آئینی بینچ کمیٹی کا سویلین کے فوجی ٹرائل سے متعلق معاملے پر جوڈیشل کمیشن سے رجوع
آئینی بینچز کمیٹی نےایک ہفتے کے اندر کیسز کی درجہ بندی و تالیف کی ہدایت کی


سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کمیٹی نے سویلین کے فوجی ٹرائل سے متعلق معاملے پر آئینی بینچ کی تشکیل کیلئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچز کمیٹی نے آئینی بینچ کی کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کیلئے اہم اقدامات پر غور کیا اور ایک ہفتے کے اندر کیسز کی درجہ بندی و تالیف کی ہدایت کی۔ کمیٹی کے تیسرے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے ہر رکن کے سامنے روزانہ پانچ چیمبر اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کی اور آئینی بینچ کی امداد کیلئے ایک سول جج کی خدمات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
اعلامیے میں سویلینز کے فوجی ٹرائل سے متعلق مقدمے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جسٹس عائشہ ملک سویلینز کے فوجی ٹرائل سے متعلق مقدمے کا فیصلہ دینے والے بینچ میں شامل تھیں اس لیے جسٹس عائشہ ملک اپیلوں کی سماعت کے دوران آئینی بینچ کا حصہ نہیں رہ سکتیں۔ چونکہ سویلینز کے فوجی ٹرائل سے متعلق کیس کا فیصلہ 7 رکنی بینچ کی جانب سے دیا گیا تھا، لحاظہ سویلینز کے فوجی ٹرائل سے متعلق کیس میں اپیلوں کی سنوائی کیلئے آئینی بینچ کی تشکیل کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کو بھجوایا جاتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ کیس کی ٹریکنگ کو بہتر بنانے کیلئے کمیٹی نے کیس فائلوں کیلئے "آئینی بینچ" کے نشان والی مخصوص سبز مہر کے استعمال کی منظوری دی، یہ تبدیلی مربوط کلر کوڈڈ ٹیگنگ کے ذریعے عدالت کے آئی ٹی کیس فلو سسٹم میں بھی ظاہر ہوگی، آرٹیکل 191A کے تحت تمام مقدمات میں ایسے عنوانات شامل ہوں گے جو واضح طور پر آئینی بینچ سے تعلق رکھتے ہوں۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مقدمات دائر کرنے والے فریقین کم از کم سات پیپر بکس تیار کر کے جمع کرائیں گے، جلد سماعت کیلئے درخواستیں قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دینے تک کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں گی۔ سپریم کورٹ کو خصوصی طور پر آئین کے آرٹیکل 186 اے کے تحت مقدمات کی منتقلی کا اختیار حاصل ہے، آرٹیکل 186 اے کے تحت معاملات کی ریگولر بینچوں کے ذریعے سماعت ہوتی رہے گی، صرف آرٹیکل 199 کے تحت ایسے معاملات جن میں اہم آئینی سوالات یا قانون کے اہم مسائل شامل ہیں آئینی بینچ کو بھیجے جائیں گے۔
کمیٹی نے آرٹیکل 191A کے تحت آئینی مقدمات کیلئے ایک وقف برانچ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، اس برانچ میں کیسز کی ہموار کارروائی کو یقینی بنانے کیلئے مناسب عملہ رکھا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے پہلے ہی آئینی بینچ کو منتقل کیے گئے مقدمات منظور شدہ روسٹر کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچز کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور رجسٹرار بھی شریک تھے۔
پاکستان، قازقستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور صحت کے لئے 19 مفاہمتی یادداشتوں اورمعاہدوں پر دستخط
- 17 hours ago

ایک تولہ سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ
- 17 hours ago

ناسا نے چاند پر بھیجے جانے والے انسان بردار مشن کو مارچ تک کیلئے ملتوی کر دیا
- a day ago

پی سی بی کا بڑا فیصلہ، پی ایس ایل میچز بھارت میں نشر نہیں ہوں گے
- 2 days ago

وزیراعظم شہباز شریف سے لیبیا کی اعلیٰ قیادت کی ملاقات، دوطرفہ تعاون اور تعلقات پر تبادلہ خیال
- a day ago
ایران میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی باضابطہ اجازت دے دی گئی
- 15 hours ago
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا واحد وارم اپ میچ بارش کے باعث منسوخ
- 11 hours ago

اسحاق ڈارسے چین کے سفیر کی ملاقات،باہمی دلچسپی کے امور ،حالیہ علاقائی صورتحال پر گفتگو
- a day ago
نئی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ: صائم ایک بار پھر نمبر 1 آل راؤنڈر بن گئے، بیٹرز میں بابراعظم کی تنزلی
- 13 hours ago

ایران اور امریکہ کے درمیان مذکرات میں شرکت کیلئے پاکستان کو بھی دعوت موصول
- 2 days ago

شبِ برات انفرادی و اجتماعی اصلاح اور نیکی کے فروغ کا پیغام دیتی ہے، وزیراعظم
- a day ago

ملتان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آ گیا، آئسولیشن اور حفاظتی اقدامات مزید سخت
- 2 days ago




.jpg&w=3840&q=75)






