Advertisement
تجارت

تاجروں کی ملک گیر ہڑتال، کاروباری مراکز بند

بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے، تاجر تنظیمیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Aug 28th 2024, 2:12 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
تاجروں کی  ملک گیر ہڑتال، کاروباری مراکز بند

کراچی: بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں تاجر تنظیموں کی جانب سے آج ملک گیر ہڑتال جاری  ہے۔ اس ہڑتال کے باعث ملک کے مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند ہیں اور بہت سے سکول بھی بند رکھے گئے ہیں۔

تاجر تنظیموں کی اس ہڑتال کو جماعت اسلامی اور جمعیت  علمائے اسلام سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے حمایت حاصل ہے۔ اسلام آباد میں انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر ریڈ زون کی طرف جانے والے راستوں کو کنٹینرز سے بند کر دیا ہے۔

تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں میں اضافے سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے۔

لاہور میں تاجر تنظیمیں اس ہڑتال کے معاملے پر دو دھڑوں میں بٹ گئی ہیں۔ ایک دھڑا ہڑتال کا حامی ہے جبکہ دوسرا گروپ اس کا مخالف ہے۔

صدر انجمن تاجران کراچی جاوید شمس کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت ناکام ہو چکی ہے اور آج مکمل ہڑتال ہو گی۔ آل پاکستان انجمن تاجران سندھ کے صدر نے بھی آج شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کاروبار مکمل بند رہے گا۔

کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان نے کہا کہ کراچی سے خیبر تک تمام تاجر تنظیمیں ہڑتال میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے۔

صدر آل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے کہا کہ یہ تاجروں کی نہیں بلکہ شہریوں کی ہڑتال ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی مہنگائی سے پریشان ہے۔

پشاور میں بھی تاجروں نے مختلف بازار بند رکھے ہوئے ہیں۔ تاجر یونینز نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور ٹیکس کی شرح کم کی جائے۔

Advertisement