Advertisement
تجارت

ایشیائی ترقیاتی بینک کا رئیل اسٹیٹ میں ٹیکس اصلاحات کا مطالبہ

اگر حکومت پراپرٹی ڈویلپمنٹ پر ٹیکس عائد کرے اور اوپن پلاٹس پر 6 سال بعد ٹیکس استثنیٰ ختم کر دے تو اس سے ملکی خزانے کو کافی فائدہ ہو سکتا ہے، رپورٹ

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Aug 19th 2024, 3:36 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ایشیائی ترقیاتی بینک کا رئیل اسٹیٹ میں ٹیکس اصلاحات کا مطالبہ

اسلام آباد : ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی تبدیلیاں لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ 

اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ پراپرٹی ڈویلپمنٹ پر موجودہ ٹیکس استثنیٰ کی وجہ سے مینوفیکچرنگ اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔ اے ڈی بی کے مطابق اگر حکومت پراپرٹی ڈویلپمنٹ پر ٹیکس عائد کرے اور اوپن پلاٹس پر 6 سال بعد ٹیکس استثنیٰ ختم کر دے تو اس سے ملکی خزانے کو کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پراپرٹی ڈویلپرز کو ملنے والی ٹیکس چھوٹ کی وجہ سے زیادہ تر سرمایہ دار رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی وجہ سے مینوفیکچرنگ اور زراعت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کم ہونے کی وجہ سے ملک کی مجموعی پیداوار اور روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پراپرٹی ڈویلپمنٹ پر ٹیکس عائد کر کے حکومت ملکی خزانے کو مضبوط بنا سکتی ہے۔اوپن پلاٹس پر 6 سال بعد ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے حکومت اضافی آمدن حاصل کر سکتی ہے۔حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے مینوفیکچرنگ اور زراعت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔

اے ڈی بی نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے، پانی کے وسائل کا بہتر انتظام کرنے، ٹھوس فضلے کے مناسب انتظام اور شہری نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانے کا مشورہ دیا ہے۔

 

Advertisement