شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی کے حملے میں تین چینی شہریوں اور ایک پاکستانی ڈرائیور کی جان لی


کراچی میں اپریل 2022 میں چینی اساتذہ کو نشانہ بنانے والی خودکش حملہ آور خاتون شاری بلوچ تھی اور اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے قبول کی ہے۔
شاری بلوچ 3 جنوری 1971 کو تربت، بلوچستان کے ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئیں، جو اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں تھا۔شاری کو بچپن سے ہی بڑے خواب رکھتی تھیںجس نے تعلیم کے ذریعے اپنے علاقے کو غربت اور ناانصافی سے نکالنے کے خواب دیکھے تھے۔
شاری بلوچ نےسخت محنت کے بعد کراچی یونیورسٹی سے ایم فل مکمل کیا اور امید کی ایک کرن بننے کا عزم کیا،لیکن شاری کی دنیا اس وقت بکھر گئی جب ان کی ملاقات حبیطان بشیر بلوچ سے ہوئی بظاہر، وہ ایک بااثر اور پُرجوش شخص نظر آتا تھا،لیکن اس کی باتیں شاری کے دل کی آواز لگیں،شاری اس کی باتوں میں کھو گئیں اور اس کے خوابوں میں شامل ہوگئیں۔
وہ ایک شکاری تھا، وہ بی ایل اے کا اعلیٰ رکن تھا اور ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھا جو خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استحصال کرتا تھا،وہ خاص طور پر شاری جیسی تعلیم یافتہ اور معصوم خواتین کو اپنا شکار بناتا، ان کے خوابوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتاتھا۔
شادی کے بعدحبیطان نے شاری کو مکمل طور پر تنہا کر دیا، اسے اس کے خاندان اور دوستوں سے الگ کر دیا،اس نے نہ صرف شاری کی جذباتی کمزوریوں کو نشانہ بنایا، بلکہ اپنی گھریلو زندگی کو بھی تباہ کر دیا۔
اس کے دیگر خواتین کے ساتھ ناجائز تعلقات اور شاری کو اپنے دوستوں کے ساتھ تعلقات پر مجبور کرنا اس کے حوصلے کو مزید پست کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات تھے،اس ظلم اور استحصال نے شاری کو ایک ایسی عورت میں بدل دیا جو اپنے حقیقی وجود کو کھو بیٹھی تھی۔
حبیطان کے نفسیاتی دباؤ نے اس کی دنیا کو اس حد تک بگاڑ دیا کہ وہ اپنی تعلیم، خواب اور انسانیت سب کو کھو بیٹھی۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی وہ اب ایک آلہ بن چکی تھی، ایک ایسا ہتھیار جو اپنی ہی تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا۔
حبیطان نے شاری کو ایران اور افغانستان لے جا کر دہشت گردی کی تربیت دی۔ وہاں نہ صرف اس کی انسانیت چھینی گئی بلکہ اسے یہ سکھایا گیا کہ تشدد ہی واحد حل ہے۔ 26 اپریل 2022 کو، شاری وہ عورت نہیں رہی تھی جو ایک تعلیم یافتہ اور ترقی پسند بلوچستان کا خواب دیکھتی تھی۔ وہ ایک خودکش بمبار بن چکی تھی۔
کراچی یونیورسٹی کے حملے میں اس نے تین چینی شہریوں اور ایک پاکستانی ڈرائیور کی جان لی۔
یہ حملہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جسے حبیطان نے اس حد تک توڑ دیا کہ اس نے اپنی زندگی کے مقصد کو ہی برباد کر دیا،شاری اپنے پیچھے دو معصوم بچے، مہرش اور میر حسن، چھوڑ گئی۔ وہ بچے بھی اب اسی زہریلے ماحول میں پروان چڑھیں گے جس نے ان کی ماں کو برباد کیا۔
حبیطان بشیر بلوچ ایک ایسی قوت کا مجسمہ ہے جو خواتین کے خوابوں اور امیدوں کا استحصال کر کے انہیں تباہی کے آلات میں تبدیل کر دیتی ہے۔ شاری کی کہانی صرف اس کی بربادی کی داستان نہیں، بلکہ ان تمام خواتین کی کہانی ہے جو ان جیسے دہشت گردوں کے استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے جس میں محبت، جو کبھی پاکیزہ تھی، کو ایک ہولناک ہتھیار میں بدل دیا گیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان: پولیس پارٹی پر دہشتگرد حملہ، ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید
- 11 hours ago

وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجرا کا نوٹس
- 16 hours ago
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2025ء جاری کر دیا
- 2 days ago

سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور، قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ،فی تو لہ کتنے کا ہو گیا؟
- a day ago

وزیراعظم سے انڈونیشین وزیر برائے سرمایہ کاری کی ملاقات،معاشی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق
- 2 days ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:پاکستان نے 2024 کی شکست کا بدلہ لے لیا،امریکا کو 32 رنز سے شکست
- a day ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: صاحبزادہ فرحان کی شاندار بیٹنگ،پاکستان کا امریکہ کو جیت کیلئے 191 رنز کا ہدف
- 2 days ago

اسحاق ڈار سے کمبوڈیا کی وزیر تجارت جم نمول کی ملاقات، دوطرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق
- 2 days ago

بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک ہے،بیرسٹر سلمان صفدرکی عمران خان سے ملاقات کے بعد گفتگو
- 2 days ago
ٹی 20 ورلڈکپ: جنوبی افریقا نے کانٹے دار مقابلے کے بعد افغانستان کو دوسرے سپراوور میں شکست دے دی
- 16 hours ago

پاک فضائیہ کی ’گولڈن ایگل‘ مشق کامیابی سے مکمل ،اعلیٰ جنگی تیاری اور عملی مہارت کا بھرپور مظاہرہ
- a day ago

ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 10 لاکھ بچوں کو اے آئی کی تربیت دی جائے گی،شزا فاطمہ
- 2 days ago








