Advertisement
پاکستان

شکیل خان کی برطرفی کے معاملے پر ایسا تاثر دیا گیا کہ پارٹی میں اختلافات ہیں، بیرسٹر سیف

عاطف خان اور جنید اکبر کے پاس الزامات کے حوالے سے ثبوت ہیں تو پیش کریں، مشیر اطلاعات کے پی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Aug 18th 2024, 9:27 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
شکیل خان کی برطرفی کے معاملے پر ایسا تاثر دیا گیا کہ پارٹی میں اختلافات ہیں، بیرسٹر سیف

مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ شکیل خان کی برطرفی کے معاملے پر ایسا تاثر دیا گیا کہ پارٹی میں اختلافات ہیں۔ گورننس کمیٹی بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بنائی ہے، عاطف خان اور جنید اکبر کے پاس الزامات کے حوالے سے ثبوت ہیں تو پیش کریں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ ، کل پھر جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملا، انہوں نے کہا ہے کہ کسی کو اعتراض ہے تو کمیٹی میں نے بنائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر نہ لیا جائے کہ پارٹی میں کوئی گروہ بندی ہے، عہدے کو استعمال کرتے ہوئے ذاتی مقاصد حاصل نہیں کرنے چاہئیں، عاطف خان یا جنید اکبر کے پاس کوئی شواہد ہیں تو وہ کمیٹی کے سامنے پیش کریں، پارٹی میں ایسے معاملات آتے ہیں جو گھر میں ہی حل ہو سکتے ہیں۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ بات کلیئر کریں، کمیٹی کے فیصلے پر اعتراض غلط بات ہے، کچھ لوگ بانی پی ٹی آئی سے ملے اور کہا کہ بعض کے پی کے محکموں میں کرپشن ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میری طرف سے پیغام دیں کہ کسی صورت کرپشن برداشت نہیں ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اور مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی، میری جب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں ایک کمیٹی بناؤں گا، جو بھی شکایات ہوں گی وہ کمیٹی فیصلہ کرے گی، مشیرِ احتساب کارروائی کریں گے، کمیٹی نے کہا کہ شکیل خان کے خلاف جو شکایات تھیں وہ اس میں ملوث پائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ 22 اگست کو اسلام آباد میں جلسہ ہو گا، ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا، خیبر پختونخوا سے عوام بڑی تعداد میں جلسے کے لیے آئیں گے۔

مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ کوشش کریں گے کہ قانون کی پامالی ہماری طرف سے نہ ہو، بانی پی ٹی آئی نے واضح کیا ہے کہ ہم انتظامیہ اور عدالت سے رجوع کرتے ہیں، پاکستان مشکل حالات میں ہے، رکاوٹیں ڈال کر مزید تلخی پیدا نہ کی جائے۔

Advertisement