رواں سال واشنگٹن میں منفی 11 ڈگری سیلسیئس کی سردی کے باعث یہ تقریب امریکی کیپیٹل عمارت کے اندر منعقد ہو رہی ہے


حلف برداری کی تقریب باضابطہ طور پر ایک صدر کے دور کا خاتمہ اور دوسرے کے آغاز کے لیے منعقد کی جاتی ہے،یہ حکومتی رہنماؤں کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں اقتدار کی منتقلی کا سب سے ہائی پروفائل حصہ ہوتا ہے۔ تقریب کے اہم ترین حصے کے دوران نومنتخب صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہیں اور یہ الفاظ کہتے ہیں: 'میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں ایمانداری کے ساتھ امریکی صدر کے عہدے پر عمل کروں گا اور اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق امریکی آئین کی حفاظت، حفاظت اور دفاع کروں گا۔‘اگرچہ انھوں نے نومبر میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن ٹرمپ یہ الفاظ کہنے کے بعد باضابطہ طور پر 47ویں صدر بن جائیں گے۔
تقریبِ حلف برداری میں کون کون شرکت کرے گا؟
مقامی اور وفاقی حکام کو توقع ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں تقریبا دو لاکھ افراد جمع ہوں گے جن میں ٹرمپ کے حامیوں کے ساتھ ساتھ مظاہرین بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
بہت سے امریکی سینیٹرز اور کانگریس کے ارکان کے علاوہ آنے والی انتظامیہ کے مہمان بھی شرکت کریں گے۔
ٹرمپ، وینس اور ان کے اہل خانہ کے بعد سب سے اہم حاضرین سبکدوش ہونے والے صدر اور نائب صدر ہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم صدر بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کوان کے شریکِ حیات جل بائیڈن اور ڈگ ایمہوف کے ساتھ دیکھیں گے،ہیرس نومبر کے انتخابات میں ٹرمپ سے ہار گئی تھیں،سابق صدور اور خواتینِ اوّل بھی اکثر افتتاحی تقریب میں موجود ہوتی ہیں۔
توقع ہے کہ اس سال اس میں جارج اور لورا بش اور براک اوباما بھی شامل ہوں گے تاہم مشیل اوباما مبینہ طور پر اس میں شرکت نہیں کریں گی۔
رواں سال واشنگٹن میں منفی 11 ڈگری سیلسیئس کی سردی کے باعث یہ تقریب امریکی کیپیٹل عمارت کے اندر منعقد ہو رہی ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا طریقہ کار کیا ہے؟ عام طور پربہت زیادہ لوگ اس تقریبِ حلف برداری کو ذاتی طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اور ٹکٹوں کی بہت زیادہ مانگ ہوتی ہے،کانگریس کے ارکان کو تقریب کے لیے مخصوص تعداد میں ٹکٹ ملتے ہیں، جو وہ اپنے حلقوں میں تقسیم کرسکتے ہیں،اگرچہ یہ ٹکٹ مفت ہوتے ہیں لیکن اکثر انھیں حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے،امریکی شہری ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے براہ راست اپنے حکومتی نمائندے سے رابطہ کرسکتے ہیں،اگر آپ وہاں جا کر یہ حلف برادری نہیں دیکھ سکتے تو دور سے دیکھنے کے بہت سارے طریقے ہیں،وائٹ ہاؤس افتتاحی تقریب کی لائیو سٹریمنگ کرے گا۔
یہ تقریب کب اور کہاں ہو گی؟ پیر کو ٹرمپ کی دوسری حلف برداری کے دن کا آغاز واشنگٹن ڈی سی میں لافائیٹ سکوائر کے تاریخی سینٹ جان چرچ میں ایک دعائیہ تقریب سے ہوگا جس کے بعد وائٹ ہاؤس میں چائے کا اہتمام کیا جائے گا،امریکی کیپیٹل کے ویسٹ لان میں واقع مرکزی تقریب کے سٹیج پر موسیقی کی پرفارمنس اور افتتاحی کلمات 9:30 پر شروع ہوں گے،اس کے بعد ٹرمپ اور وینس کی حلف برداری کے ساتھ ساتھ افتتاحی خطاب بھی ہوگا۔
اس کے بعد ٹرمپ اپنی نئی انتظامیہ کے آغاز کے لیے اہم دستاویزات پر دستخط کرنے کے لیے سینیٹ چیمبر کے قریب واقع صدر کے کمرے میں داخل ہوں گے۔
حلف برادی کی تقریبات سے متعلق کانگریس کی مشترکہ کمیٹی ظہرانے کی میزبانی کرے گی جس میں وہ اس کے بعد شرکت کریں گے۔
بعد ازاں کیپیٹل سے نکل کر پنسلوانیا ایونیو سے ہوتے ہوئے وہ وائٹ ہاؤس تک جائیں گے۔
شام کو ٹرمپ شہر بھر میں تین افتتاحی تقریبات میں نظر آئیں گے۔ توقع ہے کہ وہ تینوں میں خطاب کریں گے۔
.jpg&w=3840&q=75)
کشمیر جلد آزادی کی صبح دیکھے گا،مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے،فیلڈ مارشل
- 17 گھنٹے قبل

پشاور:وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس،دشہتگردی کے خاتمے ،امن و استحکام کے لائحہ عمل پر غور
- 19 گھنٹے قبل

ازبک صدر کی وزیر اعظم ہاؤس آمد،دونوں ممالک کے مابین 28معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ
- 16 گھنٹے قبل

کور کمانڈر ملتان کی غازی یونیورسٹی،ڈی جی خان میڈیکل کالج اور میر چاکر یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کیساتھ خصوصی نشست
- 14 منٹ قبل

خیبر پختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی الگ الگ کارروائیاں،24 بھارتی اسپانسرڈ خارجی جہنم واصل
- ایک گھنٹہ قبل
.webp&w=3840&q=75)
ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا جی آئی ڈی ایس کا دورہ، دفاعی و صنعتی تعاون کووسعت دینے کا مشترکہ عزم
- 17 گھنٹے قبل

ضلعی انتظامیہ نے 7 فروری کو ایک اور تعطیل کا اعلان کر دیا
- 41 منٹ قبل

پشاور:وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس،دشہتگردی کے خاتمے ،امن و استحکام کے لائحہ عمل پر غور
- 19 گھنٹے قبل

لاہور:دودہائیوں بعد بسنت کی واپسی،ہر طرف بو کاٹا کی صدائیں،مریم نواز کی ایس اوپیز پر عمل کرنے کی ہدایات
- 27 منٹ قبل

لاہور: بسنت کے موقع پرتیز دھار ڈور پھرنے سے ایک نوجوان جاں بحق،5 زخمی
- ایک گھنٹہ قبل

امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد محدود کرنے والا معاہدہ ختم،اسلحہ دوڑ کے خدشات میں اضافہ
- 21 گھنٹے قبل

بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے پیش نظر کا ایران کا طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ
- 22 منٹ قبل












