Advertisement
پاکستان

جنوبی ایشیا میں ایٹمی کشیدگی میں اضافہ، بھارت کی جارحانہ حکمتِ عملی عالمی خطرہ بن گئی

پاکستان نے 10 مئی کو "آپریشن بنیان المرصوص" کے تحت بھارتی فوجی اڈوں پر جوابی حملہ کیا

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 9th 2025, 11:23 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
جنوبی ایشیا میں ایٹمی کشیدگی میں اضافہ، بھارت کی جارحانہ حکمتِ عملی عالمی خطرہ بن گئی

پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، لیکن دونوں کا ایٹمی ہتھیاروں کا نظم و نسق بالکل مختلف ہے۔ پاکستان "کم سے کم قابلِ اعتبار دفاع" کی پالیسی پر عمل کرتا ہے اور غیر ضروری کشیدگی سے بچتا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت ایک جارحانہ اور غیر متوقع رویہ اپنائے ہوئے ہے، جس میں جوہری صلاحیت میں اضافہ، اشتعال انگیز بیانات اور جنگی جنون شامل ہیں۔

پاکستان کا جوہری پروگرام خواہشات کے بجائے خوف پر مبنی تھا۔ 1974 میں بھارت نے پہلا ایٹمی تجربہ کیا، جسے امن کے نام پر پیش کیا گیا، مگر جلد ہی واضح ہو گیا کہ بھارت نے پرامن مقاصد کے لیے حاصل کی گئی سول جوہری ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس عمل نے کئی ممالک کا اعتماد توڑ دیا اور پاکستان کو اپنا دفاعی پروگرام شروع کرنے پر مجبور کیا۔ تب سے پاکستان نے ایک دفاعی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، جو صرف بھارت پر مرکوز ہے۔ اس کے ہتھیار چھوٹے اور دفاعی نوعیت کے ہیں، میزائل کی رینج صرف بھارتی علاقے کو کور کرنے کے لیے ہے، اور اس نے اپنے سول جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی ادارے IAEA کے تحت رکھ دیا ہے۔ کرسٹینسن اور کورڈا (2021) کے مطابق پاکستان نے جوہری کمانڈ اور کنٹرول کا نظام عالمی بہترین معیارات کے مطابق قائم کیا ہے۔

دوسری طرف بھارت نے ایک مختلف راستہ اپنایا ہے۔ اگرچہ اس کی سرکاری پالیسی "پہل نہ کرنے" (NFU) کی ہے، لیکن بھارتی رہنماؤں کے بیانات اور حالیہ اقدامات سے اس پالیسی میں تبدیلی کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔ بھارت نے بین البراعظمی میزائل جیسے اگنی-5 اور اگنی-6 تیار کیے ہیں، جن کی رینج بالترتیب 8000 اور 12000 کلومیٹر ہے، جو اس کے علاقائی دفاع سے بڑھ کر عالمی طاقت کے اظہار کی کوشش ہے۔ بھارت کی کئی ایٹمی تنصیبات IAEA کی نگرانی سے باہر ہیں، جس سے سول مواد کے فوجی استعمال کے خدشات بڑھتے ہیں۔ SIPRI (2023) کے مطابق بھارت بغیر کسی بین الاقوامی نگرانی کے پلوٹونیم کا ذخیرہ بڑھا رہا ہے۔

2025 میں پاک-بھارت بحران کے دوران بھارت کی جوہری حکمت عملی کے خطرات نمایاں ہو گئے۔ 22 اپریل کو پاہلگام حملے کے بعد بھارت نے 7 سے 10 مئی تک "آپریشن سندور" لانچ کیا، جو دہائیوں کی سب سے بڑی فوجی کارروائی تھی، جس میں کئی پاکستانی اور آزاد جموں کشمیر کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارت نے براہموس، SCALP میزائلز اور نیوکلئر کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز استعمال کیے۔ اس سے جوہری تصادم کا خطرہ بہت بڑھ گیا۔ تجزیہ کاروں نے اسے "خطرناک کھیل" قرار دیا۔ پاکستان کو یہ طے کرنے کے لیے بہت کم وقت ملا کہ آیا براہموس میزائل نیوکلیئر تھا یا نہیں، غلطی کا اندیشہ حقیقی تھا۔

