہ کی جنگ اب ختم ہونی چاہیے، امریکی صدر

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل اور غزہ کی جنگ اب ختم ہونی چاہیے اور جنگ کے بعد اسرائیل کو غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے۔ 

گزشتہ روز نیوز کانفرنس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ اب ختم ہونی چاہیے اور جنگ کے بعد اسرائیل کواس علاقے پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے۔ غزہ میں جنگ بندی کے فریم ورک پر فریقین نے اتفاق کیا تھا لیکن معاہدہ طے پانے کے لیے ابھی کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس فریم ورک پر اب دونوں فریق متفق ہیں اس لیے میں نے اپنی ٹیم کو مشرق وسطیٰ میں بھیجا ہے تاکہ تفصیلات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ ایک مشکل، پیچیدہ مسائل ہیں۔ ابھی معاہدے تک پہنچنے میں بعض مشکلات موجود ہیں ۔ ہم پیش رفت کر رہے ہیں اورمیں یہ معاہدہ طے کرنے اور اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہوں، جسے اب ختم ہونا چاہیے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اسرائیل کی جانب سے بعض اوقات تعاون کم رہا۔

واضح رہے کہ فلسطینی اسلامی گروپ حماس نے امریکی منصوبے کے ایک اہم حصے کو قبول کرتے ہوئے اپنے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ اسرائیل معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے مستقل جنگ بندی کا عہد کرے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اصرار کیا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کو تب تک جنگ شروع کرنے سے نہ روکے جب تک اس کے جنگی مقاصد پورے نہیں ہو جائیں۔ جنگ کے آغاز میں اس نے حماس کو نیست و نابود کرنے کا عہد کیا تھا۔

بائیڈن نے جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ اسرائیل کو غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ اسرائیل کی جنگی کابینہ پر کسی حد تک تنقید کرتے ہوئے کہا، "اسرائیل نے بعض اوقات تعاون کم کیا۔"

بائیڈن نے غزہ میں اپنے کچھ اقدامات کے کامیاب نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا مثلاً غزہ کے ساحل سے امریکی فوج کے انسانی امداد کے گھاٹ کو ختم کرنے کا منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "مجھے امید تھی کہ یہ زیادہ کامیاب ہو گا۔"

یاد رہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق سات اکتوبر سے اب تک 38 ہزار  سے زیادہ فلسطینی اسرائیلی جارحیت میں ہلاک ہو چکے ہیں، تقریباً 2.3 ملین فلسطینی آبادی بے گھر ہو گئی ہے اور اسرائیل کو نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے جس سے وہ انکاری ہے۔

Advertisement