پاکستانی دفتر خارجہ کا پہلگام میں پیش آنے والے ہولناک فائرنگ کے واقعے پرردعمل
پاکستان کو انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش ہے اور ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہے، ترجمان دفتر خارجہ


مقبوضہ کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آنے والے ہولناک فائرنگ کے واقعے پر پاکستانی دفتر خارجہ کا ردعمل آگیا، پاکستان نےواقعے کو قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پہلگام میں پیش آنے والے ہولناک فائرنگ کے واقعے نے پوری وادی کو لرزا کر رکھ دیا، بائیسارن میڈوز میں اچانک مسلح افراد کی فائرنگ سے 26 سیاح ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے، جن میں دو غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ فائرنگ کا یہ واقعہ منگل کی دوپہر تقریباً 2:30 بجے پیش آیا اور جائے وقوعہ پر پانچ منٹ تک گولیاں چلتی رہیں۔ پاکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اس واقعے کو قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش رکھتا ہے اور ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہے۔
شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ عینی شاہدین کے مطابق کھلے میدان میں لوگ جان بچانے کے لیے بھاگتے رہے، لیکن چھپنے کی کوئی جگہ نہ تھی، ایک بھارتی خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ اپنے شوہر کی لاش سے لپٹی رو رہی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں بھارتی بحریہ کا افسر اور انٹیلی جنس بیورو کا اہلکار بھی شامل ہے۔
واقعے کے بعد بھارتی فوج اور پولیس تاخیر سے پہنچیں، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ حملے کے بعد حسبِ معمول بھارتی میڈیا اور حکومت نے فوری طور پر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ بعض چینلز نے دعویٰ کیا کہ حملے میں مذہبی رنگ دیا گیا اور غیر ہندو سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ کشمیر کے مزاحمتی فرنٹ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
بھارت نے ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیا ہے تاکہ دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے ہٹائی جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت پر ہوا جب ایک اہم امریکی وفد بھارت کے دورے پر ہے اور یہ صرف ایک ”اتفاق“ نہیں ہو سکتا۔
سابق سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ بھارت بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی کرتا ہے، جبکہ بھارتی ایجنسیاں خود ایسے حملوں میں ملوث رہی ہیں۔ یہ حملہ جدوجہدِ کشمیر کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔
مودی میڈیا کا فارمولا ہے کہ کوئی بھی واقعہ ہو تو ثبوت کے بغیر فوراً پاکستان پر الزام لگا دو، انتہا پسند بھارتی حکومت کی بنیاد عوام کو جنگ کے لیے اکسانے جیسے بیانیہ پر کھڑی ہے۔بھارتی میڈیا خود ساختہ دہشت گردی کی خبر پر شور مچا دیتا ہے جبکہ ’’نیکسلائٹ حملوں‘‘ پر چپ سادھ لیتے ہیں کیونکہ حقیقت ان کے جھوٹ کو بے نقاب کرتی ہے۔
مودی میڈیا کا نیا نظریہ یہ ہے کہ بھارت میں ہونے والی ’’ہر دہشت گردی‘‘ پاکستان کرتا ہے، یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بھارتی حکومت اور میڈیا بھارتی عوام کو بیوقوف بنانے میں مصروف ہیں۔ بھارتی میڈیا جھوٹ بیچتا ہے تاکہ عوام حقیقی مسائل سے دور رہیں۔
پاکستانی عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی میڈیا کے جھوٹ کو مسترد کر دیا ہے اور ”IndianFalseFlag“ ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے اور ہزاروں صارفین بھارتی بیانیے کو چیلنج کر رہے ہیں۔

ایران کیساتھ مذاکرات کیلئے اچھی ٹیم پاکستان بھیجی ہے، امید کرتے ہیں اسکے مثبت نتائج نکلیں گے،ٹرمپ
- 9 گھنٹے قبل

پاکستانی کسان اور موسمیاتی تبدیلی:سیلاب اور بے موسمی بارشوں کے اثرات
- 4 گھنٹے قبل

مذاکرات میں اگر ہمارا سامنا اسرائیل فرسٹ کے نمائندوں سے ہوا تو کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ایرانی نائب صدر
- 9 گھنٹے قبل

وزیر اعظم شہباز شریف کا جون میں دورہ روس کا امکان، پیوٹن سے ملاقات متوقع
- 6 گھنٹے قبل

حکومت سستی اور وافر مقدار میں کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ، رانا تنویر
- ایک دن قبل

امریکہ سے مذاکرات میں شرکت کیلئے محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
- 9 گھنٹے قبل

جے ڈی وینس کی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم سےملاقات،دو طرفہ تعلقات اورعلاقائی امور پر تبادلہ خیال
- 8 گھنٹے قبل

ایک دن کے اضافے کے بعد سوناپھر سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 9 گھنٹے قبل

مذاکرات میں شرکت کیلئے آنے والے ایرانی وفد کی پرواز ’میناب 168‘ شہید بچوں سے منسوب
- 9 گھنٹے قبل

ایران سے مذاکرات میں شرکت کیلئے جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
- 10 گھنٹے قبل

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات جاری
- 2 گھنٹے قبل

وزیر اعظم سے ایرانی وفد کی ملاقات،عالمی و علاقائی امن کی صورتحال اور مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 5 گھنٹے قبل





.jpg&w=3840&q=75)

