بھارت رنبیر نہر کی لمبائی کو دگنا کر کے 120 کلومیٹر تک بڑھانا ہے جو بھارت سے گزر کر پاکستان کے اہم زرعی مرکز پنجاب کے علاقے تک جاتی ہے،روئٹرز


نئی دہلی: بھارتی بزدلانہ حملے کے بعد پاکستان کی منہ توڑ جوابی کارروائی سے گبھرائی ہوئی انتہا پسند مودی سرکار نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنےکے ساتھ ساتھ دریائے چناب کا پانی کم کرنے پر بھی غور شروع کر دیا۔
جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 26 شہریوں کو مارا گیا، جسے انڈیا نے ’دہشت گردی‘ قرار دیا، تو نئی دہلی نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے میں اپنی شرکت کو ’معطل‘ کر دیا، جو سندھ دریا کے نظام کے استعمال کو منظم کرتا ہے۔
پاکستان نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، لیکن معاہدہ بحال نہیں ہوا اور دو جوہری ہتھیار رکھنے والے پڑوسیوں نے دہائیوں کے بدترین تنازعے کے بعد گذشتہ ہفتے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کا کہنا ہے کہ چھ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ 22 اپریل کے حملے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حکام کو دریائے چناب، جہلم اور سندھ پر منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، یہ تینوں آبی ذخائر دریائے سندھ کی شاخیں ہیں اور انہیں بنیادی طور پر پاکستان کے استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
دو ذرائع نے بتایا کہ زیر بحث اہم منصوبوں میں سے ایک دریائے چناب پر واقع رنبیر نہر کی لمبائی کو دگنا کر کے 120 کلومیٹر تک بڑھانا ہے جو بھارت سے گزر کر پاکستان کے اہم زرعی مرکز پنجاب کے علاقے تک جاتی ہے، یہ نہر سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہونے سے بہت پہلے انیسویں صدی میں تعمیر کی گئی تھی۔
چار ذرائع نے ان مذاکرات اور دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت کو آب پاشی کے لیے دریائے چناب سے محدود مقدار میں پانی نکالنے کی اجازت ہے لیکن ایک وسیع نہر، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے کھودنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، بھارت کو 150 کیوبک میٹر فی سیکنڈ پانی موڑنے کی اجازت دے گی جو موجودہ تقریباً 40 کیوبک میٹر سے بہت زیادہ ہے۔
رنبیر نہر کی توسیع کے حوالے سے بھارتی حکومت کے مشاورتی عمل کی تفصیلات اس سے قبل شائع نہیں کی گئیں، مذاکرات گزشتہ ماہ شروع ہوئے تھے اور جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہے۔
دوسری جانب بھارت کی وزارتوں برائے پانی، امور خارجہ اور مودی کے دفتر نے ان خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، اسی طرح بھارت کی بڑی ہائیڈرو الیکٹرک پاور کمپنی جو دریائے سندھ پر کئی منصوبے چلا رہی ہے اس نے بھی ان خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 7 گھنٹے قبل

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 7 گھنٹے قبل

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- ایک گھنٹہ قبل

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 5 گھنٹے قبل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 7 گھنٹے قبل

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- ایک گھنٹہ قبل

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 6 گھنٹے قبل

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- ایک گھنٹہ قبل

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- ایک گھنٹہ قبل

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 8 گھنٹے قبل

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 8 گھنٹے قبل

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 5 گھنٹے قبل









