دفتر خارجہ کابھارت کی جانب سے جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کی مسلسل خریداری پراظہار تشویش
افغانستان کے ساتھ مزید بہتر تعلقات بنانا چاہ رہے ہیں، پاک افغان تعلقات میں بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے،ترجمان


اسلام آباد: دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کی مسلسل خریداری پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نےکہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ہمیشہ سے دوستانہ تعلقات کا خواہشمند رہا ہے لیکن ہم بار بار بھارت کی تیز رفتار جنگی تیاریوں کی جانب اشارہ کر چکے ہیں، پاکستان کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
پریس بریفنگ میں ترجمان نے بھارت کی جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کی مسلسل خریداری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اور دنیا کو بھارت کی اسلحہ اندوزی پر سخت تشویش ہے۔
علاوہ ازیں ترجمان نے بتایا کہ پاک بھارت قیدیوں کی فہرستیں یکم جولائی کو ایکسچینج کی گئی ہیں، 2008ء کے کونسلر ایکسس ایگریمنٹ کے تحت فہرستیں شیئر کی گئیں۔ پاکستان نے 246 قیدیوں کی لسٹ ہندوستان ہائی کمیشن کے حوالے کردی۔
پریس بریفنگ میں ترجمان نے واضح کیا کہ ایس سی او وزرائے دفاع کانفرنس کے دوران بھارتی مشیر قومی سلامتی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
ہفتہ وار بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ای سی او کا 17 واں اجلاس آذربائیجان میں ہوا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی وفد کی قیادت کی اور پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف سائیڈ لائنز پر دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان 22 جولائی کو کثیر الجہتی تعاون سے متعلق اعلی سطحی اجلاس کی میزبانی کرے گا، 23 جولائی کو فلسطین کے مسئلے پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان تبت سمیت چین کی خود مختاری کی حمایت کرتا ہے، اور پاکستان کشمیری راہنما شبیر احمد شاہ کی دہلی جیل سے فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
ترجمان کی جانب مزید کہا گیا کہ ہم نے روس کی جانب سے کابل میں حکومت کو تسلیم کیے جانے کی خبر دیکھی ہے ، روس اس خطے کا اہم ملک ہے اور ہم تبدیلیوں کو نوٹ کررہے ہیں، یہ افغانستان اور روس کے درمیان باہمی معاملہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ترک وزیر خارجہ آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے، اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد شیئر کی جائیں گی۔
ترجمان شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ مزید بہتر تعلقات بنانا چاہ رہے ہیں، پاک افغان تعلقات میں بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے،ہندوستان اسی دہشتگردی میں ملوث ہے،افغانستان کے ساتھ یہ باتیں شیئر کی ہیں،افغانستان کے اندر دہشت موجود ہیں۔

نئے صوبوں کا قیام اور گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں، ابراہیم حسن مراد
- ایک دن قبل

لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک
- 15 گھنٹے قبل

لاہور:موٹر سائیکل سوار شہری کا اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد، ملزم گرفتار
- 2 دن قبل

پیٹرول پمپ ملازم تشدد کیس:عدالت کا ملزم کی رہائی کا حکم
- 19 گھنٹے قبل

لاہور میں بسنت کی تاریخوں کا اعلان
- 2 دن قبل

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
- 2 دن قبل

بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر
- 2 دن قبل

پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل
- 15 گھنٹے قبل

آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور
- 21 گھنٹے قبل

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا
- 21 گھنٹے قبل

نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی
- ایک دن قبل

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فلسطینیوں کے حملہ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی
- 2 دن قبل







