اتھارٹی کا مقصد تجارت اور آزاد مقابلے کو فروغ دینا، سرحدی کنٹرول کو مؤثر بنانا اور پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا،بل


اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پاکستان کی سرحدی گذرگاہوں پر تجارتی اور مسافروں کی نقل و حرکت کو منظم اور مؤثر بنانے کے لیے پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل 2025 کو منظور کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں یہ بل وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے پیش کیا گیا، جس پر ایوان کی صدرات کر رہے رکن قومی اسمبلی علی زاہد کی ہدایت پر پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے قانون میں کم از کم 12 دفعات میں ترامیم پڑھیں۔
نوید قمر نے بتایا کہ ان کی جماعت کی قانون ساز کمیٹی نے بل کا تفصیلی جائزہ لیا اور اسے بہتر بنانے کے لیے متعدد ترامیم تجویز کیں۔ طویل مشاورت اور مذاکرات کے بعد ترامیم کو تسلیم کر کے بل کی منظوری پر اتفاق کیا گیا، ایوان میں ان ترامیم پر الگ الگ ووٹنگ ہوئی جنہیں اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لینڈ پورٹ اتھارٹی کے قیام کی کوششیں 2012 سے جاری تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے پہلی بار وزارت تجارت کے تحت یہ اتھارٹی قائم کرنے کی کوشش کی جبکہ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی حکومتوں نے بھی مختلف اوقات میں اس پر غور کیا تاہم کسی حکومت کے دور میں یہ بل پایا تکمیل تک نا پہنچ سکا۔
بالآخر 2024 کے آخر میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے محسن نقوی کی جانب سے یہ بل پیش کیالیکن اسے کمیٹی کو بھجوانے کی کارروائی نہ ہو سکی، اب طویل تاخیر کے بعد 2025 میں اسے ایوان سے منظوری مل گئی ہے۔
لینڈ پورٹ اتھارٹی بل کے تحت ایک خودمختار اور قانونی ادارے کے طور پر پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی، جو زمینی سرحدی گذرگاہوں پر تمام متعلقہ اداروں کے مابین ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔
اتھارٹی کی نگرانی کے لیے 16 رکنی گورننگ کونسل قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اتھارٹی کا مقصد تجارت اور آزاد مقابلے کو فروغ دینا، سرحدی کنٹرول کو مؤثر بنانا اور پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔
سرحدی گذرگاہوں پر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے جدید نگرانی کے نظام، اسکینرز اور امیگریشن سسٹمز نصب
کیے جائیں گے۔
اتھارٹی کے قیام سے نہ صرف یہ مسائل کم ہوں گے بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر مسابقت میں بھی بہتری آئے گی۔اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور منظوری کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے ساتھ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔
خیال رہے کہ اس بل کی منظوری کے ساتھ ہی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے بعد جنوبی ایشیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے جس کے پاس اپنی لینڈ پورٹ اتھارٹی ہو گی۔
بنگلہ دیش میں لینڈ پورٹ اتھارٹی 2002 اورجبکہ بھارت میں مارچ 2012 میں بنائی گئی تھی۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 3 دن قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 2 دن قبل
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- 2 دن قبل

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 3 دن قبل

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 3 دن قبل
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 3 دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 2 دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 2 دن قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 2 دن قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 2 دن قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 19 گھنٹے قبل
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 2 دن قبل
