Advertisement
پاکستان

سینئر صحافی خاور حسین کی موت سے متعلق سندھ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل، خودکشی قرار

رپورٹ کے مطابق خاور حسین کو سر میں انتہائی قریب سے گولی ماری گئی (جسے "کانٹیکٹ شاٹ" کہا جاتا ہے) جو کہ خودکشی کے دعوے کی طبی توثیق کرتی ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 22nd 2025, 6:55 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سینئر صحافی خاور حسین کی موت سے متعلق سندھ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل، خودکشی قرار

سندھ پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے سینئر رپورٹر خاور حسین کی موت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے اپنی 8 صفحات پر مشتمل رپورٹ مکمل کر لی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاور حسین نے 16 اگست کی رات 9 بج کر 58 منٹ سے 10 بج کر 35 منٹ کے درمیان خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کیا۔ کمیٹی نے واقعے سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج، پوسٹ مارٹم، اور فرانزک شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کی روشنی میں کسی تیسرے فرد کی مداخلت، قتل یا حادثاتی فائرنگ کے امکانات کو خارج کر دیا گیا۔

کراچی سے سانگھڑ تک سفر کی مکمل نگرانی

رپورٹ میں کہا گیا کہ کراچی سے سانگھڑ تک خاور حسین کی نقل و حرکت کو مختلف مقامات پر دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ٹریک کیا گیا۔ ان کی گاڑی ہوٹل کے باہر تقریباً دو گھنٹے کھڑی رہی، اس دوران کوئی شخص ان کے قریب نہیں آیا، نہ ہی گاڑی میں داخل ہوا۔

میڈیکل رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے نتائج

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق خاور حسین کو سر میں انتہائی قریب سے گولی ماری گئی (جسے "کانٹیکٹ شاٹ" کہا جاتا ہے) جو کہ خودکشی کے دعوے کی طبی توثیق کرتی ہے۔ فرانزک ماہرین کے مطابق گولی نے دماغ اور کھوپڑی کو شدید نقصان پہنچایا، جو فوری موت کی وجہ بنا۔

خاور حسین کی دوبارہ پوسٹ مارٹم رپورٹ پر مشتمل ٹیم میں پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم خان (چیئرمین)، ڈاکٹر وحید علی، اور ڈاکٹر عدیل راجپوت شامل تھے، جنہوں نے رپورٹ پر دستخط کیے۔

Advertisement