حکومت چاہتی تو لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا، جسٹس جمال مندوخیل


وفاقی حکومت نے جسٹس (ر) فقیر محمد کھوکھر کو لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت چاہتی تو لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بینچ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جگہ جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر کو نیا کمیشن سربراہ لگا دیا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت قانون سازی کے ذریعے لاپتہ افراد ٹرییبونل بنانا چاہتی ہے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ لاپتہ افراد ٹربیونل کے لیے تو قانون سازی کرنا پڑے گی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قانون سازی کے لیے کابینہ کمیٹی کام کر رہی ہے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کتنے عرصے میں قانون سازی کا عمل مکمل ہوگا۔
اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ قانون تو پہلے سے موجود ہے، کسی کو لاپتہ کرنا جرم ہے، کسی نے جرم کیا ہے تو ٹرائل کرے، جرم نہیں کیا تو چھوڑیں اس کو۔
ایڈیںشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت ایک مرتبہ لاپتہ افراد ایشو کو سیٹ کرنا چاہتی ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ اگر مسئلہ حل کرنا ہوتا تو لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہو چکا ہوتا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ اب تک کمیشن نے کتنے لاپتہ افراد کی ریکوریاں کیں؟ کیا بازیاب ہونے والے آکر بتاتے کہ وہ کہاں تھے، جس پر رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے جواب دیا کہ بازیاب ہونے والے نہیں بتاتے وہ کہاں پر تھے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ لاپتا افراد کی قانون سازی کریں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم امید ہی کر سکتے کہ حکومت لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرے، پارلیمنٹ کو قانون سازی کا نہیں کہہ سکتے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 3 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہارِ تشویش
- 4 گھنٹے قبل

کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا
- 4 گھنٹے قبل

شہر قائد میں منکی پاکس وائرس کا ایک اور کیس سامنے آ گیا
- ایک گھنٹہ قبل

جنگ بندی مذکرات: جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت،کئی سڑکیں بند
- 4 گھنٹے قبل

بیروت: سیز فائر کے باوجود بھی اسرائیلی حملے، 254 افراد شہید، عالمی رہنماؤں کی جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل
- 2 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
وزیر اعظم سےایمانوئل میکرون کا رابطہ،مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اورثالثی پر پاکستان کی تعریف
- ایک گھنٹہ قبل

سیز فائر کی خلاف ورزی : پاکستان کا عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ
- 4 گھنٹے قبل

جنگ بندی مذاکرات:امریکی نائب صدر، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور وزیر خارجہ آج پاکستان پہنچیں گے
- 4 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین کے بزنس ٹو بزنس تعلقات میں وسعت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم
- 4 گھنٹے قبل

وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، سیاسی و عسکری قیادت کا مذاکرات کامیاب بنانے کا عزم
- 3 گھنٹے قبل

پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کا پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ ایران-امریکہ مذاکرات کا خیرمقدم
- 4 گھنٹے قبل









