پی ٹی آئی کا احتجاج : پولیس احتجاج ناکام بنانے میں متحرک ، داخلی خارجی راستے بند
اسلام آباد میں احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے لاہور پولیس بھی سرگرم ہو گئی، لاہور سے اسلام آباد موٹروے جانے والے تمام راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا


لاہور میں بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 5 اکتوبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے مینار پاکستان گراؤنڈ کے اطراف کنٹینرز پہنچا دیے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کردی گئی، دوسری جانب پنجاب کے 4 شہروں میں دفعہ 144 نافذ کرکے رینجرز طلب کرلی، ادھر لاہور میں 6 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔
پی ٹی آئی کا کل مینار پاکستان پر احتجاج :
پی ٹی آئی کے 5 اکتوبر کو مینار پاکستان گراؤنڈ پر احتجاج کے معاملے پر مینار پاکستان کے اطراف میں ابھی سے ہی کینٹیڑز پہنچا دیے گئے، گریٹر اقبال پارک پر پولیس کی نفری سے ابھی سے تعینات کردی گئی۔
اسلام آباد میں احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے لاہور پولیس بھی سرگرم ہو گئی، لاہور سے اسلام آباد موٹروے جانے والے تمام راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا۔
لاہور پولیس نے بھی شہر کے خارجی راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے، 5 اکتوبر کو مینار پاکستان جلسے کے اعلان پر بھی پولیس نے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
5 اکتوبر کو مینار پاکستان پر بانی تحریک انصاف کی سالگرہ کا جلسہ منعقد کرنے کے اعلان پر بھی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
لاہور سیالکوٹ موٹروے، بابو صابو انٹرچینج اور ٹھوکر نیاز بیگ انٹری پوائنٹ پر کنٹینرز لگنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پولیس نے ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے آزادی فلائی اوور پر کیمپ لگا دیا اور داتا دربار کے قریب روڈ بلاک کے لیے کنٹینر بھی پہنچا دیے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے تاحال این او سی بھی جاری نہیں کیا گیا۔
بابوصابو انٹرچینج اور ٹھوکر نیاز بیگ پر واٹر کینن، قیدیوں کی وین اور پولیس کی بھاری نفری بھی موجود ہے، موٹروے بند ہونے کے بعد جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے پنجاب کے 4 شہروں میں دفعہ 144 نافذ :
پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور ممکبہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر پنجاب کے 4 شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی جبکہ لاہور، راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز بھی طلب کرلی گئی۔
پی ٹی آئی احتجاج: سڑکیں کنٹینرز لگاکر بند، موبائل سروس معطل، ڈبل سواری پر پابندی، فوج طلب
محکمہ داخلہ پنجاب نے 4 شہروں لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے اور احتجاج پر پابندی عائد کر دی۔
حکومت پنجاب نے لاہور، راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز بھی طلب کر لی ہے، راولپنڈی اور اٹک میں 4 اور 5 اکتوبر کے لیے رینجرز کی 6 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔
اٹک میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کی 10 پلاٹون بھی تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے، اس کے علاوہ لاہور میں 5 اکتوبر کے لیے رینجرز کی 3 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پنجاب نے راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں 3 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کی ہے، جس کا اطلاق جمعہ 4 اکتوبر سے اتوار 6 اکتوبر تک ہو گا۔
لاہور میں جمعرات 3 اکتوبر سے منگل 8 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ ہے، لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں پابندی کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر کیا گیا۔
ترجمان محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے، امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے احکامات جاری کیے گئے۔
محکمہ داخلہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے جبکہ رینجرز کی خدمات کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلے لکھے گئے ہیں۔۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت پنجاب نے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر لاہور میں 6 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، صوبائی دارالحکومت میں دفعہ 144 فوری طور پر نافذالعمل ہوگی، جس کے تحت ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔
بیرسٹر گوہرخان نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے جس کے تحت جلسے جلسوں وغیرہ پر پابندی کا اطلاق جمعرات 3 اکتوبر سے منگل 8 اکتوبر تک ہوگا۔
.webp&w=3840&q=75)
ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا جی آئی ڈی ایس کا دورہ، دفاعی و صنعتی تعاون کووسعت دینے کا مشترکہ عزم
- 5 گھنٹے قبل

امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد محدود کرنے والا معاہدہ ختم،اسلحہ دوڑ کے خدشات میں اضافہ
- 10 گھنٹے قبل

پشاور:وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس،دشہتگردی کے خاتمے ،امن و استحکام کے لائحہ عمل پر غور
- 8 گھنٹے قبل

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی کشمیر آج منایا جا رہا ہے
- 11 گھنٹے قبل

پاکستان نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکالے جانے کے معاملے پر اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اپنایا، آصف نذرل
- 12 گھنٹے قبل

ازبک صدر کی وزیر اعظم ہاؤس آمد،دونوں ممالک کے مابین 28معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ
- 5 گھنٹے قبل

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ’’رد الفتنہ ون‘‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد جہنم واصل
- 12 گھنٹے قبل

ازبکستان کے صدردو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے،ائیرپورٹ پرشانداراستقبال، 21 توپوں کی سلامی
- 11 گھنٹے قبل

کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،بھارت جس زبان میں بات کرے گا، اسی میں جواب دیں گے، وزیراعظم
- 11 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
کشمیر جلد آزادی کی صبح دیکھے گا،مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے،فیلڈ مارشل
- 6 گھنٹے قبل

اقوام متحدہ کالعدم بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کرے،پاکستان کا مطالبہ
- 11 گھنٹے قبل

پشاور:وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس،دشہتگردی کے خاتمے ،امن و استحکام کے لائحہ عمل پر غور
- 8 گھنٹے قبل








