Advertisement
پاکستان

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں 789 ارب روپے کا ٹیکس خسارہ بے نقاب

موثر مالیاتی حکمرانی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو قومی خزانے کو ہر سال ایسے ہی بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 22nd 2025, 6:52 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں 789 ارب روپے کا ٹیکس خسارہ بے نقاب

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک کے ٹیکس نظام میں سنگین بے ضابطگیاں اور انتظامی کمزوریاں موجود ہیں، جن کے نتیجے میں 789 ارب 92 کروڑ روپے کا مجموعی ٹیکس خسارہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ مالی نقصان انکم ٹیکس کے شعبے میں ہوا، جہاں 480 ارب روپے سے زائد کا خسارہ سامنے آیا۔ اسی طرح سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی، اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بھی اربوں روپے کا نقصان رپورٹ کیا گیا۔

تشویشناک طور پر، ٹیکس وصولی کے ذمہ دار اداروں — ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو — کے فراہم کردہ ڈیٹا میں 57 ارب روپے کا فرق پایا گیا، جو مالیاتی نظام میں شدید عدم ہم آہنگی کی علامت ہے۔

رپورٹ میں ٹیکس نظام کی ناکامی کی وجوہات میں شامل ہیں:

جعلی انوائسز کا استعمال , ناقابل قبول اخراجاتی دعوے , آمدنی چھپانے کے حربے , نفاذ کے عمل میں کمزوریاں , قانونی استثنٰی کا غلط استعمال

آڈیٹر جنرل نے فوری اصلاحات، سخت نگرانی اور موثر مالیاتی حکمرانی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو قومی خزانے کو ہر سال ایسے ہی بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

Advertisement