بائیڈن انتظامیہ نے بھی یوکرین کو امریکی میزائلوں سے بھی روس پر حملے کی اجازت دے چکی ہے


یوکرین نے پہلی بار برطانیہ کے سٹارم شیڈو میزائل سے روس پر حملہ کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین نے پہلی مرتبہ روس کے اندر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے برطانیہ کے تیار کردہ سٹارم شیڈو میزائل کا استعمال کیا، بائیڈن انتظامیہ نے بھی یوکرین کو امریکی میزائلوں سے بھی روس پر حملے کی اجازت دے چکی ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی اجازت کے بعد یوکرین نے روس کی فوجی تنصیب پر 6 امریکی بیلسٹک میزائل داغے تھے۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے فضائی حملوں کو مات دینے کے لیے اسے سٹارم شیڈو سمیت زیادہ فاصلے پر مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے، ان میں امریکی اٹیکمز بھی شامل ہیں جو 300 کلومیٹر تک حملہ کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بریانسک پر حملے میں امریکی ساختہ میزائل استعمال کیے گئے، اس موقع پر روسی فضائی دفاعی نظام نے 5 میزائل مار گرائے تھے، جبکہ چھٹے میزائل کو نقصان پہنچا جس کا ملبہ فوجی تنصیب کے احاطے میں گرنے سے آگ لگی، جس پر قابو پالیا گیا تاہم میزائل حملوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق سٹارم شیڈو ایک اینگلو فرانسیسی کروز میزائل ہے جو زیادہ سے زیادہ تقریباً 250 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے، فرانسیسی اسے ’سکیلپ‘ کہتے ہیں ، اسے ہوائی جہاز سے لانچ کیا جاتا ہے۔
یہ تقریباً آواز کی رفتار پر اپنے ہدف تک پرواز کرتا ہے اور پھر نیچے گرنے سے پہلے اپنے ’وار ہیڈ‘ (میزائل کا وہ حصہ جس میں دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے) کو دھماکے سے اڑا دیتا ہے۔
سٹارم شیڈو کو مضبوط بنکرز اور گولہ بارود کے گوداموں میں گھسنے کے لیے ایک مثالی ہتھیار سمجھا جاتا ہے، جیسے وہ میزائل جو روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں استعمال کیے۔
ایک سٹارم شیڈو میزائل کی لاگت تقریباً دس لاکھ امریکی ڈالر ہے ، اس لیے ان کو استعمال کرنے سے پہلے سستے ڈرونز استعمال کیے جاتے ہیں، جن سے دشمن کا فضائی دفاع کمزور بنایا جا سکے اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا زیادہ سے زیادہ گولہ بارود استعمال ہو جائے بالکل اسی طرح روس بھی یوکرین کے ساتھ کرتا ہے۔
ماضی میں سٹارم شیڈو کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا ہے، اس میزائل کے ذریعے کرائیمیا میں روس کے بحیرہ اسود میں واقع نیول ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد کرائیمیا روس کی بحریہ کے لیے خطرناک قرار دے دیا گیا تھا۔

سیز فائر کے باوجود امریکی جارحیت کا سلسلہ جاری، ایرانی ٹھکانوں فضائی پر حملے،ایران کا بھرپور جواب
- 3 گھنٹے قبل

ٓآئندہ وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کا تخمینہ
- 4 گھنٹے قبل

اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری
- 2 گھنٹے قبل

چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم
- ایک گھنٹہ قبل

کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا اچانک ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 4 گھنٹے قبل

واشنگٹن :پیکجنگ پلانٹ میں کیمیکل ٹینک پھٹنے سے 11 افراد ہلاک،متعدد زخمی
- ایک دن قبل

200 یونٹ سےکم بجلی استعمال کرنیوالے حقدار صارفین کو سبسڈی ملتی رہےگی، اویس لغاری
- ایک دن قبل

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری اور باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق
- 4 گھنٹے قبل

ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی
- 3 گھنٹے قبل

پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ
- 2 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
جنگ بندی کے باوجو د امریکہ حملے کر کے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بناہ رہا ہے، ایران
- 4 گھنٹے قبل

خواجہ آصف کے لیسکو کیخلاف ٹوئٹ کے معاملے پر ایکسین، ایس ڈی او سمیت 5افراد معطل
- ایک دن قبل










.jpg&w=3840&q=75)