Advertisement

سعودی عرب میں سابق افسر 3 کروڑ ریال رشوت لیتےہوئے گرفتار

ملزم نے ایک تاجر سے بدعنوانی کا کیس ختم کرانے کے بدلے 10 کروڑ ریال کی ڈیل کی تھی اور اس کی پہلی قسط وصول کرتے وقت گرفتار ہوا

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 سال قبل پر اگست 17 2024، 3:32 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
سعودی عرب میں سابق افسر 3 کروڑ ریال رشوت لیتےہوئے گرفتار

ریاض : سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کی اتھارٹی "نزاہہ" نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاستی سلامتی کے سابق افسر سعد بن ابراہیم الیوسف کو 3 کروڑ ریال رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نے ایک تاجر سے بدعنوانی کا کیس ختم کرانے کے بدلے 10 کروڑ ریال کی ڈیل کی تھی اور اس کی پہلی قسط وصول کرتے وقت گرفتار ہوا۔

سعد بن ابراہیم الیوسف کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوا تھا اور اس نے اپنی مدت کے دوران حاصل کردہ معلومات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ گھناؤنا جرم کیا۔ اس میں اس کی مددگار ایک یمنی خاتون آمنہ محمد علی بھی تھی جسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نزاہہ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ عوامی پیسوں کو ہتھیانے والوں اور اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کو کسی صورت نہیں بخشے گی۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سعودی کابینہ کی جانب سے انسداد بدعنوانی کے لیے نئے نظام کو منظور کیے جانے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا کیس ہے۔

سعودی عرب کے نئے نظام کے تحت اگر کوئی سرکاری ملازم بدعنوانی کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اسے ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، اسے اپنی غیرمعمولی دولت کا جائز ذریعہ بھی بتانا ہوگا۔

سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی حکومت کرپشن کے خلاف سنجیدہ ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کرپشن کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم تھاکسن پیرول کو بھی کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف مہم کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں اور لوگوں میں حکومت پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ اس سے سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا اور ملک کی ترقی میں مدد ملے گی۔

Advertisement
Advertisement