قانون سازی کرنا ہمارا کام ہے،عدلیہ سے درخواست ہے ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے، وفاقی وزیر قانون
حکومت کسی ادارے کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی، عدلیہ کو بھی چاہیے کہ انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرے،اعظم نذیر تارڑ


اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ہماراکام قانون سازی کرنا ہے عدلیہ سے درخواست ہے کہ وہ ہمارے کا م میں مداخلت نہ کرے اور ہمیں اپنا کام کرنے دے۔
سینیٹ کا اجلاس آج ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیر صدارت ہوا،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس میں ڈیپوٹیشن پالیسی سے متعلق سینیٹر دنیش کمار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سوالات کمیٹیز کو بھیجنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تمام سوالات کے جوابات تحریری طور پر پیش کئے جاتے ہیں، کمیٹیوں میں دیگر معاملات بھی زیر بحث لائے جاتے ہیں۔
انہوں نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہر سوال پر ضمنی سوالات بھی لینے چاہئیں۔ اور فارن افیئر کمیٹیوں کے پاس بہت سے معاملات زیرالتو ہوتے ہیں۔ ہمیں ہر سوال پر ایوان میں بحث کرنی چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ڈیپوٹیشن پالیسی کی گنجائش سروس رولز میں موجود ہے۔ اور پہلے 3 سال کے لیے ڈیپوٹیشن ہوتی ہے پھر 2 برس تجدید ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں کہا کہ ڈیپوٹیشن کو معمول نہ بنایا جائے۔
وفاقی وزیر قانون کا مزیدکہنا تھا کہ حکومت کسی ادارے کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی، عدلیہ کو بھی چاہیے کہ انتظامیہ کے معاملات میں براہ راست مداخلت سے گریز کرے، عدلیہ سے درخواست ہے کہ ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے، قانون سازی کرنا ہمارا کام ہے ہمیں کرنے دی جائے۔
دوہری شہریت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جرمن حکومت نے 27 جون 2024 سے موثر قانون میں دہری شہریت کی گنجائش فراہم کی، اس اقدام کے تحت درخواست دہندگان اپنی اصل شہریت کے ساتھ جرمن شہریت بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جرمنی کے ساتھ دہری شہریت کی منظوری دے دی، اب جرمن حکومت کی جانب سے ایم او یو دستخط کا انتظار ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد پاکستانی جرمن شہریت دوبارہ حاصل کر سکیں گے، پاکستان کے بائیس ملکوں کے ساتھ دہری شہریت کے معاہدے ہیں۔

لاہورکے نیشنل ہسپتال میں ریزوم تھراپی کا کامیاب آپریشن
- 9 hours ago

اسحا ق ڈار کا مصری و ازبک وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، دو طرفہ اور علاقائی صورتحال پر گفتگو
- 3 hours ago

اگردشمن کوئی زمینی آپریشن کی کوشش کرے تو دشمن کے کسی بھی فوجی کو زندہ نہیں بچنا چاہیے،ایرانی آرمی چیف
- 7 hours ago

آپریشن غضب للحق کے ثمرات، ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں 59 فیصد کمی
- 3 hours ago

خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات کے طلباء کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام جاری
- 8 hours ago

برطانیہ کسی بھی صورت ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،کئیر اسٹارمر
- 8 hours ago

پی ایس ایل: اسلام آباد یونائیٹڈ نےکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی
- 5 hours ago

امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے،جارحیت کا مقابلہ کرنے ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں،ایران
- 10 hours ago

ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، ایرانی قوم اور افواج ملک پر حملہ کرنے والوں کے پاؤں کاٹ دیں گے،ترجمان
- 9 hours ago

مہنگا سونا اچانک ہزاروں روپے سستا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 9 hours ago

معاشی بچت، جنگ بندی کی کوششیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- 8 hours ago

ایران جنگ:اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رحجان ، 100 انڈیکس 3500 پوائنٹس گرگیا
- 5 hours ago











