اس کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا اور سرمایہ کاری کو معیشت کے زیادہ پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کرنا ہے


فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جائیداد کی قیمت کو مارکیٹ ریٹ کے قریب لانے کے لیے 56 شہروں میں پراپرٹی ویلیوایشن کی شرح 80 فیصد تک بڑھا دی، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہو گا۔ اس کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا اور سرمایہ کاری کو معیشت کے زیادہ پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کرنا ہے۔
اس نظر ثانی شدہ قیمتوں میں 12 نئے شہروں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں بنوں، چنیوٹ، کوٹلی ستیاں اور گھوڑا گلی شامل ہیں، حکومت پہلے ہی موجودہ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر متعدد ٹیکس کو نافذ کر چکی ہے۔ ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمد لنگڑیال نے بتایا کہ جائیداد کی قسم، اس کے مقام اور دیگر عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ٹیکس اتھارٹی اس سے قبل پراپرٹی کی قیمتوں کو چار بار 2018، 2019، 2021 اور 2022 میں ایڈجسٹ کر چکی ہے-
ایف بی آر نے منگل کو رات گئے اپنی ویب سائٹ پر جائیداد کی تازہ قدر کو شائع کرنا شروع کر دیا اور اس خبر کو رپورٹ کرنے تک تقریباً 2 درجن شہروں کی فہرست اپڈیٹ کر دی گئی تھی۔ بہت سے دوسرے ممالک میں ٹیکس کا تعین لین دین کی قیمت کے حساب سے کیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اعلان کردہ جائیداد کی قدر اکثر لین دین کی اصل قیمت سے نمایاں طور پر کم ہوتی ہے۔
ایف بی آر انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 236 (سی)، 236 (کے) اور 7 (ای) کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس جمع کرتا ہے، اس کے علاوہ گزشتہ بجٹ میں جائیداد کی خرید و فرخت پر پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی عائد کی گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر نے سیکشن 236 (سی) اور 236 (کے) کے تحت جائیداد کی خرید و فرخت پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں تقریباً 150 ارب روپے جمع کیے، تاہم سیکشن 7 (ای) اور دیگر اقدامات کے تحت جمع ہونے والے ریونیو کے اعداد و شمار ابھی دستیاب نہیں ہیں۔
ایف بی آر 2016 سے بڑے شہری مراکز میں جائیداد کی منصفانہ مارکیٹ قیمتوں کے تعین کے لیے کام کر رہا ہے جبکہ 1899 کے اسٹیمپ ایکٹ کے سیکشن 27 (اے) کے تحت صوبوں میں ویلیوایشن کی فہرست عام طور پر ڈسٹرکٹ کلکٹر جاری کرتے ہیں۔ ایف بی آر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہم نے قیمتوں میں معمولی اضافہ کیا ہے، جو مارکیٹ کی توقعات سے بہت کم ہے، مزید کہا کہ قیمتوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے درمیانی قدر کے پلاٹ کو بینچ مارک کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان جائیدادوں کی خرید و فرخت سے 600 ارب روپے سے 700 ارب روپے تک ٹیکس اکٹھا کرسکتا ہے، تاہم، ٹیکس عہدیدار اصل وصولی تقریباً 200 ارب روپے ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔

اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ:پاکستان اور چین کا مشرق وسطیٰ اور خلیج میں قیام امن کے لیے 5 نکاتی اقدام کا اعلان
- 10 hours ago

ہتک عزت کیس: عدالت نےگلوکارہ میشا شفیع کو8سال پرانے کیس میں 50 لاکھ جرمانہ عائد کر دیا
- 15 hours ago

اسلام آباد میں معروف تاجر کے قتل میں ملوث ملزمان 24 گھنٹوں میں گرفتار کرلیا،طلال چوہدری
- 10 hours ago

وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت
- 11 hours ago

حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بڑا بم گرا دیا،ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپےفی کلو اضافہ
- 12 hours ago

پاکستان ،ترکیہ ،قطرسمیت 8 مسلم ممالک کی مقبوضہ بیت المقدس میں عبادت پر پابندیوں کی شدید مذمت
- 15 hours ago

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا، ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
- 12 hours ago

سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری، آج پھر ہزاروں روپے مہنگا
- 17 hours ago

لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بارش اور ژالہ باری سے موسم خوشگوار
- 12 hours ago

مذہب کی جبری تبدیلی پر 5 سال قید کی سزا تجویز، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بل پنجاب اسمبلی میں جمع
- 11 hours ago

بال ٹیمپرنگ کا معاملہ: فخر زمان پر پی ایس ایل کے 2 میچز کی پابندی عائد
- 15 hours ago

اسحا ق ڈار کا دورہ بیجنگ: ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں، چین
- 17 hours ago













