ملک میں سیاسی استحکام اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے،پاکستان دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہے،وزیر اعظم
ستمبر میں آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا، ٹیم ورک سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا،شہباز شریف


اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے،پاکستان دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک سال میں اندھیرےسے اجالے کا سفر کیا۔
اسلام آباد میں وفاقی حکومت کی جانب سے یوم تعمیر و ترقی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کا ایک سال کا سفر کامیابیوں کا سال رہا اور ملک کی ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے، پائیدار ترقی کے لیے ہم نے متحد ہو کرکام کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملک میں سیاسی استحکام اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے،پاکستان دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک سال میں اندھیرےسے اجالے کا سفر کیا،تنخواہ دارطبقے نے300ارب روپے کا ٹیکس دیا ہے، حکومتی اقدامات سے مہنگائی کی شرح کم ترین سطح پر آگئی۔ ہم نے مشکل فیصلے کر لیے، اب آگے بڑھنا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کاروباری طبقے کے ساتھ مشاورت سے پالیسیاں مرتب کریں گے، ہم نے مشکل فیصلے کیے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے،ان کا کہنا تھا کہ ستمبر میں آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا، ٹیم ورک سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔
وزیر اعظم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ جون 2023 کی بات ہے کہ ہمارا آئی ایم ایف کا پروگرام ہچکولے کھا رہا تھا، ملک ڈیفالٹ کے دھانے پر تھا، مہنگائی کا طوفان تھا، پاکستان کے طول و عرض میں عوام نے انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے،
انہوں نے کہا کہ میںگزشتہ حکومت پر تنقید نہیں کرنا چاہتا لیکن معیشت کا برا حال تھا، سرمایہ کاروں کے ساتھ زیادتی ہوئی اور گزشتہ حکومت میں مہنگائی 40 فیصد پر پہنچ گئی تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تنخواہ دار طبقے نے 300 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے اسمگلنگ روکی گئی اور رواں برس 211 ملین ڈالر کی چینی برآمد کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ایس اوایز نہیں چلانے، سرمایہ کارانہیں خریدیں اور چلائیں، حکومت کا کام بزنس کرنا نہیں ہے یہ کام نجی شعبے کا ہے، سرمایہ کاروں سے کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں، اب معاشی نمو کے لیے آگے بڑھنا ہو گا، تمام مشکلات کے باوجود جنوری 2025 میں مہنگائی کی شرح 40 فیصد سے اگر 2.4 فیصد پر آچکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں دہشت گردی ختم ہوگئی تھی لیکن بدقسمتی سے پھر واپس آگئی ہے، یہ دہشت گردی کیوں واپس آئی، سوال پوچھنا پڑے گا۔
رجب بٹ کی اہلیہ ایمان سے صلح؟ حقیقت سامنے آگئی
- 6 گھنٹے قبل
حماس کے نئے سربراہ مقرر، خاص شخصیت کون ہیں؟
- ایک دن قبل
شیخوپورہ: اسٹیج اداکارہ پر دوران ڈرامہ مسلح شخص کا ساتھیوں سمیت تشدد
- 2 دن قبل
سینئر پولیس افسر بدعنوانی پر نوکری سے فارغ، وجہ سامنے آگئی
- 39 منٹ قبل
سعودی عرب نے ایک سالہ نیا ویزا متعارف کرا دیا
- ایک دن قبل
تھانیدار نے اپنے ہی ایس پی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا
- ایک دن قبل
بجلی کی خرید و فروخت میں اربوں کی مبینہ کرپشن، فیسکو کے دو سابق چیف ایگزيکٹو گرفتار
- 2 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 4 گھنٹے قبل

11ویں کلر اینڈ کیم ایکسپو 2026 کامیابی سے اختتام پذیر، صنعتی تعاون کو نئی تقویت
- 2 دن قبل
برسبین میں مینگو ملٹی کلچرل میلہ، پاکستانی ثقافت اور بین الثقافتی ہم آہنگی کا شاندار مظاہرہ
- 6 گھنٹے قبل

امریکا ایران حملوں میں شدت، خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ
- ایک دن قبل
ڈالر ہی ڈالر: فیفا ورلڈکپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین کو تاریخی انعامی رقم ملی
- ایک دن قبل



