ہر کھلاڑی کا ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا اور ہر 3 ماہ بعد فٹنس ٹیسٹ لازمی قراردے دیا گیا


پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیٸرمین محسن نقوی نے قومی کرکٹ اور ٹیم کی کارکردگی کی بہتری کے لیے بڑے فیصلے کرتے ہوئے ہر کھلاڑی کا ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا اور ہر 3 ماہ بعد فٹنس ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ ڈسپلن کی پابندی نہ کرنے والے کھلاڑیوں کی ٹیم میں جگہ نہیں ہوگی۔
چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیر صدارت 3 گھنٹے طویل اجلاس ہوا، جس میں کرکٹ کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا، جس میں کوچز گیری کرسٹن، جیسن گلیسپی، اظہر محمود، چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سلمان نصیر، سلیکشن کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔
چیئرمین پی سی بی نے قومی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈکوچ جیسن گلیسپی اور وائٹ بال ہیڈ کوچ گیری کرسٹن کو بھی سلیکشن کمیٹی میں شامل کرلیا جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے طریقہ کار کو سلیکشن کمیٹی حتمی شکل دے گی۔
چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے کرکٹ اور ٹیم کی کارکردگی کی بہتری کیلئے بڑے فیصلے
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) July 15, 2024
گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی بھی سلیکشن کمیٹی میں شامل
ہر کھلاڑی کا ہر 3 ماہ بعد فٹنس ٹیسٹ لازمی ہو گا
کھلاڑی کو لازما ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا ہوگی
ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے طریقہ کار کو… pic.twitter.com/M0jaRMFUxK
پی سی بی نے قومی کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کی رقم فی الحال کم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سینٹرل کنٹریکٹ کی مدت ایک سال کے لئے ہو گی، سینٹرل کنٹریکٹ کی مختلف کیٹگریز میں کھلاڑیوں کی شمولیت وضع کردہ طریقہ کارکے تحت ہو گی۔پاکستان کرکٹ بورڈ غیر ملکی لیگز کھیلنے کے لیے این او سیز کے اجراء کا ٹیکنیکل طریقہ کار وضح کرے گی، طریقہ کار پر پورا اترنے والے کھلاڑیوں کو این او سیز کا اجراء کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ہر کھلاڑی کا 3 ماہ بعد فٹنس ٹیسٹ لازمی ہوگا، ہر کھلاڑی کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی ہوگی، کھلاڑیوں کی پرفارمنس اور فنٹس پر ہر برس جائزہ لیا جائے گا، جب کہ فٹنس اور پرفارمنس کے معیار پر پورا اترنے والے کھلاڑیوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا اور معیار پر پورا نہ اترنے والے کھلاڑیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہو گی۔ ٹیم کے اندر اتحاد واتفاق نظر آنا چاہیے،گروپنگ کرنے والے کھلاڑیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، گروپنگ پر مینجمنٹ کو سخت ایکشن لینا چاہیے، ڈسپلن کی پابندی نہ کرنے والے کھلاڑیوں کی ٹیم میں جگہ نہیں ہو گی۔
محسن نقوی نے ہدایت کی کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کسی بھی کھلاڑی کے بارے میری سفارش بھی نہ مانی جائے۔ہائی پرفارمنس سینٹرز کی اپ گریڈیشن اور کوچز کی ٹریننگ کا معیار بڑھانے کا پلان طلب کرلیا۔ اسلام آباد اور پشاور میں بھی ہائی پرفارمنس سنٹرز بنائے جائیں گے، گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی اس ضمن میں حتمی رپورٹ پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ پی سی بی نے ٹی20 ورلڈکپ 2024 میں ناقص کارکردگی پر ٹیم منتخب کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے وہاب ریاض اور عبدالرزاق کو سلیکشن کمیٹی سے نکال دیا تھا۔
کرکٹ بورڈ کی جانب سے مختصر اعلامیہ میں کہا گیا ’پی سی بی کو وہاب ریاض اور عبدالرزاق کی مزید خدمات درکار نہیں ہیں، عبدالرزاق قومی مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن تھے جب کہ وہاب ریاض مینز ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا حصہ تھے‘۔

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 6 hours ago

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 12 hours ago

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 10 hours ago

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 6 hours ago

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 6 hours ago

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 11 hours ago

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 12 hours ago

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 10 hours ago

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 11 hours ago

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 12 hours ago

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 10 hours ago

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 6 hours ago













