تنخواہ دار طبقے کی زندگی کو سادہ اور آسان بنانے کی کوشش جاری ہے،وزیر خزانہ
حکومت کی رائٹ سائزنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے اور 43 وزارتوں میں سے کئی کو ضم کیا جا رہا ہے،محمد اورنگزیب


کراچی:وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کی زندگی کو سادہ اور آسان بنانے کی کوشش جاری ہے۔
کراچی میں پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے حکومت کو جس جس کاروباری معاملات سے نکال سکتے ہیں نکال دیں، ملک اب نجی شعبے کو چلانا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ 24 کروڑ لوگوں کا ملک چلانے کے لیے ہمیں ٹیکس ریونیو چاہیے، ہماری کوشش ہے ٹیکس اتھارٹی میں اصلاحات لائی جائیں، بزنس کمیونٹی کہتی ہے کہ ہم مزید ٹیکس دینے کو تیار ہیں لیکن ہم ٹیکس اتھارٹی سے ڈیل نہیں کرنا چاہتے، تاہم یہ قابل عمل نہیں کیونکہ ہم 3 سے 4 ملین لوگوں کا ملک نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس سے استثنیٰ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، مینوفیکچرنگ سیکٹر سمیت ہر وہ شعبہ جات جو برآمدات کرتا ہے اور آمدنی کماتا ہے اسے ٹیکس نیٹ میں آنا ہو گا۔
انہوں نے مزیدکہ ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں، ہم اس بجٹ میں کیا کرسکتے ہیں کیا نہیں کر سکتے یہ سب بھی دیکھنا ہے، بطور عوام خادم ہم نے سب شراکت داروں کے پاس جانا ہے،ان کا کہنا تھا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل کریں گے تو انشاء اللہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو گا۔
سیمینار سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کی زندگی کو سادہ اور آسان بنانے کی کوشش جاری ہے، 70 سے 80 فیصد تنخواہ دار طبقے کی سیلری اکاؤنٹ میں گرتے ہی ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ پورے سال سرپلس رہے گا اور افراط زر میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ شرح سود 12 فیصد تک آ چکی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ زرمبادلہ ذخائر کو 14 ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں اور جی ڈی پی میں قرضوں کا تناسب 75 فیصد سے کم ہو کر 65 فیصد ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے پہلی مرتبہ دودھ، آٹو سیکٹر سے گاڑیاں، اور فرنیچر سعودی عرب برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس آر اوز میں ترامیم اور اسٹرکچرل اصلاحات پر غور جاری ہے تاکہ کاروباری طبقے کو بہتر سہولیات مل سکیں،انہوں نے کہا کہ آپ اپنی سفارشات بھی دیں، ایسا نہیں کہ ان سفارشات کو ردی میں ڈال دیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ 24 ریاستی ادارے نجکاری کمیشن کو دیے جا چکے ہیں، جن میں روزویلٹ ہوٹل اور ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ شامل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے اور 43 وزارتوں میں سے کئی کو ضم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ہمیشہ معیشت کا اہم ستون رہا ہے اور حکومت آئندہ بجٹ میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم پر خصوصی توجہ دے گی۔

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ ،کم سے کم اجرت 45 ہزار مقرر
- 21 منٹ قبل

ورلڈ کپ کے دوران سفری پابندیاں،ایرانی فٹبال فیڈریشن کا فیفا سے رجوع کرنے کا اعلان
- 3 گھنٹے قبل

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
- ایک گھنٹہ قبل

خریداروں کیلئے خوشخبری، سونا یکدم کئی ہزار روپے سستا ہو گیا،نئی قیمت کیا ہو گئی؟
- 3 گھنٹے قبل

ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے 2 ساتھی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
- 27 منٹ قبل

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت انتھک محنت، استقامت اور غیر متزلزل عزم کی وجہ سے ممکن ہوئی،وزیر اعظم
- 4 گھنٹے قبل

وزیر اعظم شہباز شریف کا پیٹرول کی قیمت میں خاطر خواہ کمی کرنے کا اعلان
- 4 گھنٹے قبل

قیام امن میں پاکستان کا تاریخی کردار،طاہر اشرفی کا خطبہ جمہ میں عسکری و سول قیادت کو زبردست خراجِ تحسین
- 3 گھنٹے قبل
مشکل وقت میں پاکستان کی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران ہمیشہ یاد رکھے گا، ایرانی صدر
- ایک دن قبل

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سوشل میڈیا پر جاری کردیں
- 3 گھنٹے قبل

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا
- 8 منٹ قبل

طالبان رجیم کا کے پی اوربلوچستان میں مبینہ داعش کیمپس کو ڈرونز سے نشانہ بنانےکا پروپیگنڈا بے نقاب
- 2 گھنٹے قبل




