Advertisement
پاکستان

پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

کوئی ایمرجنسی کی صورتحال نہیں تھی جس کے باعث یہ آرڈیننس جاری کیا گیا، وکیل درخواست گزار

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Sep 25th 2024, 3:04 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس  کے خلاف درخواست  قابل سماعت ہونے  سے متعلق فیصلہ محفوظ

پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس، لاہور ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ گراؤنڈز بتائیں آرڈیننس کیوں غیر قانونی ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ کوئی ایمرجنسی کی صورتحال نہیں تھی جس کے باعث یہ آرڈیننس جاری کیا گیا، اسمبلی بھی موجود تھی مگر اس کے باوجود آرڈیننس لایا گیا، آرڈیننس آنے کے بعد نئی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

وکیل درخواست گزار نے مزید کہا ہے کہ پہلے بھی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ لایا گیا، پہلے تمام اختیارات چیف جسٹس کے پاس ہوتے تھے۔

اس موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواست پر اعتراض اٹھا دیا۔

وکیل وفاقی حکومت نے موقف اپنایا کہ آرڈیننس سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج ہوچکا ہے، سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ بھی محفوظ کر رکھا ہے۔عدالت اس درخواست کو مسترد کرے۔

بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔ 

Advertisement