آئی ایم ایف نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف حکومتی اخراجات میں کمی سے مشروط کر دیا
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہوگا کیونکہ سرکاری ملازمین کی تعداد میں کمی کی مہم اب ماند پڑ چکی ہے


بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے تنخواہ دار طبقے، جائیداد، مشروبات اور برآمدی شعبے کو خاطر خواہ ریلیف اور وفاقی محاصل ادارے کے ٹیکس وصولی کے ہدف کو حکومتی اخراجات میں کمی سے مشروط کر دیا ہے، اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے صوبوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کم کریں اور محصولات میں زائد آمدن پیدا کریں تاکہ مجموعی قومی خسارہ محدود رکھا جا سکے۔
آئی ایم ایف کی ٹیم جمعہ (آج) کو اپنا دورہ مکمل کرے گی۔ صرف دفاعی بجٹ کو استثنیٰ حاصل ہوگا، کیونکہ اسلام آباد نے موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اس میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم اور ان کی ٹیم نے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے خطے کے ڈائریکٹر، جہاد ازعور، کی سربراہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے وفد سے ملاقات کی۔ پاکستان نے کھاد پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کو 5 سے 10 فیصد تک بڑھانے اور کیڑے مار ادویات پر 5 فیصد نیا ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کو مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی اس درخواست پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جزوی طور پر رضا مند ہو نے کی توقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہوگا کیونکہ سرکاری ملازمین کی تعداد میں کمی کی مہم اب ماند پڑ چکی ہے، اور تنخواہوں میں کمی کے باعث بجٹ میں کوئی خاص بچت نہیں ہو گی۔
مالیاتی بل 2025 کو قانون بننے سے پہلے تمام شرائط بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ہم آہنگ کی جائیں گی تاکہ بجٹ کی منظوری کے دوران تنقید کم ہو تاہم ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ بجٹ میں محاصل ہی آئندہ چند برسوں کے لیے معیشت کا رخ طے کریں گے کیونکہ حکومت آخری کوششوں میں مصروف ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو تنخواہ دار طبقے کے لیے آمدنی کے ٹیکس کی شرحوں میں نرمی پر راضی کیا جا سکے۔
وفاقی محاصل ادارے کا ٹیکس ہدف آئندہ بجٹ میں 14 اعشاریہ ایک کھرب روپے سے زائد رکھا جائے گا، بشرطیکہ وزارتِ خزانہ اپنے اخراجات میں متناسب کمی کر سکے۔
دفاعی بجٹ اس بجٹ میں واحد استثنا ہو گا، جسے ملکی ضروریات کے مطابق بڑھایا جائے گا۔ ایک اور موقع اخراجات میں کمی کے لیے موجود ہے، جو قرضوں کی ادائیگی میں کمی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وزارتِ خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اس مد میں 8 اعشاریہ 7 کھرب روپے کا تخمینہ دیا ہے لیکن یہ تخمینہ کم کر کے 8 سے 8 اعشاریہ 2 کھرب روپے تک لایا جا سکتا ہے۔

اسحاق ڈار اور آرمینیائی وزیر خارجہ کے مابین ٹیلیفونک رابطہ، سفارتی تعلقات کے قیام پرغور
- 14 hours ago

حکومت کا سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ
- 9 hours ago

راولپنڈی: گاڑی میں دم گھٹنے کے باعث دو بچے جاں بحق ہوگئے
- 14 hours ago

ایرانی صدر کا وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ، سیلابی صورتحال میں مدد کی پیشکش
- 13 hours ago

امریکی ٹیرف کے بعد بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا
- 10 hours ago

ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 3.57 فیصد تک جا پہنچی، ٹماٹر، آٹا اور چکن مزید مہنگے
- 9 hours ago

دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ جاری
- 9 hours ago

تحریک انصاف کے مزید ارکان کا کمیٹیوں سے استعفیٰ، پارٹی نے پارلیمانی عمل سے مکمل لاتعلقی اختیار کرلی
- 9 hours ago

ایرانی صدر کا سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش
- 9 hours ago

ایشیا ڈیولپمنٹ بینک کی پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 3 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد
- 11 hours ago

وزیر آباد میں فلڈ ریلیف کیمپ عارضی نکلا، مریم نواز کے دورے کے بعد متاثرین واپس، کیمپ بند
- 9 hours ago

تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز: پاکستان کا افغانستان کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ
- 12 hours ago