پاکستان نے 10 مئی کو "آپریشن بنیان المرصوص" کے تحت بھارتی فوجی اڈوں پر جوابی حملہ کیا۔ یہ حملہ بھارت کو پیغام دینے کے لیے تھا، مگر بھارت کے اقدامات نے کشیدگی کو اس حد تک پہنچا دیا جہاں ایٹمی جنگ کا امکان بڑھ گیا تھا۔ دوہرے استعمال والے میزائل، جو جوہری اور روایتی دونوں ہتھیار لے جا سکتے ہیں، بحران کے دوران استعمال کیے گئے، جس سے مزید الجھن اور خطرہ پیدا ہوا۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب بھارت نے لاپرواہی سے ایٹمی ہتھیار سنبھالے۔ مارچ 2022 میں بھارت نے غلطی سے ایک براہموس میزائل پاکستان میں داغ دیا، جس پر صرف تکنیکی خرابی کا بہانہ بنایا گیا۔ 2021 میں بھارتی پولیس نے چوری شدہ یورینیم بیچنے کی کوشش کرنے والوں کو گرفتار کیا، جس سے بھارت کی جوہری سیکیورٹی پر سوال اٹھے۔

بھارتی سیاستدانوں کا اشتعال انگیز رویہ بھی خطرناک ہے۔ 2019 میں مودی نے "ماں بم" کی دھمکی دی، اور 2025 میں کہا کہ "جوہری دھمکیاں بھارت کو نہیں روک سکتیں"۔ ایسے بیانات جوہری ہتھیاروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی علامت ہیں، جو کہ کسی بھی جوہری ملک کے لیے خطرناک طرزِ عمل ہے۔

اس کے برعکس، پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ "آپریشن سندور" کے دوران اور بعد میں، پاکستان نے ایٹمی دھمکی دینے سے گریز کیا، صرف روایتی دفاع اور سفارتی ذرائع استعمال کیے۔ اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام محفوظ رہا، اور عالمی برادری کو مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا۔

 

Advertisement
ملک میں سونے کی قیمتوں پھر بڑا اضافہ ریکارڈ

ملک میں سونے کی قیمتوں پھر بڑا اضافہ ریکارڈ

  • 3 دن قبل
ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کا معمہ حل، والد اوربھائی نےقتل کیا

ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کا معمہ حل، والد اوربھائی نےقتل کیا

  • 2 دن قبل
پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان

پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان

  • 3 دن قبل
عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردی

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردی

  • 11 گھنٹے قبل
پنجاب کے مختلف شہروں میں تھیٹرز کے خلاف بڑا ایکشن، 8 اداکاراؤں پر پابندی

پنجاب کے مختلف شہروں میں تھیٹرز کے خلاف بڑا ایکشن، 8 اداکاراؤں پر پابندی

  • 10 گھنٹے قبل
شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نیا انکشاف

شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نیا انکشاف

  • 15 گھنٹے قبل
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات

  • 15 گھنٹے قبل
بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈی جے کراچی میں سروں سے بھری شام سجانےکو تیار

بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈی جے کراچی میں سروں سے بھری شام سجانےکو تیار

  • 12 گھنٹے قبل
وزیراعظم اور ملائیشین ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر گفتگو

وزیراعظم اور ملائیشین ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر گفتگو

  • 3 دن قبل
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کا مزید اضافہ

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کا مزید اضافہ

  • 15 گھنٹے قبل
عمران خان کی اسپتال منتقلی، پی ٹی آئی نے حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

عمران خان کی اسپتال منتقلی، پی ٹی آئی نے حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

  • 3 دن قبل
پنجاب: اسکولوں کے اوقات کار تبدیل، نیا شیڈول جاری

پنجاب: اسکولوں کے اوقات کار تبدیل، نیا شیڈول جاری

  • 3 دن قبل
Advertisement