موثر مالیاتی حکمرانی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو قومی خزانے کو ہر سال ایسے ہی بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں


آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک کے ٹیکس نظام میں سنگین بے ضابطگیاں اور انتظامی کمزوریاں موجود ہیں، جن کے نتیجے میں 789 ارب 92 کروڑ روپے کا مجموعی ٹیکس خسارہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ مالی نقصان انکم ٹیکس کے شعبے میں ہوا، جہاں 480 ارب روپے سے زائد کا خسارہ سامنے آیا۔ اسی طرح سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی، اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بھی اربوں روپے کا نقصان رپورٹ کیا گیا۔
تشویشناک طور پر، ٹیکس وصولی کے ذمہ دار اداروں — ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو — کے فراہم کردہ ڈیٹا میں 57 ارب روپے کا فرق پایا گیا، جو مالیاتی نظام میں شدید عدم ہم آہنگی کی علامت ہے۔
رپورٹ میں ٹیکس نظام کی ناکامی کی وجوہات میں شامل ہیں:
جعلی انوائسز کا استعمال , ناقابل قبول اخراجاتی دعوے , آمدنی چھپانے کے حربے , نفاذ کے عمل میں کمزوریاں , قانونی استثنٰی کا غلط استعمال
آڈیٹر جنرل نے فوری اصلاحات، سخت نگرانی اور موثر مالیاتی حکمرانی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو قومی خزانے کو ہر سال ایسے ہی بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 3 دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 3 دن قبل

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 3 دن قبل

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 4 دن قبل

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 3 دن قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 2 دن قبل
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 3 دن قبل
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- 3 دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 3 دن قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 3 دن قبل
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 3 دن قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 3 دن قبل
